جے کے ایل ایف کیا ہے؟

انڈیا نے رواں سال جے کے ایل ایف پر پابندی عائد کر دی ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر سے لائن آف کنٹرول پار کر کے سری نگر جانے کا اعلان کرنے والی تنظیم ’جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ‘ (جے کے ایل ایف) یہ کوشش تیسری بار کر رہی ہے۔
تنظیم کے عہدیداروں کے مطابق اس سے قبل 1992 میں انہوں نے پہلی مرتبہ لائن آف کنٹرول عبور کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت کنٹرول لائن عبور کرنے کی کوشش میں سات افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کے بعد 1993 میں بھی تنظیم نے کنٹرول لائن توڑنے کی کال دی تھی۔

جے کے ایل ایف کا قیام کب ہوا؟

جے کے ایل ایف کا قیام 1976 میں برطانیہ میں عمل میں آیا تھا، امان اللہ خان اس کے بانی اور مقبول بٹ شریک بانی تھے۔
ترجمان جے کے ایل ایف رفیق ڈار کے مطابق امان اللہ خان نے 1984 میں برطانیہ سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں آ کر پارٹی کی شاخ قائم کی اور مسلح جدوجہد بھی شروع کی۔

امان اللہ خان نے جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کی بنیاد رکھی، فوٹو: اے ایف پی

جے کے ایل ایف نے سیاسی، سفارتی اور عسکری تینوں محاذوں پر ایک ہی نام سے جدوجہد کا آغاز کیا۔
یاسین ملک کی جنگ بندی
اس تنظیم کے اہم رہنما یاسین ملک نے 1994 میں یک طرفہ طور پر جنگ بندی کا اعلان کیا۔ تنظیم کے عہدیداروں کے مطابق اس جنگ بندی کا مقصد امن کو ایک موقع اور انڈیا اور پاکستان کو مذاکرات کی دعوت دینا تھا۔
جے کے ایل ایف کے دو دھڑے
یاسین ملک کی جانب سے یک طرفہ جنگ بندی کے اعلان کو امان اللہ خان نے مسترد کر دیا اور دونوں کے درمیان اختلافات کے باعث اس تنظیم کے دو دھڑے بن گئے، تاہم 2011 میں دونوں دھڑے دوبارہ سے ایک ہو گئے۔ دونوں دھڑوں کے انضمام کے بعد یاسین ملک پارٹی کے چیئرمین جبکہ امان اللہ خان اس کے سرپرست اعلیٰ بن گئے۔ جے کے ایل ایف جموں و کشمیر کے پاکستان یا انڈیا میں انضمام کی حامی نہیں بلکہ اس تنظیم کے منشور میں خودمختار ریاست کا قیام شامل ہے۔
انڈین حکومت نے اپنے زیرانتظام کشمیر میں رواں برس مارچ میں انسداد دہشت گردی قانون کے تحت جے کے ایل ایف کو کالعدم تنظیم قرار دے دیا ہے۔

یاسین ملک نے 1994 میں مسلح جدوجہد کے بجائے مذاکرات کی بات کی، فوٹو: اے ایف پی

امان اللہ خان کون تھے؟

جے کے ایل ایف کے بانی امان اللہ خان 24 اگست 1934 کو استور، گلگت میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم کپواڑہ اور پھر ہائی سکول کی تعلیم ہندواڑہ میں حاصل کی۔ انہوں نے کالج کی تعلیم سر پرتاب کالج سری نگر سے حاصل کی۔
امان اللہ خان نے سندھ مدرسۃ الاسلام کالج کراچی سے 1957 میں گریجویشن کی اور 1962 میں قانون کی ڈگری حاصل کی۔

جے کے ایل ایف نے تیسری مرتبہ سیز فائر لائن توڑنے کی کال دی، فوٹو: سوشل میڈیا

1962 میں ہی انہوں نے ریاست جموں و کشمیر کے انضمام اور انڈیا اور پاکستان سے الگ اس کی خود مختاری کا مطالبہ کیا۔
انڈیا نے 1971 میں اپنے ہائی جیک ہونے والے طیارے ’گنگا‘ کی ہائی جیکنگ کا الزام جے کے ایل ایف پر عائد کیا تھا۔ یہ پرواز سری نگر سے کشمیر جا رہی تھی اور اسے لاہور میں اتار دیا گیا۔ پاکستان نے تمام انڈین مسافروں کو ان کے ملک واپس بھیج دیا جبکہ امان اللہ خان اور مقبول بٹ کو ہائی جیکنگ کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔
امان اللہ خان کو گلگت جیل میں قید کر دیا گیا جہاں سے وہ 1972 میں رہا ہوئے جبکہ مقبول بٹ کو 1994 میں رہائی ملی۔ مقبول بٹ رہا ہونے کے بعد انڈیا کے زیرانتظام کشمیر چلے گئے جہاں وہ 1976 میں گرفتار ہو گئے۔
انڈین حکومت نے 11 فروری 1984 کو نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں مقبول بٹ کو پھانسی دے دی۔
اس کے بعد دسمبر 2001 میں انڈین پارلیمنٹ پر حملے کے بعد انڈین حکومت نے امان اللہ کا نام 20 مطلوب دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر دیا۔ 2002 میں امان اللہ نے کہا کہ اگر ’عالمی عدالت انصاف ان کے خلاف کوئی فیصلہ دیتی ہے تو وہ اپنے آپ کو انڈین حکام کے سامنے پیش کر دیں گے۔‘
اس کے بعد امان اللہ خان کا 26 اپریل 2016 کو 81 برس کی عمر میں راولپنڈی میں انتقال ہو گیا۔

1971 میں انڈین طیارے کی ہائی جیکنگ کا الزام جے کے ایل ایف پر لگا، فوٹو: سوشل میڈیا

یاسین ملک کون ہیں؟

یاسین ملک انڈیا کے ریرانتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے علیحدگی پسند رہنما ہیں وہ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین ہیں۔ وہ تین اپریل 1963 کو کشمیر میں پیدا ہوئے۔ نوجوانی سے ہی وہ کشمیر کو الگ اور آزاد حیثیت دینے کے لیے سرگرم ہیں۔
انہوں نے مسلح جدوجہد بھی کی اور بعدازاں سیاسی جدوجہد شروع کی جس کی وجہ سے وہ شروع سے ہی گرفتاریوں کا سامنا کرتے آ رہے ہیں۔
2009 میں انہوں نے پاکستانی آرٹسٹ مشال ملک سے شادی کی جن سے ان کی ملاقات چند سال قبل مشرف دور میں اس وقت ہوئی تھی جب دونوں ملکوں کے تعلقات میں کافی خوشگواری پیدا ہو گئی تھی اور دونوں اطراف سے وفود ایک دوسرے کے ملک کے دورے کر رہے تھے، ان ہی دنوں یاسین ملک پاکستان آئے تھے اور ایک تقریب میں مشال ملک سے ملاقت ہوئی۔
ان کی ایک بیٹی رضیہ سلطانہ بھی ہے۔
آخری بار یاسین ملک  کو 22 فروری 2019 کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا اور سات مارچ کو انہیں جموں کوٹ بلوال جیل منتقل کیا گیا۔ کچھ عرصے بعد ان کو تہاڑ جیل منتقل کر دیا گیا۔
جہاں سے ان کی صحت بگڑنے کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔ پانچ اگست کو جب انڈین حکومت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی تو اس وقت بھی یاسین ملک جیل میں تھے۔
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: