ہربنس آبائی گھر لوٹے تو سب بدل گیا تھا

سنہ 1947 میں تقسیم ہندوستان کے وقت ہربنس سنگھ کی عمر 17 برس تھی۔ وہ ایک سرکاری سکول میں دسویں جماعت کے طالب علم تھے اور سکول سے فراغت کے بعد ان کا زیادہ تر وقت اپنے ہم عمر دوستوں کے ساتھ کھیل کود میں گزرتا تھا۔
ان کی سب سے پہلی محبت اپنی جنم بھومی یعنی گاؤں تھا اور پھر وہ دوست جن کے ساتھ وہ دن رات گزارتے تھے مگر پھر ایک دن بٹوارے کی لکیر نے ان کی محبت کو سرحدوں میں تقسیم کر دیا۔
ہربنس سنگھ کے بقول 'ہم جانا نہیں چاہتے تھے، مگر حالات ایسے بنے کہ جانا پڑا، جانے پر مجبور کیا گیا ورنہ اپنا دیس کون چھوڑتا ہے مگر مرنے سے پہلے میں اپنے بچپن کی یادیں تازہ کرنا چاہتا ہوں، وہ یادیں جن سے نفرت نہیں بلکہ آج بھی محبت کی خوشبو آتی ہے۔'

'چل پھیر کھوہ والے چوک لے چل مینوں۔' ہربنس سنگھ کے یہ کہنے پر بزرگ ان کا کانپتا ہوا ہاتھ تھام لیتے ہیں۔ فوٹو: اردو نیوز

ہربنس ان دنوں اپنی بیٹی کلبیر اور داماد دھرم پال سنگھ کے ہمراہ امریکہ کی ریاست کیلیفورینا سے بابا گرونانک کے 550 ویں جنم دن کی تقریبات میں شرکت کے لیے پاکستان آئے ہوئے ہیں۔
انہیں انڈیا اور پاکستان کے درمیان کرتار پور راہداری کھلنے کی بےحد خوشی ہے۔ تاہم وہ پنجاب کے ضلع فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ کے نواحی شہر کھڑانوالہ کے گاؤں 194 ر- ب 'سکھاں دا لاٹھیانوالہ' کو دیکھے اور اپنے دوست محمد شریف کو ملے بغیر واپس نہیں جانا چاہتے۔
اسی مقصد کے لیے وہ لگ بھگ 200 کلومیڑ کا طویل سفر طے کرکے کرتار پور سے براستہ ننکانہ صاحب جڑانوالہ پہنچے ہیں۔ اپنے گاؤں تک پہنچنے کے لیے انہوں نے جو پاپڑ بیلے ہیں وہ ایک الگ کہانی ہے۔ 
 
جب ان کی گاڑی لاٹھیانوالہ کی مرکزی سڑک پر رکتی ہے تو وہ گاڑی سے اترتے ہوئے دریافت کرتے ہیں کہ 'ایہہ ہے میرا پنڈ؟ ایہہ تے بوہت بدل گیا؟' ادھر سے ایک سفید داڑھی والے بزرگ انہیں بغل گیر کرتے ہوئے جواب دیتے ہیں کہ 'ہاں سردارا ایہی اے تیرا پنڈ۔ ایہی اے سکھاں دا لاٹھیانوالہ۔ جی آیا نوں۔'
'چل فیر کھوہ والے چوک لے چل مینوں۔' ہربنس سنگھ کے یہ کہنے پر بزرگ ان کا کانپتا ہوا ہاتھ تھام لیتے ہیں اور بازار میں چلنے لگتے ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے بازار نوجوانوں، بوڑھوں، بچوں اور خواتین سے بھر جاتا ہے، سب کے چہروں پر ایک عجیب سی خوشی ہے، ویسی ہی خوشی جو سالوں بعد کسی رشتے دار کے ملنے پر ہوتی ہے۔
لوگ آتے ہیں، ملتے ہیں، سلیفی لیتے ہیں مگر ہربنس سنگھ کی زبان پر ایک ہی سوال رہتا ہے۔ 'میرا گھر کتھے، ساڈی حویلی پنڈ دی سبھ توں وڈی حویلی سی؟' 'کھوہ والے چوک' میں پہنچ کر مشرق کی طرف نکلتی ایک گلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہیں ایک شخص بتاتا ہے کہ گاؤں میں فلاں حویلی سب سے بڑی تھی۔
ہربنس سنگھ وہاں پہنچتے ہیں مگر یہ دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں کہ حویلی کی جگہ اب ایک عالی شان دو منزلہ عمارت نے لے لی ہے جو مقامی زمینداروں کی ملکیت ہے۔
'یہاں ایک کنواں ہوا کرتا تھا، اس کے درمیان میں ایک چھوٹی سی پردہ نما دیوار تھی۔ ہم لڑکے لڑکیاں اس میں نہایا کرتے تھے۔ کیا یہیں تھا کنواں؟' ہربنس سنگھ سوال کرتے ہیں جس کا جواب مالک مکان اثبات میں دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ 'ہم نے اس کنوے کو مٹی ڈال کر بند کر دیا تھا، اب کنوؤں سے پانی کون بھرتا ہے۔'

'آج اپنے بچپن کی مٹی سے مل کر بہت خوشی ہوئی ہے۔ اپنا گھر دیکھ کر یوں لگا جیسے میں آج دوبارہ پیدا ہوا ہوں۔‘ فوٹو: اردو نیوز

'کنویں صرف پانی بھرنے کے لیے نہیں ہوتے۔' ہربنس سنگھ یہ کہتے ہوئے دیوار کو دیکھنے لگتے ہیں۔ ایسے میں انہیں ایک نواجوان بازو سے پکڑ کر گھر کے ڈرائنگ روم میں لے جاتا ہے جہاں ہربنس فیملی کے آنے کی خوشی میں مٹھائی تقسیم کی جاتی ہے۔
ہربنس سوال کرتے ہیں کہ 'محمد شریف کا کسی نے نہیں بتایا اب تک۔ محمد شریف کے پوتے خوشی محمد جواب دیتے ہیں کہ 'بابا جی! ہمارے بزرگ تقریباً 10 سال قبل وفات پاگئے تھے۔' یہ کہتے ہوئے وہ ہربنس کو گلے بھی ملتے ہیں جس پر ہربنس سنگھ ایک لمبی آہ بھرتے ہوئے تھوڑا جذباتی ہو جاتے ہیں مگر شاید لوگوں کے رش کی وجہ سے جلد ہی اپنے جذبات پر قابو پا لیتے ہیں۔

اپنے گاؤں تک پہنچنے کے لیے ہربنس سنگھ نے جو پاپڑ بیلے ہیں وہ ایک الگ کہانی ہے۔ فوٹو: اردو نیوز

مقامی لوگوں کی طرف سے ان کو تحفے کے طور پر کپڑے دیے جاتے ہیں جبکہ ان کے بیٹی اور داماد جس گھر میں بھی جاتے ہیں 20 ڈالر کا نوٹ دے کر باہر نکلتے ہیں۔ یہ تمام منظر دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آج لاٹھیانوالہ میں کوئی میلہ لگا ہوا ہو اور اس کے مہمان خصوصی ہربنس سنگھ ہوں۔
72 سال بعد اپنا آبائی گاؤں دیکھنے اور مقامی لوگوں سے ملنے کے حوالے سے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے ہربنس سنگھ کہتے ہیں کہ 'آج اپنے بچپن کی مٹی سے مل کر بہت خوشی ہوئی ہے۔ اپنا گھر دیکھ کر یوں لگا جیسے میں آج دوبارہ پیدا ہوا ہوں۔ جو خواہش 72 سال سے دل میں دبا کر رکھی ہوئی تھی وہ آج پوری ہوگئی ہے۔ میں سب کی محبتوں پر بہت خوش ہوں۔'

ہربنس سنگھ نے ہاتھ جوڑے اور یہ کہتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گئے کہ 'فیر کیہنے ویکھی اے؟'۔ فوٹو: اردو نیوز

انہوں نے مزید کہا کہ تقسیم ہند کے نتیجے میں سب سے زیادہ نقصان پنجاب کا ہوا۔ 'پنجاب کو درمیان سے کاٹ دیا گیا، آدھا پنجاب ادھر رہ گیا اور آدھا اُدھر چلا گیا۔ اگر دونوں ملک جرمنی کی طرح آپس میں ملنا شروع کر دیں تو پنجاب ایک ہی ہے۔'
محمد شریف کے پوتے خوشی محمد نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج وہ بہت خوش ہیں، سکھوں کے آنے جانے کا یہ سلسلہ لگا رہنا چاہیے۔ 'یہ بھی ادھر آتے رہیں اور ہمارا بھی دل کرتا ہے کہ ہم ادھر جائیں۔ اب تقسیم کو بہت عرصہ ہوگیا، نفرتیں دور ہو جانی چاہئیں۔'
ہربنس سنگھ گاؤں سے واپسی کے لیے گاڑی میں بیٹھنے کے لیے گیٹ کھولتے ہیں تو ہاتھ میں تسبیح لیے پاس کھڑے ایک بزرگ نے جذباتی انداز میں ان سے کہا 'سردار جی وعدہ کرو فیر آؤ گے، تسی اپنے اپنے لگے او۔'
ہربنس سنگھ نے ہاتھ جوڑے اور یہ کہتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گئے کہ ’فیر کیہنے ویکھی اے؟‘
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: