Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مکہ کے کبوتر مینار، دیہی مہارت اور ورثے کی علامت

کبوتر ٹاور آج بھی  گزرے دور کی یادوں کو تازہ کرتے ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
مکہ ریجن کے کچھ دیہات اور زرعی علاقوں میں مٹی اور گارے سے بنے ’کبوتر ٹاور‘ آج بھی موجود ہیں۔ یہ ٹاور تعمیراتی اور زرعی ورثے کا حصہ ہیں جو گزرے دور کی یادوں کو تازہ کرتے ہیں۔
کبوتر ٹاور کو دیکھ کر انسان کی ان صلاحیتوں کا بخوبی اندازہ ہوتا کہ کس طرح قدرتی وسائل کو اپنی روزمرہ ضروریات کو پورا کرنے کے لیے خوبصورتی سے استعمال کیا گیا۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ماضی کے اس ورثے کے حوالے سے سعودی کاشتکار سویلم الحربی نے بتایا کہ کبوتروں کے لیے بنائے گئے یہ ٹاور دیہات کی زرعی زندگی کی نمایاں علامت ہوا کرتے تھے۔
ماضی میں علاقے کے لوگ عموماً ان میناروں کو کھیتوں اور گھروں کے قریب تعمیر کیا کرتے تھے تاکہ کبوتروں کی پرورش کے لیے موزوں ماحول فراہم کیا جا سکے اور ان سے فائدہ بھی اٹھایا جائے۔
سویلم الحربی نے بتایا کہ ان ٹاوروں کی تعمیر میں نسلوں سے منتقل ہونے والے تجربات سے بھی استفادہ کیا جاتا تھا جن میں سب سے اہم مناسب جگہ کا انتخاب۔ ٹاور میں بنائے جانے والے ان سوراخوں کی ترتیب جو کبوتروں کی آمدورفت کے لیے رکھے جاتے تھے اس کے علاوہ کبوتروں کی افزائش کے لیے بنائے گئے خانوں کی تقسیم بھی اہم ہوتی تھی۔

ماضی میں علاقے کے کسان کبوتر کے فضلے کو زرعی زمینوں میں کھاد کے طور پر استعمال کیا کرتے تھے۔ یہ طرز عمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ قدیم زمانے میں انسان قدرتی وسائل کے زیادہ سے زیادہ استعمال، ضیاع میں کمی اور پرندوں کی پرورش کو زرعی سرگرمیوں کے ساتھ مربوط کرنے کا کس قدر اہتمام کرتا تھا۔
کبوتر ٹاور مقامی لوگوں کی یادوں کا بھی حصہ تھے۔ پرندوں کی دیکھ بھال اور ان کی افزائش پرنظر رکھنا دیہی زندگی کا ایک معمول تھا۔
ان کی تعمیراتی اہمیت ان کی بتدریج بلند ہوتی ہندسی ساخت، موٹی دیواروں اور احتیاط سے ترتیب دیے گئے سوراخوں میں نمایاں ہوتی ہے جو قدیم دفاعی برجوں سے مشابہ ہے حالانکہ ان کا بنیادی مقصد کبوتروں کی پرورش تھا۔

ان کی تعمیر کے دوران معماروں نے مقامی آب و ہوا اور ماحولیاتی حالات کو بھی مدنظر رکھا۔ اس مقصد کے لیے ایسے سوراخ بنائے گئے جو ہوا کی آمدورفت اور کبوتروں کی نقل و حرکت میں معاون ہوں جبکہ تعمیر کے لیے ایسے مقامی مواد کا انتخاب کیا گیا جو علاقے کے ماحول سے مطابقت رکھتے تھے۔
یہ ٹاور آج بھی انسان اور زمین کے درمیان گہرے تعلق کے گواہ ہیں۔ یہ دیہی طرزِ تعمیر کی ایسی مثال ہیں جس میں ضرورت اور حسن دونوں کو یکجا کیا گیا تھا۔
ان کی بناوٹ و تعمیر ساخت کی تفصیلات ان نسلوں کی داستان سناتی ہیں جنہوں نے اپنی مہارت اور تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے ایسی تعمیراتی شاہکار بنائے جو ان کی روزمرہ زندگی کی ضروریات پوری کرتی تھیں۔ یوں یہ ٹاور دیہات کی زرعی و ثقافتی یادداشت کا اہم حصہ بن کر آج بھی اپنی تاریخی شناخت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

شیئر: