Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

نوبیل یا ڈائنامائٹ، الفریڈ کی کس ’ایجاد‘ نے دنیا کو زیادہ متاثر کیا؟

2025 کے فاتحین کے ناموں کا اعلان ہو چکا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
نوبیل پرائز کی بنیاد رکھنے والے کے لیے وہ لمحہ بڑا حیران کُن تھا جب ہاتھ میں پکڑے اخبار میں ان کے انتقال کی خبر ان الفاظ میں چھپی تھی کہ ’موت کا سوداگر چل بسا‘، جبکہ وہ تو زندہ تھے۔
یہ کیسے ہوا اور اس کے بعد کیا ہوا، سے پہلے یہ جانتے ہیں کہ الفریڈ نوبیل کون تھے اور پرائز کا سلسلہ شروع ہونے کا محرک کیا تھا، یہ پرائز کن کو ملتا ہے اور 2025 میں اس کا حقدار کس کس کو قرار دیا گیا ہے۔
مشہور ویب سائٹ بریٹینکا ڈاٹ کام سمیت کئی اداروں کی رپورٹس میں اس بارے میں تفصیلی مضامین موجود ہیں۔

الفریڈ نوبیل کون تھے؟

21 اکتوبر 1833 کو ایک انجینیئر کے ہاں سویڈن میں پیدا ہونے والے الفریڈ نوبیل کے والد پہاڑوں کو توڑ کر پل بنانے کا کام کیا کرتے تھے، جنہوں نے بعدازاں روس میں گن پاؤڈر کا کارخانہ لگایا، سائنس میں غیرمعمولی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے والد نے ان کو 1950 میں امریکہ بھیجا جو وہاں تعلیم مکمل کر کے فرانس چلے گئے جہاں انہوں نے نائٹرو گلسرین جیسے طاقتور اور غیرمحفوظ کیمیکل کے محفوظ استعمال پر کام شروع کیا اور اسے ڈائنامائٹ کی شکل دی، یعنی دھماکہ خیز مواد یا بارود۔
اسے مشہور ہونے میں کوئی وقت نہیں لگا اور انہوں نے اس کے کارخانے لگا کر بہت دولت کمائی۔
  تاہم اس سے قبل ایک تجربے کے دوران دھماکے کے باعث ان کے بھائی کی موت واقع ہو گئی، جس کو غلطی سے انہی کے انتقال پر محمول کیا گیا اور اخبار میں وہی خبر چھپی جس کا تذکرہ ابتدائی سطور میں کیا گیا ہے۔

’چٹانوں کو توڑنے کے لیے بنایا تھا‘

الفریڈ مارشل کے بارے میں دستیاب رپورٹس کے مطابق انہوں ڈائنامائیٹ تعمیراتی کاموں کی آسانی کے لیے بنایا تھا تاہم اس وقت جنگی حالات کی وجہ سے اس مواد کو جنگی ہتھیار اور تخریبی کارروائیوں کے طور پر خریدنے کا سلسلہ بھی شروع ہوا اور استعمال بھی ہوا۔
ڈائنامائٹ کے بارے میں دفاعی استعمال کے حوالے سے ان کا خیال تھا کہ اس کی بے پناہ طاقت کو ڈیٹرنس کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے جو امن کی طرف جانے کی ہی ایک شکل ہے۔

سویڈن سے تعلق رکھنے والے الفریڈ نوبیل نے دولت کا 94 فیصد حصہ نوبیل پرائز کے لیے وقف کیا (فوٹو: فیمس سائنٹیسٹس)

 نوبیل پرائز کیسے وجود میں آیا؟

کہا جاتا ہے کہ اپنے لیے ’موت کا سوداگر‘ جیسے الفاظ پڑھ کر وہ کافی دلبرداشتہ ہوئے اور سوچنا شروع کیا کہ بھلے ہی ان کی ایجاد کو مس یوز کیا گیا مگر اب اس کے جواب میں ایسا کیا کیا جائے کہ کسی حد تک مداوا ہو سکے۔ اس کے لیے ان کے ذہن میں
’سائنس کو انسانی بھلائی کے لیے استعمال اور امن کے لیے کام کرنے والوں‘ کے لیے انعام جاری کرنے کا خیال آیا تاہم یہ ان کے اردگرد موجود لوگوں کے علاوہ زیادہ لوگوں کو معلوم نہ تھا۔

وصیت میں کیا تھا؟

وفات سے ایک سال قبل 1895 میں انہوں نے پیرس میں ایک تقریب کے دوران اپنی وصیت کا اعلان کیا اور اپنی دولت کا 94 فیصد حصہ قابل قدر خدمات انجام دینے کے لیے وقف کا اعلان کیا، جس سے ان کو پرائز دیے جائیں گے۔
اس کے لیے انہوں نے فزکس، کیمسٹری، فزکس، فزیولوجی، ادب، میڈیسن اور عالمی امن کے شعبے مختص کیے۔
وفات کے بعد وصیت پر عملدرآمد شروع ہوا، کمیٹی بنائی گئی اور ناموں کا چناؤ ہونے کے بعد پہلی بار 1901 میں انعامات کا اجرا ہوا، جو اب تک جاری ہے۔نامزدگی کا طریقہ کار کیا ہے؟
کوئی بھی اپنی طرف سے اپنا نام نہیں دے سکتا بلکہ تعلیمی ماہرین، اساتذہ، سانسدان، پچھلے فاتحین اور دوسرے لوگوں کی جانب سے نام جاری  کیے جاتے ہیں۔
فیصلہ کرنے والی کمیٹی میں شامل ارکان ان ناموں اور خدمات کا جائزہ لیتے ہیں اور لمبی چوڑی جانچ پڑتال کے بعد نام فائنل ہوتا ہے۔

نوبیل پرائز کی بنیاد رکھنے والے الفریڈ نوبیل نے ڈائنامائٹ بھی ایجاد کیا تھا (فوٹو:

انعام جیتنے والوں کے لیے ونر سے زیادی لوری ایٹ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے جو پھولوں کی ایک چادر کے نام سے منسوب ہے جو قدیم یونان میں فاتحین کو دی جاتی تھی۔
ایس او پیز کے مطابق ایک انعام ایک سے زائد افراد کو دیا جا سکتا ہے تاہم تین سے زیادہ نہیں۔
اگر کوئی مستحق نہیں ٹھہرتا تو اس سال انعام کسی کو نہیں دیا جاتا بلکہ اگلے سال کے لیے رکھ لیا جاتا ہے۔
ہر سال ناموں کا اعلان اکتوبر میں کیا جاتا ہے اور دسمبر میں سٹاک ہوم میں انعام دیے جاتے ہیں سوائے پیس پرائز کے، جو  ناورے کے شہر اوسلو میں دیا جاتا ہے۔
جیتنے والے کو مختلف کیٹگریز کے لیے مختلف ڈیزائنز کے تمغوں کے علاوہ خصوصی ڈپلومہ اور رقم بھی ملتی ہے اگر انعام لینے والے ایک سے زیادہ ہوں تو پھر رقم کو تقسیم کیا جاتا ہے۔

2025 میں پرائز لینے والی شخصیات

ان کے ناموں کا اعلان ہو چکا ہے اور امن پرائز کے لیے وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا ماچاڈو کو دیا گیا ہے۔

2025 کے نوبیل پرائز کے فاتحین (فوٹو: بریٹینکا ڈاٹ کام)

اسی طرح فزیالوجی اور میڈیسن کے انعام فریڈ ریمزڈیل اور میری ای برنکو کے نام رہے جن کا تعلق امریکہ سے ہے۔
ان  کو مدافعتی نظام کی بہتری کے لیے خدمات کے اعتراف کے طور پر انعام دیا گیا۔
فزکس کا انعام جاپان سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر شیمون ساکاگوچی کو دیا گیا ہے۔
 دیگر فاتحین میں جان کلارکے، مائیکل ایچ، ڈیووریٹ، جان ایم مارٹینیس، سانٹا باربرا، عمر ایم یاغی، سوسومو کیٹاگوا اور رچرڈ روبوسن شامل ہیں۔
علاوہ ازیں ادب کا انعام ہنگری سے تعلق رکھنے والے ناول نگار لیزلو کلازناہورکائی کو ملا ہے جبکہ اکنامکس کا ایوارڈ امریکی ماہر معاشیات جوئل موکائر، فرانسیسی ماہر معاشیات فلپ اغین اور کینیڈا کے پیٹر ہاوٹ کو مشترکہ طور پر دیا گیا ہے۔
نوبیل انعام لینے والی پاکستانی شخصیات
پاکستان سے تعلق رکھنے والی دو شخصیات اب تک نوبیل انعام جیت چکی ہیں جن میں ڈاکٹر عبدالسلام کو 1979 میں طبیعات کا انعام دیا گیا جبکہ 2014 میں ملالہ یوسفزئی کو امن کا پرائز ملا۔

پاکستان کی جانب سے ملالہ یوسفزئی پیس پرائز حاصل کر چکی ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

تاہم دو شخصیات ایسی بھی ہیں جن کا تعلق برصغیر کی تقسیم سے قبل ایسے علاقوں سے تھا جو اب پاکستان کا حصہ ہیں۔
ان میں ہر بند کھرانا کو 1968 میں طب کا نوبیل انعام ملا ان کا آبائی طور پر پنجاب کے گاؤں رائے پور سے تھا جبکہ سبرامنین چندر شیکھر کا تعلق لاہور سے تھا اور ان کو 1983 میں فزکس کے نوبیل پرائز سے نوازا گیا تھا۔

انعام کے ساتھ کتنی رقم ملتی ہے؟

1901 سے شروع ہونے والے سلسلے میں انعامی رقم بھی تبدیل ہوتی رہی ہے تاہم یہ کافی بڑی رقم ہوتی ہے، بعض رپورٹس کے مطابق اس سال دیے جانے والے انعامات کے ساتھ 11 ملین سویڈش کرونر دیے گئے ہیں جن کی امریکی ڈالرز میں مالیت 10 لاکھ پاکستان روپے میں 28 کروڑ سے زائد بنتی ہے۔


پاکستان سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر عبدالسلام کو 1979 میں فزکس کا نوبیل پرائز ملا تھا (فائل فوٹو)

نوبیل پرائز اور تنازعات
انتہائی قابل قدر و فخر سمجھے جانے کے باوجود نوبیل پرائز اپنے بانی کی طرح تنازعات سے نہ بچ سکا ہے، اس کے بارے میں اعتراض اٹھائے جاتے رہے ہیں کہ صرف منظور نظر افراد کو چنا جاتا رہا ہے جبکہ کچھ امن انعام ایسی شخصیات کو بھی دیے گئے جن پر جنگیں کرانے کے الزامات تھے۔
بہرحال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ’سات جنگیں بند کرانے‘ کا مسلسل تذکرہ کرتے ہوئے امن انعام کے منتظر ہے تاہم کمیٹی کو متاثر کرنے میں ناکام رہے جس پر ان کا طنزاً کہنا تھا کہ ’میں نے تو بہت سے کام کیے جبکہ یہ لوگ انعام اس کو دیتے ہیں جس نے کچھ نہ کیا ہو۔‘

شیئر: