Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اورینڈ شہابِ ثاقب کی بارش اس ہفتے عروج پر، سعودی عرب کے آسمان روشن

شہابِ ثاقب کی یہ سالانہ بارش خزاں کے موسم میں ستارے دیکھنے کے اہم ترین واقعات میں سے ایک ہے (فوٹو: گیٹی امیجز)
اگر آپ آسمانی مناظر کے شوقین ہیں اور شہابِ ثاقب دیکھنا پسند کرتے ہیں، تو ماہرین کا کہنا ہے کہ اورینڈ شہابِ ثاقب کی بارش 2026 اس ہفتے اپنے عروج پر ہوگی، اور اس سے سعودی عرب کے آسمان روشن ہونے کی توقع ہے۔
عرب نیوز کے مطابق نور ایسٹرونومی ایسوسی ایشن نے کہا کہ اورینڈز اکتوبر کے آخر سے نومبر کے شروع تک متحرک رہتے ہیں اور انہیں تاریک مقامات سے عام آنکھ سے دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ سالانہ واقعہ اس وقت پیش آتا ہے جب ہیلی کے کامیٹ سے چھوٹنے والی دھول اور ملبہ تیز رفتار سے زمین کی فضا میں داخل ہوتا ہے، جس سے تیزی سے حرکت کرنے والی روشنی کی لکیریں بنتی ہیں۔
کنگ سعود یونیورسٹی کے شعبہ فزکس اینڈ ایسٹرونومی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ابو عزا المحمدی نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’اورینڈز 21 سے 22 اکتوبر 2026 کی درمیانی رات اپنے عروج پر ہوں گے۔‘
’یہ شہابِ ثاقب ہیلی کے دم دار ستارے کا ملبہ ہیں، جو تقریباً 66 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے فضا سے ٹکراتے ہیں۔ اس لیے یہ تیز ہوتے ہیں اور بعض اوقات چمکدار لکیریں چھوڑ جاتے ہیں۔‘
’سعودی عرب میں مشاہدے کا بہترین وقت آدھی رات کے بعد، خاص طور پر مقامی وقت کے مطابق صبح 2 سے 5 بجے کے درمیان ہوگا۔‘
انہوں نے کہا کہ اس سال چودھویں کے قریب چمکدار چاند کی روشنی ساتھ ہوگی جو ہلکے شہابِ ثاقب کو دھندلا سکتی ہے۔ لیکن یہ آدھی رات کے بعد غروب ہو جاتا ہے، اس لیے چاند غروب ہونے کے بعد صبح صادق کے اوقات آسمان دیکھنے والوں کو ایک جھلک دیکھنے کا بہترین موقع فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’اس کا مرکز اورین جھرمٹ میں، بیٹل گیوز کے قریب ہے۔ اورین شام مشرق سے طلوع ہوتا ہے اور صبح سے پہلے جنوبی آسمان میں اونچائی پر ہوتا ہے۔ اس لیے براہ راست اورین کی طرف نہ دیکھیں۔ 45 سے 90 ڈگری دور، اوپر یا جنوبی آسمان کی طرف دیکھیں، جہاں لکیریں زیادہ لمبی دکھائی دیتی ہیں۔‘

یہ شہابِ ثاقب ہیلی کے دم دار ستارے کا ملبہ ہیں (فوٹو: گوگل)

کچھ عملی مشورے شیئر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ستارے دیکھنے والوں کو ’شہر کی روشنیوں سے دور جانا چاہیے۔ کسی دوربین کی ضرورت نہیں ہے اور اپنی آنکھوں کو اندھیرے سے مانوس کرنے کے لیے 20 سے 30 منٹ دیں، اور صبر رکھیں۔ تاریک آسمان کے نیچے فی گھنٹہ تقریباً 10 سے 20 شہابِ ثاقب کی توقع رکھیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ یہ ایک درمیانے درجے کی بارش ہے، کوئی طوفان نہیں، لیکن چمکدار شہابِ ثاقب اور کبھی کبھار آگ کے گولے دیکھنے کے قابل ہوتے ہیں۔‘
نور ایسٹرونومی ایسوسی ایشن کے صدر عیسیٰ الغفیلی نے کہا کہ شہابِ ثاقب کی یہ بارش ہیلی کے دم دار ستارے کے اثرات دیکھنے کا موقع فراہم کرتی ہے، جو آخری بار تقریباً 40 سال پہلے زمین کے قریب آیا تھا اور اگلے 36 سال تک اس کی واپسی کی توقع نہیں ہے۔

سعودی عرب میں مشاہدے کا بہترین وقت آدھی رات کے بعد ہے (فوٹو: گیٹی امیجز)

انہوں نے کہا کہ ہر شہابِ ثاقب اس مواد کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے کی نمائندگی کرتا ہے جو دہائیوں یا صدیوں پہلے دم دار ستارے نے چھوڑا تھا۔
شہابِ ثاقب کی یہ سالانہ بارش خزاں کے موسم میں ستارے دیکھنے کے اہم ترین واقعات میں سے ایک ہے۔ یہ واقعہ، جو خلا میں 95 کلومیٹر اوپر پیش آتا ہے، فلکیاتی کیلنڈر کے سب سے متاثر کن مناظر میں سے ایک ہے۔

 

شیئر: