کافی جیسا ذائقہ: سعودی عرب میں کھجور کی گٹھلی سے مشروب کی تیاری
مملکت میں کھجور کا گودا اور اس کے درخت کے پتوں کے بعد کھجور کی گٹھلیاں بھی مصنوعات کی تیاری کے لیے استعمال میں لائی جا رہی ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق گٹھلی جسے مقامی طور پر ’العبس‘ کہا جاتا ہے سے کافی جیسے ذائقے کا مشروب تیار کیا جاتا ہے۔
کھجور کی گٹھلی سے تیل، پاؤڈر اور بالوں کی نگہداشت کے حوالے سے مختلف مصنوعات بھی تیار کی جا رہی ہیں۔
کھجور کی گٹھلی کا یہ نیا استعمال کھجور کے درخت کی معاشی افادیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ گٹھلی کو صاف کرنے کے بعد اسے خشک کیا جاتا ہے۔ بھوننے اور پیسنے کے مختلف مراحل سے گزارنے کے بعد مشروب تیار کیا جاتا ہے جسے الائچی، زعفران یا لونگ کے ساتھ مزید ذائقے دار بنایا جا سکتا ہے۔
کھجور کی گٹھلی سے کافی جیسے ذائقے کے مشروب کی تیاری مقامی روایات اور جدید طریقے کا ایک بہترین امتزاج ہے۔
ماہر نباتات صالح الرشید نے بتایا کھجور کی گٹھلی ’العبس‘ عہد رفتہ میں خاص طور پر طویل سفر کے دوران اونٹوں کی خوراک کے طورپر استعمال ہوتی تھی تاہم وقت کے ساتھ اس سے استفادے کے طریقوں میں وسعت آتی گئی۔ اب اس سے کافی، تیل اور مختلف مقاصد کے لیے استعمال ہونے والا پاوڈر بھی تیار کیا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کھجور کی گٹھلی سے تیار ہونے والی کافی کا ذائقہ عام کافی سے بہت قریب ہوتا ہے تاہم اس میں کیفین نہیں ہوتی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کھجور کی گٹھلی کا تیل اور ایسا پاؤڈر بھی تیار کیا جاتا ہے جو قدرتی تیلوں میں شامل کیا جاتا ہے۔ یہ تیل بالوں کی نگہداشت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ کھجور کے درخت کے ہر حصے سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
