شمالی کوریا کا ’نئی قسم کے ہتھیار‘ کا تجربہ، کم جونگ اُن نے خود نگرانی کی
شمالی کوریا کا ’نئی قسم کے ہتھیار‘ کا تجربہ، کم جونگ اُن نے خود نگرانی کی
منگل 22 ستمبر 2026 8:53
کم جونگ اُن نے نئے تجربے کو عسکری ٹیکنالوجی کی ترقی کا ثبوت قرار دیا (فوٹو: روئٹرز)
شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے ’ایک نئی قسم کے ہتھیار‘ کا تجربے کا جائزہ لیا اور اس کو ملک کی ترقی کرتی عسکری ٹیکنالوجی کا ثبوت قرار دیا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے کی رپورٹ میں منگل کو شمالی کوریا کے مقامی میڈیا پر جاری ہونے والی اطلاعات کا حوالہ دیا گیا ہے۔
شمالی کوریا کی جانب سے یہ اعلان جنوبی کوریا اور جاپان کے اس بیان کے دو روز بعد سامنے آیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ اس نے مشرقی ساحل کے قریب مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلیسٹک میزائل داغے۔ دونوں ممالک نے ان تجربات کو علاقائی امن و سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
شمالی کوریا نے خود کو قانونی طور پر جوہری ہتھیار رکھنے والی ریاست قرار دے رکھا ہے اور اس کی قیادت بارہا کہہ چکی ہے کہ ملک میں جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ مستقل اور ناقابل واپسی ہے۔
کورین سینٹرل نیوز ایجنسی کے مطابق ملک کے میزائل بیورو نے اتوار کو ایک نئی قسم کے ہتھیار کا کامیاب تجربہ کیا اور اس موقع پر کم جونگ اُن بھی موجود تھے۔
پیانگ یانگ کی جانب سے یہ نہیں بتایا گیا کہ نیا ہتھیار کس نوعیت کا ہے تاہم اتنا بتایا گیا ہے کہ کم جونگ اُن نے اس تجربے کو ’جدید ترین دفاعی ٹیکنالوجی کا واضح مظاہرہ‘ قرار دیا۔
کے سی این اے کے مطابق شمالی کوریا کے رہنما نے خبردار کیا کہ ’اس فوجی پیشرفت سے مخالفین کو ناقابل علاج اور انتہائی سخت دھچکا لگے گا۔‘
اتوار کو ہونے والا یہ نیا اس اقدام کے آٹھ روز بعد کیا گیا ہے جس میں مشرقی سمندر کی طرف آٹھ بیلسٹک میزائل داغے گئے تھے۔
بعدازاں شمالی کوریا نے ان میزائل تجربات کو جوائنٹ فائر پاور مشق کا حصہ قرار دیا تھا۔
کِم جونگ اُن کی طاقتور بہن کِم یو جونگ بھی ملک کی جوہری حیثیت پر انتہائی سخت موقف رکھتی ہیں (فوٹو: اے پی)
سرکاری میڈیا کے مطابق اس مشق میں دور تک مار کرنے والی توپ خانے اور میزائلوں کا استعمال کیا گیا اور ہتھیاروں نے سو فیصد درستی کے ساتھ اپنے اہداف کو نشانہ بنایا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کم جونگ اُن نے نئے تجربے کو ملک کی فوجی تیاریوں سے جوڑا اور کہا کہ ایسی ٹیکنالوجی حاصل کرنا جنگی تیاری اور مستقبل میں فوجی لحاظ سے بہت اہم ہے۔
دوسری جانب پڑوسی ملک جنوبی کوریا نے میزائل تجربات کی مذمت کرتے ہوئے انہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور پیانگ یانگ سے ایسی سرگرمیاں روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اسی طرح جاپان نے بھی شمالی کوریا کے خلاف سخت احتجاج ریکارڈ کرایا ہے اور میزائل تجربات کو خطے کے امن اور سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
شمالی کوریا کے تجربات پر جنوبی کوریا اور جاپان تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
پچھلے ہفتے شمالی کوریا نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی جانب سے جوہری سرگرمیاں روکنے کے مطالبے پر مبنی قرارداد مسترد کر دی تھی۔
پیانگ یانگ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اس کے قوانین کے تحت جوہری ہتھیار رکھنے والی ریاست کی حیثیت مستقل اور ناقابل واپسی ہے۔
شمالی کوریا کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ آئی اے ای اے کی قرارداد سے شمالی کوریا کی جوہری ریاست کی حیثیت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
کم جونگ اُن کی بااثر بہن کم یو جونگ نے پچھلے دنوں ان لوگوں کو ’احمق‘ قرار دیا تھا جو شمالی کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کی امید رکھتے ہیں۔