صدارتی ریفرنس پر کارروائی روک دی گئی

چیف جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے خلاف شکایات سننا آئینی تقاضا ہے۔ فوٹو: سپریم کورٹ ویب سائٹ
پاکستان کی سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) میں صدارتی ریفرنس پر کارروائی روک دی گئی ہے۔
بدھ کو سپریم کورٹ میں نئے عدالتی سال کے آغاز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس جو اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کا مواخذہ کرنے والے فورم سپریم جوڈیشل کونسل کے چیئرمین بھی ہیں، نے کہا کہ جج کے لیے سب سے ناخوشگوار کام سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس سننا ہے۔
’یہ آئینی تقاضا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے کسی جج کے خلاف آنے والی شکایت کو سنا جائے‘۔
پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں ایک ریفرنس پر کارروائی روک دی گئی ہے۔

جسٹس کھوسہ کا کہنا تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے ججوں کے خلاف 149 شکایات نمٹا دی۔ فوٹو ریڈیو پاکستان

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے جسٹس عیسیٰ کا نام لیے بغیر کہا کہ صدر کی جانب سے دائر ریفرنسز میں سے ایک پر کارروائی معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہونے کی وجہ سے روکی  گئی ہے۔
جسٹس کھوسہ نے اپنے طویل خطاب میں کہا کہ 2018 میں عدالتی سال کےشروعات سے پہلے 56 شکایات سپریم جوڈیشل کونسل میں زیر التوا تھیں اور گذشتہ سال ہی 102 مزید شکایات دائر کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ 149 شکایات کا جائزہ لیا گیا اور انہیں نمٹا دیا گیا  جبکہ اس وقت نو شکایات بشمول صدر مملکت کی جانب سے دائر کیے گئے دو ریفرنس کونسل میں زیر سماعت ہیں۔

 

’چار میں سے تین شکایات جو کہ صدارتی ریفرنس سے پہلے دائر کی گئی تھیں ان پر کونسل پہلے سے مروجہ طریقہ کار کے مطابق کارروائی کر رہی تھی جبکہ چوتھی شکایت پر کارروائی سپریم کورٹ میں معاملہ زیر التوا ہونے کی وجہ سے روک دی گئی ہے۔‘
چیف جسٹس نے کہا کہ صدر کی جانب سے دائر ریفرنسز پر کونسل نے مختلف اقدامات کیے اور صدارتی ریفرنس دائر ہونے کے بعد رجسٹرڈ کی جانے والی تین شکایات کے حوالے سے بھی طریقہ کار کے مطابق کچھ کارروائی کی گئی ہے۔
اپنے خطاب میں از خود نوٹس لینے کا اختیار کم سے کم استعمال کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا ہے کہ یہ اختیار صرف قومی اہمیت کے معاملے پر استعمال کیا جائے گا اور جب ضروری ہوگا تب عدالت ازخود نوٹس لے گی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ انہوں نے انتظامیہ اور قانون سازعدالتی نظام کی تنظیم نو کے لیے نیا نظام متعارف کروانے کی تجویز دی تھی لیکن حکومت اور پارلیمنٹ نے ان کی تجویز پر غور نہیں کیا۔

وکلا تنظیموں نے جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کو سپریم کورٹ میں چیلینج کیا ہے۔ فوٹو اے ایف پی

چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ جوڈیشل ایکٹوازم کے بجائے فوری انصاف کے نظریے کو فروغ دے رہی ہے۔ لیکن کچھ لوگ جوڈیشل ایکٹوازم میں عدم دلچسپی پر ناخوش ہیں۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اپنے گھر کو درست کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پہلی بار سپریم کورٹ پاکستان نے ای کورٹ سسٹم متعارف کروایا۔ لاء اینڈ جسٹس کمیشن کے مطابق زیر التوا مقدمات کی تعداد کم ہوکر 1.78 ملین ہوگئی ہے، گزشتہ عدالتی سال کے آغاز پر جوڈیشری میں زیرالتوا مقدمات کی تعداد 1.81 ملین تھی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ وہ کہہ چکے ہیں کہ از خود نوٹس کا اختیار قومی اہمیت کے معاملے پر استعمال کیا جائے گا اور جب ضروری ہوا یہ عدالت ازخود  نوٹس لے گی۔ اگلے فل کورٹ اجلاس تک از خود نوٹس کے استعمال سے متعلق مسودہ تیار کر لیا جائے گا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ از خود نوٹس سےعدالتی گریززیادہ محفوظ اور کم نقصان دہ ہے۔
چیف جسٹس نے سپریم جوڈیشل کونسل کے بارے میں کہا کہ قانون کے مطابق انصاف کی فراہمی کے علاوہ کونسل سے کوئی بھی توقع نہ رکھی جائے اور کونسل کسی بھی قسم کے خوف، بدنیتی یا دباؤ کے بغیر اپنا کام جاری رکھے گی، سپریم جوڈیشل کونسل کے تمام ممبران اور چیئرمین اپنے حلف پرقائم ہیں، کونسل اپنی کارروائی میں آزاد اور بااختیار ہے۔
مزید پڑھیں

 

چیف جسٹس نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کو مشکل ترین عمل قراردیتے ہوئے کہا کہ اس وقت سپریم جوڈیشل کونسل میں 9 شکایات زیرالتواء ہیں۔ جن میں صدر مملکت کی جانب سے دائر دوریفرنس شامل ہیں۔
صدر مملکت کی کسی جج کے خلاف شکایت سپریم جوڈیشل کونسل کی رائے پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ تاہم آئین صدرمملکت کو اختیار دیتا ہے کہ وہ کونسل کو کسی جج کے کنڈکٹ کی تحقیقات کی ہدایت کرے۔
واضح رہے کہ حکومت نے سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس کریم خان آغا کے خلاف  مس کنڈکٹ کی شکایات پر سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا ہے۔

شیئر: