مدینہ کی طیبہ یونیورسٹی میں اے آئی کانفرنس، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر گفتگو
جمعرات 5 نومبر 2026 13:16
تحقیقی سیشنز میں صحت کے شعبے سے متعلق کئی عملی تجربات پیش کیے گئے (فوٹو: ایس پی اے)
طیبہ یونیورسٹی اور ملائیشیا کی یونیورسٹی کبنگسان کے اشتراک سے مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی پر چھٹی بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق کانفرنس کے دوسرے روز مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ہونے والی نئی پیشرفت، ہیلتھ کیئر، عربی زبان، انٹیلی جینٹ سسٹم اور جدید ٹیکنالوجی میں اس کے استعمال پر بات کی گئی۔
اہم لیکچرز میں عربی زبان کو سمجھنے کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے مستقبل، عالمی تحقیقی تعاون سے محفوظ اور بہتر ماڈلز بنانے اور اس کے تاریخی سفر پر روشنی ڈالی گئی۔
اس کے علاوہ عام اور مخصوص آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے فرق، اور ماڈلز کی عملی زندگی میں کارکردگی پرکھنے کے چیلنجز، خاص طور پر مقامی لہجوں اور معاشرتی ماحول کو سمجھنے کی صلاحیت پر بات ہوئی۔
تحقیقی سیشنز میں صحت کے شعبے سے متعلق کئی عملی تجربات پیش کیے گئے جن میں دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی جانچنے کا ایک ماڈل شامل تھا۔
ایک اور تحقیق میں بڑی عمر کے افراد کی روزمرہ سرگرمیوں کی نگرانی اور عمارتوں کے اندر ان کی موجودگی کا پتہ لگانے کے لیے سمارٹ طریقہ تیار کیا گیا۔ جبکہ ڈیپ لرننگ کے ذریعے پھیپھڑوں کے خلیات کی درجہ بندی اور ملیریا کی ابتدائی مرحلے میں تشخیص پر کی گئی تحقیق نے بالترتیب 98.38 فیصد اور 99.12 فیصد درست نتائج دیے۔

دیگر تحقیقات میں بینائی سے محروم افراد کی مدد کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے استعمال کا جائزہ لیا گیا تاکہ وہ اپنے ارد گرد کے ماحول اور لوگوں کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔
تحقیق میں ڈرونز کے ذریعے تلاش اور بچاؤ کی ایپلی کیشنز، جدید زراعت، پانی کے وسائل کے بہتر نظام اور ڈیجیٹل نیٹ ورکس کے تحفظ پر بھی کام پیش کیا گیا۔ ان سیشنز میں فصلوں کی سیرابی اور پیداوار بڑھانے، سائبر خطرات کی نگرانی کرنے اور ڈیجیٹل رویوں کا تجزیہ کرنے والے طریقے دکھائے گئے جو عملی مسائل کے حل میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے بہترین استعمال کی نشاندہی کرتے ہیں۔
