Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’اپنی قبر کا انتظام کر لے‘، ماں کا اپنے بیٹے پر تشدد، ویڈیوز بچے کی نانی کو واٹس ایپ کیوں کیں؟

بچے کی نانی جمیلہ بی بی کے مطابق وہ 15 اکتوبر کو اپنی بیٹی کے گھر گئیں جہاں انہوں نے بچے پر مبینہ تشدد ہوتے ہوئے دیکھا (فوٹو: اُردو نیوز)
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کی تحصیل صادق آباد کے ایک کم عمر بچے پر مبینہ تشدد کی سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں ایک خاتون کو اپنے 4 یا 5 سالہ بیٹے محمد سبحان پر تشدد کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق یہ ویڈیوز مبینہ طور پر بچے کی والدہ نے خود ریکارڈ کی تھیں اور بعد میں اپنی والدہ یعنی بچے کی نانی کو بھیجی تھیں۔
پولیس نے واقعہ کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد بچے کی نانی کی شکایت پر مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق بچے کو تحویل میں لے کر طبی امداد فراہم کرنے کے بعد عدالت کے حکم پر اُس کی نانی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ 15 اکتوبر کو پیش آیا جبکہ مقدمہ 17 اکتوبر 2026 کو درج کیا گیا۔ مقدمہ تھانہ سٹی صادق آباد میں بچے کی نانی کی مدعیت میں درج ہوا۔
ایف آئی آر میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 324 اور 328-A شامل کی گئی ہیں۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق نانی نے پولیس کو بتایا کہ اُن کی بیٹی کی شادی تقریباً پانچ سال قبل زاہد علی سے ہوئی تھی اور اِس سے ایک بیٹا محمد سبحان پیدا ہوا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ دونوں میں تقریباً ایک سال قبل طلاق کے بعد خاتون اپنے بیٹے کے ساتھ صادق آباد کی نور کالونی میں رہ رہی تھی۔
بچے کی نانی کے مطابق وہ 15 اکتوبر کو شام تقریباً پانچ بجے اپنی بیٹی کے گھر گئیں جہاں انہوں نے بچے پر مبینہ تشدد ہوتے ہوئے دیکھا۔
درخواست میں بچے کو مارنے، اُس کے بال کاٹنے اور جسم کے مختلف حصوں پر پاؤں رکھنے کے الزامات شامل ہیں۔
مقدمے کے متن کے مطابق نانی کے شور مچانے پر پڑوسی بھی وہاں جمع ہو گئے۔ بچے کی نانی جمیلہ بی بی نے اردو نیوز کو بتایا کہ اُن کی بیٹی نے بچے پر تشدد کی ویڈیوز انہیں وٹس ایپ کے ذریعے بھیجیں اور کہا کہ ’آپ اگر بچے کو زندہ دیکھنا چاہتی ہیں تو فوراً آ کر اسے لے جائیں، ورنہ اسے جان سے مار دیا جائے گا۔‘
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں خاتون اپنے کم عمر بیٹے پر تشدد کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ وہ بچے کو لات مارتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’تو اپنی قبر کا انتظام کر لے‘ جبکہ بچہ رو رو کر اپنی والدہ کو منتیں کر رہا ہے کہ اِسے نہ مارا جائے۔
تھانہ سٹی صادق آباد کے ایس ایچ او جام آفتاب احمد نے میڈیا کو بتایا کہ بچے کو عدالت کے حکم پر طبی امداد فراہم کرنے کے بعد اُس کی نانی کی تحویل میں دے دیا گیا ہے۔
مقدمے میں نامزد خاتون کی والدہ اور بچے کی نانی جمیلہ بی بی کا کہنا ہے کہ بچہ اِس وقت اُن کی تحویل میں ہے اور واقعے کے بعد سے اُن کا اپنی بیٹی سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔

پولیس نے بچے کی نانی کی شکایت پر مختلف دفعات کے تحت بچے کی ماں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے (فوٹو: اُردو نیوز)

جمیلہ بی بی نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی بیٹی کا موبائل فون بند ہے اور اِنہیں معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہے یا اِس وقت کیا کر رہی ہے؟
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’میری بیٹی کا نمبر بند ہے۔ میں نے بچہ لے لیا ہے۔ یہ میرا بچہ ہے اور یہ ہمیشہ میرے پاس رہے گا۔ نہ میں یہ آج دوں گی اور نہ کل۔ پولیس بھی کہے تو بھی میں یہ بچہ اپنی بیٹی یا کسی کو بھی نہیں دوں گی۔ میرے بچے پر اتنا ظلم ہوا میں مزید برداشت نہیں کر سکتی۔‘
اردو نیوز کے اس سوال پر کہ اُن کی بیٹی نے اپنے ہی بچے پر مبینہ تشدد کیوں کیا، جمیلہ بی بی نے کہا کہ اُن کی بیٹی کو غصہ آ گیا تھا تاہم اُن کے مطابق ایسا کرنا ’حرام‘ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان کی بیٹی اکیلی رہتی ہے اور بچہ بھی اُسی کے ساتھ ہی رہتا تھا۔ جمیلہ بی بی کے مطابق ’بچہ جب نو ماہ کا تھا تو اُس کی والدہ کی طلاق ہو گئی تھی اور اُس کے بعد سے وہ خود ہی بچے کی پرورش کر رہی تھی۔‘
جمیلہ بی بی نے اِن خبروں کی بھی تردید کی جن میں کہا گیا تھا کہ اُن کی بیٹی دوسری شادی کرنا چاہتی تھی اور بچہ رکاوٹ بن رہا تھا یا بچے کا والد اِسے اپنی تحویل میں لینا چاہتا تھا۔ اُن کے مطابق اُن کی بیٹی ایک نجی ٹرانسپورٹ کمپنی میں بطور بس ہوسٹس کام کر رہی ہے۔

صادق آباد پولیس بچے کی ماں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہے (فائل فوٹو: اے پی پی)

جمیلہ بی بی کا کہنا تھا کہ وہ اپنے نواسے کو دوبارہ اپنی بیٹی کے حوالے نہیں کریں گی۔ اُنہوں نے اس حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’میری بیٹی گولیاں کھائے، زہر کھا کر مرے، میں بچہ کسی صورت اُس کو نہیں دوں گی۔‘
پولیس حکام کے مطابق خاتون مبینہ واقعے کے بعد کراچی چلی گئی ہے اور پولیس اُس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہے۔

شیئر: