آج کی سعودی عورت زیادہ باشعور ہے

سعودی عرب میں خواتین آج سفر کے حوالے سے پریشانی کا شکار نہیں۔ فائل فوٹو اے ایف پی
عصرِ حاضر میں خواتین اپنے ماحول کو اپنے اندر سمو چکی ہیں۔ انہیں اپنی شناخت کو منوانے کا شدت سے احساس رہا اور ہے۔ زندگی کی سچائیاں جا ننا انہیں مقدم ہے۔ بحیثیت عورت وہ معاشرے کی اہم اکائی ہیں۔ زندگی کی گاڑی چلانے میں انہیں دوسرا پہیہ تسلیم کیا گیا ہے۔
جبکہ اب بھی کچھ کے نزدیک وہ ایک ٹھنڈے توے کی روٹی کی مانند ہے جسے بے دھیانی سے ادھر ادھر پلٹ کر اسے ٹکڑے ہونے سے کوئی نہیں بچاتا اور اسے چنگیر بھی میسر نہیں آتی۔ وہ ہاری ہوئی منہ تکتی رہ جاتی ہے لیکن یہ حقیقت اب تسلیم شدہ ہے کہ گلوبل ولیج کے بد لتے ہوئے حالات نے خواتین کو حقیقی شعور سے نوازا ہے۔ آئیے اس سلسلے میں آج ہم سعودی عرب میں خواتین کی بیداری کی کچھ بات کریں گے۔

سعودی عرب میں آج خواتین ہر شعبے میں کام کررہی ہیں۔ فائل فوٹو اردونیوز

یہ حقیقت ہے کہ ہر معاشرے کی عورت یکساں سوچ کی حامل ہے۔ وطن میں آنے والی تبدیلیوں سے ہم بہت خوش ہیں ۔سو چتی ہیں ہماری بزرگ جس طر ح کی زندگی گزارتی تھیں وہ اب سے کس قدر مختلف تھی۔ حالات سے سمجھوتہ ہما رے دین ِاسلام کا حکم ہے جو ہم نے اپنے بزرگوں سے سیکھا۔ اب والدین بھی ہماری مرضی کو اہمیت دیتے ہیں۔ اسی لئے خواتین کی بڑ ی تعداد اب تعلیم سے مستفید ہو رہی ہے ۔سعودی ابلاغ نے ہماری بیداری میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اپنے سب سے پہلے ہفتہ وار اخبار ام القریٰ جو 1924ء میں جاری ہوا تھا، کو ہم خراجِ تحسین پیش کرتی ہیں۔ اس کے بعد تو ہمیں بھی اس شعبے میں شامل کر لیا گیا ہے۔ سیٹلائٹ کی ترقی نے بھی ہمیں ہمارے حقوق دلوائے۔آج ہم ایک اچھی ماں ہونے کے سا تھ ساتھ گھر سے باہر بھی مختلف شعبوں سے ایک اعتماد کے ساتھ وابستہ ہیں۔ہم اپنی موجودہ زندگی سے مطمئن ہیں ۔ہمیں شوہروں کا اعتماد و تعاون حا صل ہے ۔سچ پو چھئے تو انہی کی بدولت ہم ترقی کی منازل طے کرتی چلی جارہی ہیں۔ ہم یقیناََشادی کو زندگی کا ایک اہم فیصلہ قرار دیتی ہیں لیکن اس سلسلے میں جلد با زی کی قائل نہیں۔ والدین بھی ہمارے ہم خیال ہیں۔ماضی میں ہماری آ راءکی کو ئی حقیقت نہیں تھی۔ آج کا مرد نہایت ذمہ دار ہو چکا ہے وہ اولاد کی تر بیت اور گھر کے سکون کو اپنی دلچسپیوں پر فوقیت دیتا ہے ۔ہم نے اپنی روایات کو بھی مقدم رکھا ہے ۔ہم مشترکہ فیملی سسٹم سے اب نہیں گھبراتیں۔ ساس اور نند کے تعاون پر خوش ہیں ویسے تالی تو دو نوں ہاتھوں سے ہی بجتی ہے۔ ہم بھی برداشت اور تعاون سے کام لیتی ہیں۔

لانگ ڈرائیو میں شوہر کی مدد گار بھی بنتی ہیں ۔ فائل فوٹو اردونیوز

ہمارے کلچر میں خاصا فرق آ چکا ہے ۔حالات کے مطابق ہم نے خود کو ڈھال لیا ہے۔ آج خواتین خوش ہیں کہ وہ مغربی خواتین سے ذیادہ حقوق یا فتہ ہیں کیو نکہ انہیں چادر اور چار دیواری کا تحفظ بھی حاصل ہے۔ ہمارے معاشرے نے ہمیں حقوق دئیے تو ہم نے انہیں مضبوطی سے تھام لیا ۔
آج سعو دی عورت بہت با شعور ہو چکی ہے۔تعلیم بھی عام ہے اکثر نے ہنستے ہوئے کہا ہماری کوشش ہوتی ہے کہ شوہر دوسری شادی نہ کرے کیو نکہ یہ ہر عورت کی خوشیو ں کی قا تل ہے ۔اسی لئے ہم بدلتے حالات کے مطابق خود کو ڈھال رہی ہیں۔ آج ہم با زار، مارکیٹ اور سیرو تفریح میں شوہروں کو ساتھ لےکر چلتی ہیں۔ حکو مت نے ہماری دیرینہ خواہش کی تکمیل کی۔آپ’یا سمین المیمنی‘ کا نام جا نتے ہی ہوں گے جس نے پہلی کمرشل پا ئلٹ کی حیثیت سے اپنی قابلیت کا لوہا منوایا،اسی طرح ’ریما بنت بندر آ لِ سعود‘ کو بیرسٹر ہونے کا اعزاز ہوا ۔ اب ہم خود ڈرائیونگ کرسکتی ہیں۔لانگ ڈرائیو میں شوہر کی مدد گار بنتی ہیں۔سفر میں بھی ہمیں ممکنہ حد تک سہو لتیں فراہم کرکے حکو متِ وقت نے ہمارے دل جیت لئے ہیں ۔
سعودی عرب میں خواتین آج اپنے ما ضی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مستقبل کو مزید بہتر بنانے کی جدو جہد میں ہیں۔ آج ان کی زندگی کا محور ٹیوی یا پارک کے کو نے میں بچوں کے جھر مٹ میں قہوہ کے گرد نہیں گھو متا۔ وہ اپنی زندگی کو مصروف رکھنا چا ہتیں ہیں۔ اسلامی حدود میں رہ کر وہ مردوں کے شانہ بشانہ چلنے کی متمنی ہیں ۔یہ خوش ہیں کہ ان کی حکومت نے ریکارڈ وقت میں ترقی کے اہداف پورے کرکے پوری دنیا کو حیرت ذدہ کردیا ہے۔ آئندہ وژن2030 ان کی آرزﺅں کی مزید تکمیل کا محور ہے۔
کالم اور بلاگز واٹس ایپ پر حاصل کرنے کے لیے ’’اردو نیوز کالمز‘‘ گروپ جوائن کریں

شیئر: