خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے بعد پی ٹی آئی کے سینکڑوں کارکن گرفتار، سکیورٹی سخت
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے بعد پی ٹی آئی کے سینکڑوں کارکن گرفتار، سکیورٹی سخت
پیر 12 اکتوبر 2026 16:34
صوبے کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستانی پولیس حکام نے فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی سے پیر کے روز بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کیے جانے کے بعد جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت کے سینکڑوں کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
پولیس کے دو اہلکاروں نے ذرائع ابلاغ سے بات کرنے کی اجازت نہ ہونے پر نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اتوار کو ایمرجنسی کے اعلان کے بعد سے خیبر پختونخوا میں عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 278 کارکنوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
پی ٹی آئی کے زیرِ حکومت صوبے میں کئی روز سے جاری حکومت مخالف مظاہروں کے بعد ایمرجنسی نافذ کی گئی۔ اِن مظاہروں میں عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ دوسری جانب صوبے اور خاص طور پر افغان سرحد سے متصل سرحدی علاقوں میں شدت پسندی کے واقعات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
عمران خان کے ہزاروں حامی خیبر پختونخوا میں احتجاجی مارچ کر رہے ہیں۔ ان مظاہروں میں معاشی حالات خراب ہونے کے باعث حکومت کے خلاف پائی جانے والی شکایات اور ناراضی کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔
سابق کرکٹ سٹار اور مقبول سیاست دان عمران خان کی جماعت نے اتوار کو دعویٰ کیا کہ صوبے کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ گرفتاری پاکستان کے ایوانِ صدر کی جانب سے غیر معمولی آئینی اقدامات کے اعلان کے چند گھنٹوں کے بعد عمل میں آئی۔
انتظامیہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ ’سہیل آفریدی کو ان کی سرکاری رہائش گاہ پر ’حفاظتی تحویل‘ میں رکھا گیا تھا، تاہم بعد میں انہیں کسی دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا۔
اہلکار نے ان کے نئے مقام کے بارے میں کچھ بھی بتانے سے انکار کر دیا۔
خیبر پختونخوا پاکستان تحریک انصاف کا مضبوط سیاسی گڑھ ہے۔ حکومت نے کہا ہے کہ سکیورٹی کی صورتِ حال بہتر ہونے تک صوبے میں پی ٹی آئی کی قیادت میں قائم حکومت ’غیرفعال‘ رہے گی۔
پی ٹی آئی کی قیادت میں ہونے والے مظاہروں میں عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کیا جا رہا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ وہ عسکریت پسندوں سے نمٹنے میں ناکام رہی، جس کے باعث صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنا ضروری ہو گیا۔
پاکستان تحریک انصاف نے ان آئینی اقدامات کی سخت مخالفت کی ہے۔ جماعت نے ان اقدامات کو غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وفاقی حکومت ان کے ذریعے اختیارات پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔
عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں۔ ان پر درجنوں مقدمات قائم ہے، جن میں بدعنوانی سے لے کر تشدد پر اُکسانے تک کے الزامات شامل ہیں۔ یہ مقدمات مئی 2023 میں ملک بھر میں ہونے والے ان پُرتشدد ہنگاموں کے بعد سامنے آئے تھے جن میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف مظاہرے کیے گئے تھے۔
عمران خان اور ان کی قانونی ٹیم ان الزامات کو مسترد کرتی ہے اور یہ دعویٰ کرتی ہے یہ سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے ہیں۔