Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جب تک کپتانی ہے، توجہ پاکستان کو جتوانے پر مرکوز رہے گی: صاحبزادہ فرحان

پاکستان ٹی20 ٹیم کے نئے کپتان صاحبزادہ فرحان نے کہا ہے کہ وہ پہلی بار بطور کپتان پاکستان کی نمائندگی کریں گے اور شائقینِ کرکٹ کو ان کی کپتانی دیکھ کر مزہ آئے گا۔
جمعرات کو پنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان تین میچز پر مشتمل ٹی 20 سیریز کے آغاز سے قبل پریس کانفرنس کرتے ہوئے صاحبزادہ فرحان نے کہا کہ ’کپتانی کا پریشر ضرور ہوتا ہے، تاہم میرے لیے یہ زیادہ مسئلہ نہیں کیونکہ میں ڈومیسٹک کرکٹ میں کپتانی کر چکا ہوں۔
صاحبزادہ فرحان کا کہنا تھا کہ ’ساتھی کھلاڑیوں کو مثبت پیغام دینے کے لیے کپتان کو اپنی انفرادی کارکردگی بھی بہتر رکھنی پڑتی ہے۔ پاکستان کے ٹی20 سکواڈ میں جونیئر اور سینئر کھلاڑیوں کا اچھا کمبینیشن ہے، سینئر کھلاڑیوں کی موجودگی سے بطور کپتان مجھے مدد ملے گی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’انٹرنیشنل کرکٹ میں چھوٹی اور بڑی ٹیمیں نہیں ہوتیں، ہر ٹیم پر پریشر ہوتا ہے اور بین الاقوامی کرکٹ آسان نہیں۔ سری لنکا کے خلاف سیریز سے قومی کھلاڑیوں کو ون ڈے سیریز کے لیے بھی اچھی پریکٹس ملے گی۔‘
صاحبزادہ فرحان نے کہا کہ ’میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ پاکستان کی کپتانی کروں گا، تاہم میرے والد نے دعا دی تھی کہ ایک دن میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بنوں گا۔ والدین کی دعائیں رنگ لاتی ہیں۔‘ انہوں نے سرفراز احمد کی کپتانی کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ انہیں سابق کپتان کی قیادت بہت پسند ہے۔
انہوں نے کہا کہ سلیکشن کمیٹی کا کام سکواڈ تشکیل دینا ہے، انہیں سکواڈ کے بارے میں زیادہ علم نہیں تھا لیکن 15 ارکان پر مشتمل بہترین سکواڈ دیا گیا ہے۔ پاکستان میں بیٹنگ کے لیے سازگار کنڈیشنز ملیں گی اور ٹیم دو سپنرز اور تین فاسٹ باؤلرز کے ساتھ کھیلنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
کپتان نے کہا کہ ’کرکٹ کیریئر کے دوران کانٹوں پر چلنا مجھے آتا ہے اور میں یہ نہیں سوچ رہا کہ مستقبل میں مجھے کپتانی ملے گی یا نہیں۔ جب تک کپتانی دی گئی ہے، میں پاکستان کو میچز جتوانا چاہتا ہوں۔‘
راولپنڈی کے کراؤڈ کے حوالے سے صاحبزادہ فرحان نے کہا کہ یہاں ہمیشہ شائقین آتے ہیں، کراؤڈ نہ آئے تو کھلاڑیوں کو بھی مزہ نہیں آتا۔ بابر اعظم اور محمد رضوان کو دنیا کے بہترین کھلاڑی قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں کسی بھی وقت ٹی 20 میں واپس آ سکتے ہیں۔

کوشال مینڈس کی پریس کانفرنس

سری لنکا کی ٹی20 ٹیم کے کپتان کوشال مینڈس نے کہا ہے کہ ’سری لنکا کا ٹی 20 سکواڈ نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے، جنہوں نے ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، مجھے بطور کپتان اپنے کھلاڑیوں پر مکمل اعتماد ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’گیری کرسٹن ایک مختلف طرز کے کوچ ہیں اور کھلاڑیوں کی مینجمنٹ کرنا جانتے ہیں۔ گیری کرسٹن سری لنکن کرکٹ کلچر سے واقف ہیں اور ورلڈ کپ سمیت ٹی 20 ورلڈ کپ کی تیاری کروا رہے ہیں۔‘
کوشال مینڈس نے کہا کہ ’راولپنڈی کی پچ بیٹنگ کے لیے سازگار لگ رہی ہے، ابتدائی طور پر تین فاسٹ باؤلرز کے ساتھ میدان میں اترنے کا پلان ہے۔ سری لنکا کا بولنگ سکواڈ مضبوط اور تجربہ کار ہے۔‘
پاکستانی فاسٹ بولرز کے حوالے سے سری لنکن کپتان نے کہا کہ ’پاکستان کے فاسٹ بولرز باصلاحیت ہیں اور ان کا سامنا کرنا چیلنجنگ ہوتا ہے۔‘
بابر اعظم سے متعلق سوال پر کوشال مینڈس نے کہا کہ ’بابر اعظم بہترین کھلاڑی ہیں، ان کے ساتھ پی ایس ایل بھی کھیلا ہے۔ ٹیم میں منتخب نہ ہونے پر بابر اعظم مایوس ہوسکتے ہیں، وہ ہر فارمیٹ کے بہترین کھلاڑیوں میں شامل ہیں۔‘

شیئر: