Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکی ریپر میکلمور کا ایڈ شیرن سے تنازع کے بعد ’فری فلسطین ٹور‘ کا آغاز

قطاروں میں کھڑے مداحوں نے 43 سالہ گلوکار کے فلسطین کے حق میں مؤقف کو سراہا (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی ریپر میکلمور نے برطانوی پاپ سٹار ایڈ شیرن کی ٹور ٹیم سے علیحدگی کے بعد ڈبلن میں اپنے نئے ’فری فلسطین ٹور‘ کا آغاز کیا۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق آئرلینڈ کے دارالحکومت میں پہلے شو کے مقام کے باہر قطاروں میں کھڑے مداحوں نے 43 سالہ گلوکار کے فلسطین کے حق میں مؤقف کو سراہا۔
انشورنس کے شعبے سے وابستہ 31 سالہ مائیکل کیٹنگ نے بتایا کہ ’فلسطین کے لیے میکلمور کی حمایت بہت اہم ہے۔ انہوں نے آواز اٹھائی ہے اور آسان راستہ اختیار کرنے کے بجائے خود کو داؤ پر لگایا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’وہ اپنی مقبولیت، اپنے مستقبل اور اپنے خاندان کے مستقبل تک کو خطرے میں ڈال رہے ہیں صرف امن کے لیے۔ اور یہ بہت اہم بات ہے۔‘
’تھرفٹ شاپ‘ سے شہرت حاصل کرنے والے میکلمور کو ایڈ شیرن کے امریکی ٹور سے اس وقت ہٹا دیا گیا تھا جب انہوں نے سٹیج پر ’فری فلسطین‘ کا نعرہ لگایا اور فلسطینیوں سے کہا کہ ’انہیں فراموش نہیں کیا گیا۔‘
ایڈ شیرن کا کہنا ہے کہ میکلمور کو ٹور سے ہٹانے کا فیصلہ پروموٹرز نے کیا تھا نہ کہ انہوں نے خود، تاہم اس فیصلے پر موسیقاروں اور فلسطین نواز کارکنوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔
60  سالہ ریٹائرڈ گرین ہیلی، جو اپنی سابق سکول دوست کے ساتھ ڈبلن کے کنسرٹ میں آئی تھیں، نے کہا کہ ’امریکہ خود کو آزادی اظہار کا ملک کہتا ہے لیکن وہاں لوگوں کی آواز دبائی جا رہی ہے۔ ایڈ شیرن کو میکلمور کے مؤقف کی حمایت کرنی چاہیے تھی۔‘

گزشتہ ماہ میکلمور نے اپنے فری فلسطین ٹور کا اعلان کیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)

میکلمور سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر امریکی گلوکار فنیاس سمیت چار دیگر معاون فنکاروں نے بھی ایڈ شیرن کے ٹور سے علیحدگی اختیار کر لی۔ بعد ازاں ایڈ شیرن نے فلاڈیلفیا میں ایک کنسرٹ کے دوران غزہ کی صورتحال پر خاموشی توڑتے ہوئے اسے ’ناقابلِ جواز اور غیر متناسب‘ قرار دیا۔
گزشتہ ماہ میکلمور نے اپنے فری فلسطین ٹور کا اعلان کیا تھا جس میں اکتوبر کے آخر میں لندن اور پیرس کے شوز کے علاوہ امریکہ میں بھی پرفارمنسز شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹور سے حاصل ہونے والی تمام آمدنی فلسطین نواز تنظیموں کو دی جائے گی۔

 

شیئر: