شام نے یمن میں فوج بھیجنے کے منصوبے کی تردید کر دی
شام کا کہنا ہے موجودہ ترجیحات داخلی سلامتی، تعمیر نو اور معاشی بحالی ہیں۔( فوٹو: اے ایف پی)
شام نے سنیچر کو ان خبروں کی تردید کی ہےکہ اس کا یمن میں فوجی دستے بھیجنے کا کوئی منصوبہ یا ارادہ ہے۔
شام کا کہنا ہے اس کی موجودہ ترجیحات داخلی سلامتی، تعمیر نو اور معاشی بحالی ہیں۔
شام کے ایک سفارتی ذریعے نے سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا کو بتایا سعودی عرب کے ساتھ موجودہ فوجی معاہدوں کا فوکس تربیت، مہارتوں کا تبادلہ اور دونوں ملکوں کے مفادات کے پیش نظر فوجی مشاورت ہے۔
ذرایعے نے بتایا اس معاہدے میں سعودی افواج کی تربیت اور ان کی صلاحیتوں کو بڑھانا شامل ہے جبکہ رابطہ کاری کے لیے سعودی حکام کے دورے آئندہ ماہ شروع ہونے والے ہیں۔
ذریعے کے مطابق مشترکہ مفادات کی بنیاد پر یہ تعاون مستقبل میں ایک باہمی دفاعی معاہدے کی شکل اختیار کر سکتا ہے یا شام مکہ دفاعی اتحاد میں شامل ہوسکتا ہے۔
تاہم ذریعے نے تصدیق کی کہ شامی افواج کی یمن میں تعنیاتی سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں۔
اس سے قبل شام کے اعلی سفارتکار نے کہا تھا کہ دمشق اس بات پر غور کر رہا ہے کہ آیا نیٹو طرز کے دفاعی اتحاد میں شامل ہوا جائے جس میں سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان شامل ہیں۔
بحرین میں منامہ ڈائیلاگ کانفرنس کے دوران وزیر خارجہ اسعد الشعبانی نے بتایا ’ ابھی مکہ اتحاد میں شمولیت کا جائزہ لینے کے لیے بات چیت جاری ہے۔‘
یاد رہے اگست میں سعودی عرب پاکستان اور ترکیہ نے اسلام کے مقدس ترین شہر مکہ میں ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت کسی ایک ملک پر ہونے والے حملے کو تینوں ملکوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
