مبینہ وڈیو سکینڈل، نیب چیئرمین جاوید اقبال کے پاس کیا آپشن ہے؟

پاکستان میں قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے مبینہ ویڈیو سکینڈل سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایک نیا محاذ کھل گیا ہے۔ 
احتساب بیورو کے ترجمان نے چیئرمین نیب سے منسوب ویڈیو کو جعلی اور احتساب کے عمل کو ڈی ریل کرنے کی سازش قرار دیا تو اپوزیشن کی بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے اس کا الزام حکومت پر دھر دیا۔
وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے مبینہ ویڈیو سکینڈل کے تانے بانے اپوزیشن سے جوڑ دیئے۔
ان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن احتساب کے عمل کو ڈی ریل کرنا چاہتی ہے لیکن حکومت ادارے کے ساتھ کھڑی ہو گی۔
اپوزیشن کی بڑی جماعت مسلم لیگ ن خود اس سارے معاملے پر کنفیوژن کا شکار ہے اور یہاں بھی اس کے دو بیانیے چل رہے ہیں۔

اپوزیشن جماعتوں نے چیئرمین نیب کے مبینہ وڈیو سکینڈل کی ذمہ داری حکومت پر عائد کی ہے

اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف نے پہلے تو لندن سے چیئرمین نیب کی ذاتی زندگی میں مداخلت نہ کرنے کا بیان دیا پھر پارٹی کے سینیئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے معاملے کی پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے تحقیقات کا مطالبہ کر دیا۔
اردو نیوز نے چیئرمین نیب کی مبینہ آڈیو اور ویڈیو کے معاملے پر سیاسی تجزیہ کاروں سے رابطہ کیا اور اس ساری صورتحال پر ان کا موقف جاننے کی کوشش کی۔ 
سینیئر سیاسی تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے اردو نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’جو شخص احتساب کرتا ہے اس کا اپنا دامن صاف ہونا چاہیے، چیئرمین نیب کے پاس اب استعفے کے سوا کوئی آپشن نہیں بچا، بہتر ہے وہ خود ہی عہدہ چھوڑ دیں۔‘
دوسری جانب سینیئر صحافی ضیاالدین کا موقف قدرے مختلف ہے، ان کا کہنا ہے کہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال اہم کمیشنز کی سربراہی کر چکے ہیں۔ ’سب کو معلوم ہے کہ وہ فوج کے بندے ہیں، فوری طور پر اس وڈیو سکینڈل سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔‘

حکومت کا کہنا ہے کہ اپوزیشن ویڈیو سکینڈل کی آڑ میں احتساب کے عمل کو متنازع بنانا چاہتی ہے

اس معاملے پر قانون دان شاہ خاور ایڈووکیٹ نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے تو اس بات کی تحقیقات ہونی چاہئیں کہ اس ویڈیو کے پیچھے محرکات کیا تھے، اس کے بعد بات آگے بڑھے گی۔
وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے سابق پراسیکیوٹر قاضی ظفراللہ نے بھی ویڈیو اور آڈیو کی فارنزک تجزیہ کرانے پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’تحقیقات کے بعد ہی یہ حقیقت کھل سکے گی کہ آیا یہ آڈیو اور وڈیو اصلی ہے یا کوئی جعل سازی ہوئی ہے۔‘
سینیئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے عہدہ نہ چھوڑا تو ملک میں جاری احتساب کا پورا عمل ہی مشکوک ہو جائے گا۔
اس سوال پر کہ کیا اس مبینہ وڈیو سکینڈل سے نیب کی ساکھ کو بھی کوئی نقصان پہنچا ہے، سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ نیب کو اس معاملے سے بہت نقصان پہنچا ہے اور اس وڈیو سکینڈل کے بعد اس کا گرفتاریاں کرنے کا ہدف مشکل ہو جائے گا۔
صحافی ضیا الدین کہتے ہیں کہ اگر چیئرمین نیب سمجھتے ہیں کہ ویڈیو غلط ہے تو پھر ایف آئی اے سے اس کی تحقیقات کرا لیں۔ ’اس معاملے پر مسلم لیگ ن پارلیمنٹ کے فورم پر ان سے وضاحت مانگنے کا حق رکھتی ہے، اس ویڈیو سے حکومت یا احتساب کے عمل پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔‘
ضیا الدین کے مطابق ویڈیو سکینڈل کی تحقیقات ضرور ہونی چاہئیں کیونکہ خبر نشر کرنے والے چینل کے مالک کا شمار وزیراعظم کے قریبی لوگوں میں ہوتا ہے۔
 شاہ خاور ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی طرح چیئرمین نیب کے خلاف بھی آرٹیکل 204 کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال چینل کے خلاف پیمرا سے رجوع کرنے کے علاوہ ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ سے تحقیقات کروا سکتے ہیں اور ذمہ دار افراد کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ بھی کر سکتے ہیں۔
سابق پراسیکیوٹر ایف آئی اے قاضی ظفراللہ نے کہا کہ چیئرمین نیب خود کو بے گناہ ثابت کرنے کے لیے ایف آئی اے کے پاس جائیں، اس معاملے کی ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ سے بہتر تحقیقات کوئی نہیں کر سکتا۔
 
 

شیئر: