تحریکِ انصاف معاہدہ کر لیتی تو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نہ لگتی: محسن نقوی محسن نقوی
منگل 13 اکتوبر 2026 20:54
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ اس دن معاہدہ ہو جاتا تو آج ایمرجنسی نہ لگتی، ہم میں سے کوئی نہیں چاہتا تھا ایمرجنسی لگے۔
منگل کو سینیٹ اجلاس میں بات کرتے ہوئے محسن نقوی کا کہنا تھا کہ حکومت مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنا چاہتی تھی، تحریک انصاف کی تمام چھ تجاویز ماننے کے باوجود بات آگے نہ بڑھ سکی، گورنر راج اور ایمرجنسی آئین کے تحت لگائی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ فوج اور پولیس والےی شہادتیں دیتے تھے جبکہ وزیراعلٰی سہیل آفریدی ان کے خلاف تقریریں کرتے تھے، ہم نے سیاسی بات کو دہشت گردی سے نہیں جوڑا۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ’ایوان میں مذاکرات ہوئے، ہماری بات چیت شروع ہی دہشت گردی پر ہوئی تھی، دہشت گردی کے 7 سے 8 نکات پر بات ہوئی۔‘
’اسد قیصر نے کہا ہم ان سب نکات پر پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوں گے، سابق سپیکر سے کہا کہ آپ کا اور خیبر پختونخوا کی حکومت کا نقطہ نظر الگ ہے، پہلے کوئی سیاسی بات نہیں ہوئی تھی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’مذاکرات کے دوران چوتھی مرتبہ پی ٹی آئی کی جانب سے چھ تبدیلیاں تجویز کی گئیں اور ہم نے سب مان لیں، جب سب کچھ طے ہوا گیا تو تحریر وزیراعلٰی کو بھیجی گئی، سہیل آفریدی نے وہ ٹیکسٹ مراد سعید کو بھیجا، اس کے بعد دو دن کی محنت ضائع ہو گئی۔‘
صحافی نے سوال کیا کہ آپ نے کہا کہ سہیل آفریدی، مراد سعید کے کہنے پر چلتے تھے تو مراد سعید کہاں ہیں؟ اس پر محسن نقوی نے جواب دیا کہ مراد سعید سے متعلق تمام معلومات سے آپ کو آگاہ کروں گا۔
