مارچ والوں کے پاس سولر پینل اور لمبی تیاری کا سامان کیوں؟

مارچ میں بظاہر مدرسے کے بچے نظر نہیں آرہے لیکن نوجوان کارکنان کی بڑی تعداد شریک ہیں۔ فوٹو روئٹرز
اس وقت جب آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہوں گے تو مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ اپنی پوری طاقت کے ساتھ لاہور سے اسلام آباد کی طرف گامزن ہوگا۔ مولانا 29 اور30 اکتوبر کی درمیانی رات لاہور پہنچے تو صحیح طرح سے اندازہ نہیں ہو سکا کہ لاہور میں داخل ہوتے وقت ان کے ساتھ افراد کی تعداد کتنی ہے۔
جب مولانا لاہور میں داخل ہوئے تو ان کے روٹ پر انٹرنیٹ سروس بوجوہ معطل رکھی گئی اس لئے حالات کا اندازہ نہیں ہو رہا تھا۔ آزادی مارچ کا لاہور کی حدود میں پہلا استقبال ٹھوکر نیاز بیگ پر کیا گیا جہاں مسلم لیگ ن کے کارکنوں کی خاطر خواہ تعداد موجود تھی۔ لیکن شاید اتنی نہیں تھی جتنی مولانا توقع کر رہے تھے۔

شہباز شریف نے ’آزادی مارچ‘ کا لاہور میں نہ استقبال کیا اور نہ ہی روانہ کیا۔ فوٹو اردو نیوز

شائد یہی وجہ تھی کہ انہوں نے گاڑی سے نکل کر مجمع سے مختصر خطاب کیا اور کارواں آگے بڑھ گیا۔ جب آزادی مارچ چوبرچی چوک پہنچا تو ماحول بدل گیا جہاں مسلم لیگی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد مولانا کے استقبال کے لئے موجود تھی۔ رات ساڑھے تین بجے لاہوری ’ٹچ‘ کے استقبال نے مولانا کی تھکن کم کر دی اور یہ بات اب ان کے چہرے سے عیاں تھی۔ مولانا ایک بار پھر رکے اور اپنا استقبال کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا اور ان کے خطاب میں اب قدرے سختی تھی۔ انہوں نے کہا ’میں لاہور پہنچ چکا ہوں میرے اسلام آباد پہنچنے سے پہلے وزیراعظم استعفیٰ دے دیں تو یہ سب کے لئے بہتر ہو گا۔‘ تقریبا ساڑھے چار بجے ’آزادی کارواں‘ مینار پاکستان پہنچا جس کے بعد کارکنوں کو آرام کا موقعہ ملا۔
بدھ سہ پہر دو بجے آزادی مارچ نے لاہور سے روانہ ہونا تھا۔ لیکن اس وقت بھی یہ تجسس برقرار تھا کہ مولانا کے ساتھ اس وقت کتنی تعداد میں کارکنان اس ’آزادی مارچ‘ کا حصہ بن چکے ہیں۔ ایک بجے کے لگ بھگ جب مینار پاکستان کا رخ کیا تو ابھی کارکنان سستا رہے تھے۔ لاری اڈے سے داتا دربار تک سڑک کے ایک طرف تین قطاروں میں بسیں، گاڑیاں اور ٹرک ایک ترتیب سے لگائے گئے تھے۔ بظاہر دو سے اڑھائی کلومیٹرز کے ایک علاقے میں شو اتنا متاثر کن نہیں تھا۔ بڑی تعداد میں لاہور کے شہری ’آزادی مارچ‘ دیکھنے کے لئے آئے ہوئے تھے اور دلچسپ تبصرے کر رہے تھے۔
 
مارچ میں شامل تقریبا تمام گاڑیوں پر ترتیب اور سلیقے سے نمبر لگائے گئے تھے اور 90 فیصد گاڑیوں کے رجسٹریشن نمبر بلوچستان اور سندھ کے تھے۔ لاہور کے ایک شہری حسیب، جو خصوصی طور پر ’آزادی مارچ‘ دیکھنے کے لئے آئے ہوئے تھے، کا کہنا تھا ’بھائی یہ آزادی مارچ نہیں یہ تو کچھ اور ہی ہے۔ دیکھیں ہر گاڑی پر جتنا سامان ہے جس میں کپڑے، راشن، لکڑیاں اور چولہے ہیں یہ سب مارچ کے لئے نہیں ہے۔‘
حسیب کی بات میں اس لیے بھی وزن تھا کہ اس سازو سامان میں جو ایک چیز تقریبا ہر گاڑی میں نظر آئی وہ تھے سولر پینل یعنی ’آزادی مارچ‘ کے شرکاء اپنی توانائی کی ضروریات میں بھی خود کفیل ہیں۔
’آزادی مارچ‘ کے ایک کارکن رستم خان جو پہلی دفعہ لاہور آئے تھے جب ان سے پوچھا کہ وہ آزادی مارچ میں کیوں شریک ہیں اور آگے کے کیا ارادے ہیں؟ تو ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں نہیں پتا کہ آگے کے کیا ارادے ہیں ہمیں تو بس اتناحکم ملا کہ لمبی تیاری کرکے اسلام آباد جانا ہے اور ہم نے حکم کی تعمیل کی۔‘
لاہور کے آزادی چوک کے ساتھ پل پر کھڑے ہو کر رستم خان کا کہنا تھا ویسے لاہور جتنا خوبصورت ہے اب ہمیں سمجھ آیا کہ میاں صاحب کو ادھر سے ووٹ کیوں ملتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے شکوہ کیا کہ آج پنجاب کے لوگوں کو میاں نواز شریف کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تھا اور کمال ہوتا اگر ن لیگ بھی آج اسی طرح نکلتی۔

قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ایک اہلکار کے مطابق مارچ میں 70 ہزار تک افراد شریک ہیں۔ فوٹو اردو نیوز

یہ شکوہ صرف رستم خان کا نہیں تھا جب مولانا فضل الرحمن ’آزادی مارچ‘ کو لیڈ کرنے کے لیے پنڈال میں پہنچے اور انہوں نے تقریر کی جس میں انہوں نے کہا کہ ’ہم ان لوگوں کے شکر گزار ہیں جنہوں نے استقبال کیا ہم انہیں اپنے مارچ میں شریک تصور کرتے ہیں اگرچہ ان کے حالات انہیں ہمارے ساتھ چلنے میں آمادہ نہیں کر سکے۔‘
سب سے اہم بات بھی شاید یہی تھی کہ مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف جنہوں نے مولانا کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں ’آزادی مارچ‘ کی حمایت کی تھی، لیکن اسی ’آزادی مارچ‘ کے لاہور پہنچنے پر نہ تو خود اس کا استقبال کیا نہ ہی اسے روانہ کیا۔ دوسری طرف مارچ کے بیشتر شرکا ایک ہاتھ میں نواز شریف کی تصاویر کے پوسٹر اٹھائے ہوئے تھے اور دوسرے ہاتھ میں جمعیت کا سفید سیاہ دھاریوں والا پرچم بھی اٹھایا ہوا تھا۔
 
مولانا کی تقریر کے بعد ’آزادی مارچ‘ کو اسلام آباد کی طرف کوچ کرنے کا حکم ملا تو مولانا فضل الرحمان کنٹینر پر سوار سب سے آگے تھے۔ جیسے جیسے آزادی کاروان لاہور سے نکلنا شروع ہوا صورت حال بدلتی چلی گئی کیونکہ تقریبا ڈیڑھ گھنٹے تک مارچ کی گاڑیاں نکلتی ہی رہیں جس سے یہ اندازہ ہوا کہ مولانا کا یہ مارچ انتہائی منصوبہ بندی اور نظم و نسق سے رواں دواں ہے اور قافلے کے مختلف حصوں کو شہر کے مختلف حصوں میں پڑاو کروایا گیا تھا جبکہ قافلے کا اگلا حصہ صرف لاری اڈے اور داتا دربار کے درمیان تھا۔
ساتھ ہی کھڑے قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ایک اہلکار سے جب پوچھا کہ ان کے نزدیک کتنے افراد ہیں تو ابتدا میں ان کا کہنا تھا کہ ان کے مشاہدے کے مطابق  20 سے 25 ہزار افراد شریک ہیں۔ لیکن جب مارچ چلنا شروع ہوا اور اس کا ایک سرا شاہدرہ اور دوسرا سرا ابھی سامنے نہیں آیا تھا تو ایک دفعہ پھر ان سے پوچھا کیونکہ اب تک گاڑیاں گزرتے کافی وقت ہو چکا تھا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ جلوس 60 سے 70 ہزار کے قریب ہے۔ اور سب سے اہم بات یہ کہ کیا مولانا مدرسے کے بچوں کو ’آزادی مارچ‘ میں لا رہے ہیں شاید یہ مبالغہ آرائی ہے کیوں کہ بظاہر مدرسے کے بچے نظر نہیں آرہے، ہاں لیکن نوجوان کارکنان کی ایک بڑی تعداد ضرور اس مارچ کا حصہ ہے۔
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: