Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ریاض ایئرپورٹ کے زخمیوں کا جذبہ، اپنی جان پر کھیل کر دوسروں کی مدد کی

ملبہ ہر طرف بکھرا پڑا تھا، زخمیوں کے تاثرات (فوٹو، ایکس اکاونٹ)
ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 10 اکتوبر کو ہونے والے حملے میں زخمی ہونے والے مسافروں نے ان درد ناک لمحات کے دل ہلا دینے والے مناظر اورہمت، ایثار و بہاردی کی واقعات بیان کرتے ہوئے کہا ’کوشش تھی کہ کسی طرح زیادہ سے زیادہ افراد کو بحفاظت باہر نکالا جائے‘۔
اخبار 24 کے مطابق سعودی وزارتِ نیشنل گارڈ کی جانب سے ’طیارے میں سوار ہونے سے قبل،عینی شاہدین کی گواہیاں‘ کے عنوان جاری کی جانے والی دستاویزی فلم جس میں ہسپتال میں زیر علاج زخمیوں نے 10 اکتوبر کے المناک منظر بیان کیے ہیں۔
 عبدالحمید الشراری کا کہنا تھا کہ فلائٹ میں ابھی کچھ وقت تھا، نماز ادا کرتے ہی جیسے ہی لاونچ کے جانب بڑھا، ایک زوردار دھماکے کی آواز نے چونکنے پر مجبور کردیا، سامنے سیڑھیوں پر بھگدڑ کو دیکھ کر سمجھ ہی نہیں آیا کہ کیا ہوا بس ایک ہی سوچ تھی کہ کسی طرح لوگوں کو وہاں سے نکالنے میں ان کی مدد کروں۔
الشراری کا مزید کہنا تھا کہ ’مجھے اس بات کا احساس بھی نہیں تھا کہ میں بھی زخمی ہوں، بازو خون میں لت پت تھا، خون کافی بہہ جانے کی وجہ سے کمزوری نے مجھے آ لیا، اتنا یاد رہا کہ جب ایک زخمی کی مدد کرنے کے لیے بڑھا تو دھندلائی نظروں نے ایک سپاہی کو اپنی طرف بڑھتے دیکھا جس نے مجھے گرنے سے قبل ہی تھام لیا اور ایمبولینس تک پہنچا دیا‘۔

سعودی ہسپتال میں بہترین طریقے سے دیکھ بھال کی جارہی ہے(فوٹو، ایکس اکاونٹ)

فرانسیسی خاتون کلوئی کاتھیرین نے بتایا کہ 10 اکتوبر کو سہ پہر کے تین بجے کی فلائٹ تھی، پرواز کا ٹائم قریب تھا مگر ابھی تک جہاز میں سوار ہونے کا اعلان نہیں ہوا تھا جو حیران کن امر تھا، ابھی یہی سوچ رہی تھی کہ زوردار دھماکہ ہوا اور افرا تفری مچ گئی‘۔
خاتون کا مزید کہنا تھا کہ مجھے اپنے زخمی ہونے کا احساس اس وقت ہوا جب جگہ سے اٹھنے کی کوشش کی جس میں ناکام رہی، اپنے ساتھی کو فون کر کے مدد طلب کی۔ ٹانگ سے بہت زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا، ہوش آیا تو ہسپتال میں تھی‘۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہسپتال میں بہترین طبی سہولتیں میسر ہیں، ڈاکٹروں نے امید دلائی ہے کہ جلد دوبارہ چلنے کے قابل ہو جاوں گی۔
ہسپتال میں زیر علاج ایک اور زخمی مسافر معتز قاسم کا کہنا تھا کہ دھماکے کے بعد ہونے والی بھگدڑ کو دیکھ کر لوگوں کو پرسکون رہنے کی کوشش کی تاکہ منظم طریقے سے انہیں محفوظ جگہ جانے کی رہنمائی کروں۔

’ایک ہی سوچ تھی کہ کسی طرح زیادہ سے زیادہ زخمیوں کی مدد کروں‘(فوٹو، ایکس )

معتز نے مزید بتایا کہ لوگوں کو لاونچ سے نکالنے میں مصروف تھا مگر اس بات سے لاعلم تھا کہ میرا باز بھی لہو لہان ہے، پانچویں شخص کو بحفاظت باہر نکالنے کے بعد آگے بڑھنے کی کوشش کررہا تھا کہ آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔
زخمی ہونے والے ایک اور مسافر ماہر الانصاری کا کہنا تھا کہ ’دھماکے بعد بجلی منقطع ہو گئی، چھت سے ملبہ اور اس کے ٹکڑے گرنے سے لوگ زخمی ہو رہے تھے، اس دوران صرف ایک ہی سوچ تھی کہ کچھ بھی ہو جائے لوگوں کی مدد کرنا اور انہیں بحفاظت باہر لے جانا ہے‘۔   

شیئر: