جنوبی افریقی قانون دان ناونیتھنم ناوی پلائے نے نوبیل امن انعام 2026 اپنے نام کر لیا
جنوبی افریقی قانون دان ناونیتھنم ناوی پلائے نے نوبیل امن انعام 2026 اپنے نام کر لیا
جمعہ 9 اکتوبر 2026 12:11
رواں برس اس سال نوبیل انعام کی 125 ویں سالگرہ بھی منائی جا رہی ہے (فوٹو: پی بی ایس)
دنیا کے معتبر ترین اعزازات میں شمار ہونے والے نوبیل امن انعام کا اعلان کر دیا گیا ہے جو کہ ناونیتھنم ناوی پلائے کے حصے میں آیا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق یہ اعلان جمعے کو ناروے کے شہر اوسلو میں ہونے والی تقریب کے دوران کیا گیا۔
نوبیل کمیٹی کے چیئرمین یارگن واٹنے فرائیڈنس کے مطابق انہیں امن کے فروغ اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کے لیے کی جانے والی کاوشوں پر اس اعزاز سے نوازا گیا ہے
نوبیل کمیٹی کو اس سال پیس پرائز کے لیے 287 نام موصول ہوئے تھے جبکہ پچھلے سال وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو نے ملک میں جمہوری تبدیلی کے لیے جدوجہد پر نوبیل امن انعام جیتا تھا۔
انہیں ایسے وقت میں جمہوریت کی شمع روشن رکھنے پر سراہا گیا جب ملک میں جمہوری اقدار کو مشکلات کا سامنا تھا۔
امریکا کی جانب سے وینزویلا کے اس وقت کے صدر نکولس مادورو کو اقتدار سے ہٹائے جانے کے کچھ عرصے بعد ماچاڈو نے اپنا نوبیل تمغہ ڈونلڈ ٹرمپ کو دے دیا تھا۔ تاہم یہ ایک قسم کا علامتی اقدام تھا، کیونکہ نوبیل کمیٹی کے مطابق یہ اعزاز کسی دوسرے شخص کو منتقل نہیں کیا جا سکتا۔
امن انعام کے لیے نامزدگی کون کر سکتا ہے؟
امن انعام کے لیے نامزدگیاں مخصوص افراد اور ادارے کر سکتے ہیں، جن میں سربراہانِ مملکت، قومی سطح کے سیاست دان، یونیورسٹیوں کے پروفیسرز، خارجہ پالیسی کے اداروں کے سربراہان، سابق نوبیل انعام یافتگان اور ناروے کی نوبیل کمیٹی کے ارکان شامل ہیں۔
2025 کے نوبیل پرائز کے فاتحین (فوٹو: بریٹینکا ڈاٹ کام)
رواں ہفتے نوبیل انعامات میں سے چار کا اعلان کیا گیا۔ طب کا نوبیل انعام تین سائنس دانوں کو دیا گیا، جن کی تحقیق سے روشنی کی مدد سے دماغ کے کام کرنے کے طریقے کو سمجھنے کا ایک نیا ذریعہ سامنے آیا۔
طبیعیات کا انعام ایک سائنس دان کو نیوٹرینو کے ایک نایاب جزو کے راز سمجھنے کی کوششوں پر دیا گیا، جبکہ کیمیا کا نوبیل انعام دو سائنس دانوں کو مالیکیولز میں موجود پراسرار آئینے جیسی ساختوں کو سمجھنے پر ملا۔ ان کی دریافت سے متعدد ادویات کی تیاری میں مدد ملی ہے۔
کینیڈا کی شاعرہ، مضمون نگار اور مترجم این کارسن نے جمعرات کو ادب کا نوبیل انعام حاصل کیا تھا۔ انہیں ایسی منفرد اور تخلیقی تحریروں پر انعام دیا گیا جو قدیم اور جدید ادب کو ایک ساتھ ملاتی ہیں اور شاعری و نثر کے درمیان فرق کو کم کر دیتی ہیں۔
اس سال نوبیل انعام کے ساتھ کتنی رقم ہے؟
اس سال نوبیل انعام کی رقم 12 ملین سویڈش کرونا ہے جو کہ قریباً 12 لاکھ امریکی ڈالر بنتے ہیں، یہ رقم کسی ایک فرد، چند انعام یافتگان یا کسی تنظیم کو دی جا سکتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی کئی تک نوبیل پیس پرائز ملنے کے خواہش مند رہے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
نوبیل پیس پرائز کی 125ویں سالگرہ
اس سال نوبیل امن انعام کی 125 ویں سالگرہ بھی منائی جا رہی ہے۔ 1901 میں اس انعام کے آغاز سے اب تک 112 افراد اور 28 ادارے یہ اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔ ریڈ کراس تین مرتبہ جبکہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کو دو مرتبہ یہ انعام دیا جا چکا ہے۔
112 انفرادی انعام یافتگان میں صرف 20 خواتین شامل ہیں، تاہم گزشتہ 15 برسوں میں ان میں سے آٹھ خواتین یہ اعزاز حاصل کر چکی ہیں۔
تعلیم کے لیے کام کرنے والی پاکستانی کارکن ملالہ یوسفزئی اس انعام کی کم عمر ترین فاتح ہیں۔ انہوں نے 2014 میں 17 سال کی عمر میں نوبیل امن انعام حاصل کیا تھا۔
نوبیل پیس پرائز دیے جانے کا آغاز 1901 میں ہوا تھا (فوٹو: فیمس سائٹ)
یہ انعام حاصل کرنے والوں کی تعداد کے حساب سے سرفہرست ہے، جہاں کے افراد یا اداروں کو مجموعی طور پر 24 مرتبہ یہ اعزاز دیا گیا۔ برطانیہ 13 اور سوئٹزرلینڈ 11 انعامات کے ساتھ بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔ تاہم امریکی صدر براک اوباما کو 2009 میں انعام ملنے کے بعد کسی امریکی فرد کو یہ اعزاز نہیں دیا گیا۔
اسی طرح موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی امن پرائز کے لیے خاصی بے چینی کا اظہار کرتے رہے ہیں اور اس کے لیے ’آٹھ جنگیں اور لاکھوں جانیں‘ بچانے کا دعویٰ کرتے رہے ہیں تاہم کمیٹی کی جانب سے ان کو ابھی تک انعام سے نہیں نواز گیا ہے۔
اب تک 19 بار ایسے مواقع بھی آئے ہیں جب یہ انعام کسی نہیں دیا گیا جن میں زیادہ تر مواقع عالمی جنگوں کے دوران آئے۔ 1948 میں انڈیا کے رہنما مہاتما گاندھی کو قتل کیا گیا، اس سال بھی کوئی انعام نہیں دیا گیا۔ گاندھی کو 12 مرتبہ اس انعام کے لیے نامزد کیا گیا تھا لیکن وہ اسے حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے تھے۔
1939 میں سویڈن کے ایک رکن پارلیمنٹ ایریک برینڈٹ نے ایڈولف ہٹلر کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیا تھا، تاہم بعد میں اس نامزدگی واپس ’غیرسنجیدہ‘ قرار دیتے ہوئے واپس کر دیا گیا تھا۔