درعیہ میں قدرتی روشنائی سے ہزار برس قدیم شاعری پھر سے زندہ
جمعرات 5 نومبر 2026 11:12
مکہ سے تعلق رکھنے والے الشاہد نے مسجد الحرام میں عربی خطاطی کی تربیت حاصل کی (فوٹو: عرب نیوز)
سعودی فنکار اور خطاط عبدالرحمٰن الشاہد نے منگل کی شام ایک منفرد ثقافتی تقریب کے دوران قدرتی خام سیاہی کا استعمال کرتے ہوئے تاریخی شاعری اور عربی خطاطی کو فن کے دلکش انداز میں زندہ کر دیا۔ اس موقع پر شرکا کو فن اور ثقافت سے روشناس کرانے کے لیے ایک دلچسپ اور معلوماتی نشست کا بھی اہتمام کیا گیا۔
انہوں نے درعیہ کے باب سمحان ہوٹل میں منعقدہ تقریب کے دوران بتایا کہ ’ماضی میں خطاط اپنی روشنائی خود تیار کیا کرتے تھے۔ اس کے لیے پھولوں سمیت مختلف قدرتی اجزا استعمال کیے جاتے تھے۔ مثال کے طور پر ہم کافی کو پیس کر اس میں قدرتی اجزا ملاتے ہیں اور یوں روشنائی تیار کرتے ہیں۔‘
’گوند، شہد اور سرکے جیسے قدرتی اجزا کو آپس میں ملا کر ایسی روشنائی تیار کی جاتی ہے جو سینکڑوں سال تک محفوظ رہ سکتی ہے۔ اس کا بھورا رنگ سعودی کافی سے تیار کردہ روشنائی سے متاثر ہے۔‘
الشاہد جو ڈیزائن اور فنکارانہ تجربات کو یکجا کرنے والے ’مخطوط سٹوڈیو‘ کے بانی بھی ہیں، نے اس موقع پر براہِ راست خطاطی کا مظاہرہ کیا اور ایک معلوماتی ورکشاپ کا انعقاد کیا جس میں مملکت کے تاریخی فن پاروں اور قدرتی اجزا سے تیار کردہ روشنائی کے ذریعے تحریروں کو صدیوں تک محفوظ رکھنے کے طریقوں پر روشنی ڈالی گئی۔
مکہ سے تعلق رکھنے والے الشاہد نے مسجد الحرام میں عربی خطاطی کی تربیت حاصل کی اور اس مقدس شہر سے متاثر ہو کر اپنے فن کو نکھارا۔ وہ پیرس میں یونیسکو، شہزادہ محمد بن سلمان عالمی مرکز برائے عربی خطاطی اور کینیڈین میوزیم آف نیچر سمیت دنیا کے کئی معروف اداروں میں اپنے فن پاروں کی نمائش کر چکے ہیں۔
ورکشاپ کے آغاز سے قبل ایک براہِ راست فن پارے کی تخلیق کے دوران الشاہد نے کافی سے تیار کردہ روشنائی استعمال کرتے ہوئے اپنا تازہ ترین کام مکمل کیا۔ اس فن پارے میں انہوں نے بنو حنیفہ قبیلے کے شاعر یحییٰ بن طالب الحنفی کے 1300 سال سے بھی قدیم نظم کو خطاطی کے ذریعے دوبارہ تخلیق کیا۔
انہوں نے بتایا کہ ’یہ فن پارہ ایک ہزار سال سے بھی قدیم ایک شعری مصرعے پر مشتمل ہے جسے وادی حنیفہ سے تعلق رکھنے والے شاعر ابن طالب نے لکھا تھا۔ اس نظم میں انہوں نے اس علاقے سے اپنی محبت کا اظہار کیا ہے۔ اس تخلیق میں فکر انگیز فلسفہ پوشیدہ ہے۔‘
الشاہد نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ’اس شاعر کے بیشتر کلام میں وادی حنیفہ اور اس کے گردونواح کے مقامات سے ان کی محبت، دوری کا احساس اور ماضی کی یادیں جھلکتی ہیں۔ آج ہم درعیہ کے باب سمحان میں موجود ہیں جہاں سے وادی حنیفہ کا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ اسی مناسبت سے ہم نے ان کا یہ شعری مصرعہ منتخب کیا ہے ’میں ایسی زندگی کو خوشگوار نہیں سمجھتا جس میں جدائی ہو لیکن سرزمین پر زندگی خوشگوار تھی۔‘ یہاں سرزمین سے مراد غالباً موجودہ درعیہ یا وادی حنیفہ کے آس پاس کے علاقے ہیں۔‘
قدرتی وسائل سے حاصل کردہ خام اجزا کے استعمال سے پیش کیے گئے اس عملی مظاہرے نے واضح کیا کہ مصنوعی روشنائی کے برعکس قدرتی سیاہی کس طرح دیرپا نقوش چھوڑتی ہے اور ہزاروں سال پرانے شعری ورثے کو محفوظ رکھنے کا ذریعہ بنتی ہے۔
براہِ راست خطاطی کے مظاہرے کے بعد فنکار نے ایک ورکشاپ کا انعقاد کیا جس میں ہر شخص نے قدرتی روشنائی سے تجربہ کرتے ہوئے اپنا منفرد فن پارہ تخلیق کیا۔