لیموں اور ڈالر کے درمیان اُونچی اُڑان کا مُقابلہ

پاکستان میں گرمی کی شدت بڑھنے کے ساتھ لیموں کی مانگ میں اضافہ ہو جاتا ہے
 ماہ رمضان کی آمد کے بعد لیموں کی قیمت میں غیر معمولی اضافے  کی وجہ سے پاکستانی سوشل میڈیا صارفین نے اپنی رائے کا اظہار کرنے کے لیے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کا سہارا لیا ہے۔
کسی نے لیموں کو ڈالر کا کزن بنا دیا ہے جس کی قیمت روز بروز بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے اور کسی نے اسے ’تبدیلی‘ کا نام دے دیا ہے۔
ٹوئٹر صارف سکندر اعظم کا کہنا تھا کہ لگتا ہے کہ ڈالر اور لیموں کا کوئی تعلق ہے کیونکہ دونوں بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ لیموں 100 روپے پاؤ۔

حمزہ نے موجودہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ جو ایک کروڑ نوکریوں  کا وعدہ کر چکے تھے، آج کل وہ سبزی منڈی میں سستے لیموں کی تلاش میں ہیں۔

مرزا وکی نے کہا کہ اکثر جب گھر پر مہمان آئیں تو امی روح افزا پیش کرتی ہیں اور جب چچی گھر آئیں تو لیموں پانی، جس کے جواب میں رضوی نے کہا کہ فی الحال روح افزا سستا اور لیموں مہنگے ہیں۔

محمد شبیر کا کہنا ہے کہ 450 روپے کلو لیموں والے شربت کے اشتہارات دکھائیں گے تو روزہ کہا ں برداشت ہو گا۔

آلو، پیاز ویسے ہی مہنگے ہو رہے ہیں، دہی بھلوں سے بھی انکار سمجھیے، بیسن بھی مہنگا ہے اور پیچھے رہ گئی شکنجبین تو وہ بھی نہیں بنائی جا سکتی کیونکہ لیموں مہنگا ہو گیا ہے۔

عادل نے اس صورت حال پر اپنی رائے کا اظہار شعر سے کیا۔
’روک سکو تو روک لو تبدیلی آئی ہے
لیموں کے بعد روپے  کی بد نصیبی آئی ہے‘

 

شیئر: