’ایمنسٹی سکیم کا مقصد کالے دھن کو سفید کرنا ہے‘

بے نامی اکاؤنٹس ظاہر نہ کرنے والوں کو جیل بھیجا جا سکتا ہے، مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ
پاکستان کی حکومت نے ملک میں نئی ٹیکس ایمنسٹی سکیم کی منظوری دے دی ہے۔ نئی ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے تحت پاکستانی شہری اپنا سیاہ دھن سفید کر سکیں گے۔
منگل کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وزیر اعظم کے زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں ایمنسٹی سکیم کی منظوری دی ہے۔
 کابینہ اجلاس کے بعد مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے میڈیا کو بریفنگ دیتے وقت بتایا کہ نئی ٹیکس ایمنسٹی سکیم کا مقصد کسی کو ڈرانا یا دھمکانا نہیں بلکہ غیر قانونی اثاثوں کو معیشت میں لا کر انہیں سفید کرنا ہے۔
ایمنسٹی سکیم کی تفصیلات بتاتے ہوئے مشیر خزانہ نے کہا کہ’ ملک سے باہر بھیجی گئی غیر قانونی رقم کا چھ فیصد ادا کر کے اسے جائز بنایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح ملک کے اندر کالے دھن کا چار فیصد ادا کر کے اسے سفید دھن میں تبدیل کیا جا سکتا ہے‘۔
مشیر خزانہ نے بتایا کہ رئیل سٹیٹ پراپرٹی کو سفید کرنے کے لیے اس کی مالیت کا ڈیڑھ فیصد ادا کرنا ہو گا۔
حفیظ شیخ نے مزید کہا کہ’ حکومت نے 28 ممالک میں ڈیڑھ لاکھ اکاؤنٹس کی تفصیلات حاصل کی ہیں، ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے تحت 30 جون تک اثاثے ظاہر کیے جا سکتے ہیں۔سکیم کے تحت بے نامی اکاؤنٹس اور بے نامی اثاثوں کو ظاہر کیا جا سکے گا‘۔
مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے واضح کیا کہ بے نامی اکاؤنٹس ظاہر نہ کرنے والوں کو جیل بھیجا جا سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھانے کا یہ آخری موقع ہے۔ سکیم سے فائدہ اٹھانے والوں کو ٹیکس ریٹرنز جمع کرانا ہوں گےاورظاہر کیے گئے اثاثے بینک میں رکھے جا سکتے ہیں۔
مشیر خزانہ نے بتایا کہ سرکاری اہلکارکے سوا ہر پاکستانی اس سکیم سے فائدہ اٹھا سکے گا۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعت مسلم لیگ ن نے کہا ہے کہ ہر سال ایمنسٹی سکیم نہیں لائی جاتی۔
سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے سینیئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جب ہم یہ سکیم لائے تو عمران خان اور اسد عمر نے لعنتیں بھیجیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی نئی ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے وزیراعظم عمران خان کے رشتہ دار اور احباب فائدہ اٹھائیں گے۔

شیئر: