غیرملکی اکاﺅنٹس پر پابندیاں

کراچی (صلاح الدین حیدر۔۔ بیورو چیف )وہ تمام پاکستانی خواتین و حضرات جنہوں نے بیرونی کرنسیوں میں اکاﺅنٹس کھول رکھے تھے۔اب شاید تھوڑے سے پریشان ہوں۔ اس لئے کہ حکومت ان پرکچھ پابندی لگانے کا سوچ رہی ہے۔ سابق وزیر اعظم نے اپنی پہلے دورِ حکومت میں بینکنگ اکاﺅنٹ میں بنیادی تبدیلیاں کر کے بینکنگ انڈسٹری کو بہت فائدہ پہنچایا۔سب سے بڑی بات نواز شریف کا فیصلہ تھا کہ ہر پاکستانی اپنے ہی ملک میں فارن کرنسی اکاﺅنٹ کھول سکتا ، جس کے بارے میں یہ سہولت بھی دے دی گئی کہ ان کے اکاﺅنٹ کے بارے میں کوئی سوال نہیں پوچھا جائے گا اور اس سے تمام انکم ٹیکس بھی مستثنیٰ ہونگے لیکن آج 26سال کے بعد قومی اسمبلی کی فنانس کمیٹی کے سامنے ایک تجویز پیش کی گئی ہے کہ ہر ایک کروڑ جمع پونجی کے بعد اکاﺅنٹ ہولڈر کو10 فیصد سالانہ ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔ پارلیمانی کمیٹی کی طرف سے یہ مرکزی بینک کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں کہ اس پر عمل درآمد شروع کردیا جائے۔پاکستان میں اس وقت نجی اکاﺅنٹس میں 6ارب ڈالرز سے زیادہ رقم پڑی ہوئی ہے، لیکن اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ لوگ قومی مارکیٹ سے ڈالر خریدکر دبئی اور دوسرے ملکوں کو باہر بیچ دےتے ہیں جو منی لانڈرنگ کے زمرے میں آتا ہے۔ اسلئے اس پر چیک ضروری ہے۔ اکاﺅنٹس رکھنے والوں کو ایک ڈیکلیریشن بھی داخل کرنا ہوگا، کہ ان کے پاس کتنے پےسے ہیں،ڈالرز، یورو، ےا کسی اور دوسری کرنسی میں۔یہ خبر تمام پاکستانیوں کےلئے تشویش کا باعث بنے گی، لیکن دیکھئے اس پرعمل درآمد کب سے ہوتاہے۔ 

شیئر: