ممتا کُلکرنی کو ’پٹوارن‘ کہہ سکتے ہیں؟

جب تک ذہن نہ بدلیں فقط نام کی تبدیلی سے کچھ نہیں ہوتا
ایک وقت تھا جب ہر شہر کی اپنی پہچان تھی۔ پشاور کی چپل اور چپلی کباب۔ لکھنؤ کے بانکے اور نواب، علیگڑہ کے تالے، دلی کے دل والے، شکار پور کا اچار اور باڑے کے ہتھیار غرض باتوں اور سوغاتوں کا جہان آباد تھا۔ پھر ایک صبح پتا چلا کہ یہ جہان ’عالمی گاؤں‘ بن چکا ہے۔ سو ’بدایوں‘ کے پیڑے ’مردان‘ میں اور ’کراچی کی مشہور پشاوری آئس کریم‘ لاہور میں ملنے لگی۔ ایک زمانے میں ’میرٹھ‘ کا کباب پراٹھا مشہور تھا پھر اسماعیل میرٹھی مشہور ہو گئے۔ میرٹھ ہی سےحفیظ میرٹھی بھی ہیں جو کہہ گئے ہیں:
اس سے ذہنوں کی بلندی کا پتا چلتا ہے
نام ذرّوں کے تم اپنے مہ و اختر رکھنا
کام اگر نام کے برعکس ہو تو محاورے میں اسے ’ آنکھوں کا اندھا نام نین سُکھ‘ کہتے ہیں۔ یہ بات ہمیں جس تقریب سے یاد آئی اس کا تعلق وزیراعلیٰ پنجاب کے ایک فیصلے سے ہے جس کے مطابق ’ پنجاب میں ’پٹواری‘ اب ’ولیج آفیسر‘ کہلائے گا ‘۔
تاریخی طور پر پٹواری نظام کا آغاز شیر شاہ سوری کے عہد سے ہوا، جو آج تک برقرار ہے۔ لغت کے مطابق: ’گاؤں کی زمینوں کا حساب رکھنے والا سرکاری ملازم جو پیداوار کی کمی بیشی اور جمع و خرچ کا حساب رکھے اور ہر کھیت کی پیمائش، لگان، زمین کی قسم، مالک اور کاشت کار کے نام وغیرہ کا رجسٹر تیار کرے اور ریکارڈ رکھے‘ پٹواری کہلاتا ہے۔
لفظ ’پٹواری‘ دو لفظوں ’پٹ‘ اور ’وار‘ سے مل کر بنا ہے۔ یقین سے نہیں کہا جاسکتا مگر امکان یہی ہے کہ اس ’پٹ‘ کی اصل ’پٹّا ‘ ہے جو ہندی زبان میں ’اس دستاویز کو کہتے ہیں جو کاشتکار مالک زمین کو اجارہ سے متعلق لکھ کر دیتا ہے‘۔ اس کے علاوہ’ ٹھیکیداری کی ہر قسم کی دستاویز اور سند ‘ بھی اس تعریف میں داخل ہے۔رہی بات ’وار‘ کی تو وہ یہاں بطور صفت یا نسبت آیا ہے اور اس کے معنی ’صاحب یا والا‘ ہیں۔ مثلاً امیدوار، قصور وار اور سوگوار وغیرہ۔
یوپی (بھارت) میں پٹواری کو ’ادھیکاری‘ یعنی ’مجاز افسر‘ اور’لیک پال‘ بھی کہتے ہیں۔ سنسکرت میں ’لیک‘ کے معنی ’حساب کتاب‘ اور ’پال‘ کے معنی ’نگہداشت اور دیکھ بھال‘ کے ہیں ۔یوں ’لیک پال‘ کو ہم ’افسرِ حسابات‘ کہہ سکتے ہیں۔ راجستھان میں پٹواری کو ’حکیم صاحب‘ کہتے ہیں۔
مہاراشٹر اور کرناٹکا (انڈیا) میں پٹواری کے لیے لفظ ’ کُلکرنی‘ بولا جاتا تھا۔ یہی ’کُلکرنی‘ بعد میں خاندانی نام (family name) کی صورت اختیار کر گیا۔ اداکارہ ’ممتا کُلکرنی‘ کا تعلق بھی اسی برادری سے ہے یوں انہیں ’ممتا پٹوارن‘ بھی کہہ سکتے ہیں۔

نام میں کیا رکھا ہے۔ فائل فوٹو: سوشل میڈیا

عہدے، کاروبار اور کسی علاقے کی نسبت  سے ’خاندانی نام ‘ رکھنا عام بات رہی ہے۔ اسے آپ ’چودھری‘ ، ’قاضی‘، ’موتی والا‘ اور ’نینی تال والا‘ وغیرہ جیسے ’خاندانی ناموں‘ میں دیکھ سکتے ہیں۔
دیہی علاقوں کے نیم خواندہ اور ناخواندہ لوگوں کے درمیان پٹواری غیر معمولی اختیارات کا حامل ہوتا ہے۔ اس رعایت سے پنجاب میں پٹواری کو ’پنڈ دی ما‘ یعنی ’گاؤں کی ماں‘ بھی کہتے ہیں۔ جس کے ’منڈے‘ کے کرتوت میڈم نورِ جہاں گِنوا چکی ہیں:
دوروں دوروں انکھیاں مارے منڈا پٹواری دا
چوری چوری کردا اشارے منڈا پٹواری دا
پٹواری مزاجاً بہت کایاں ہوتے ہیں بقول رشید احمد صدیقی:  ’ گھاگ ہونے کے اعتبار سے ایک پٹواری کا درجہ کسی سفیر سےکم نہیں۔ بشرطیکہ سفیر خود کبھی پٹواری نہ رہ چکا ہو‘۔
پٹواری کا ’دفتر‘ پٹوار خانہ کہلاتا ہے جہاں حسب ضابطہ کام نکلوانا پتھر کو جونک لگانے جیسا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پٹواریوں کے فیصلوں سے متعلق لاکھوں مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ پاکستان میں لفظ ’پٹواری‘ ایک درجے میں بدعنوانی کا مترادف ہو کر سیاسی اصطلاح  بن چکا ہے۔بقول نذیر جالندھری:
صبر کی رشوت مانگ رہی ہیں
ساجن کی پٹواری آنکھیں  
حاصل اس طول طویل بحث کا یہ ہے کہ پٹواری کو ’ولیج آفیسر‘ کہنے سے زمینی حقیقت بدل جائے تو کیا ہی کہنے ہیں۔ مگر اب تک دیکھا یہی گیا ہے کہ جب تک ذہن نہ بدلیں فقط نام کی تبدیلی سے کچھ نہیں ہوتا۔ ’کم ذات‘ سمجھے جانے والے کتنے ہی طبقات کو باعزت مقام دلانے کے لیے ان کے نام بدلے گئے مگر پرنالا وہیں گرتا رہا۔ اس حوالے سے ’ہلاک خور‘ سے ’حلال خور‘ بننے والوں کا حال تو ہم پہلے بیان کرچکے ہیں۔ اب ’مُصلِّی ‘ کا قصہ سنیں۔

پٹواری کو ’ولیج آفیسر‘ کہنے سے زمینی حقیقت بدل جائے تو کیا ہی کہنے ہیں۔ فائل فوٹو: پکسابے

ہندوؤں کے درمیان نیچ ذات کہلائے جانے والے یہ لوگ جب دامن اسلام سے وابستہ ہوئے تو انہیں ’مُصلّی ‘ پکارا گیا۔ ’مُصلّی ‘ کا لفظ ’صلوٰۃ‘ سے ہے اور اس کے معنی ’نمازی‘ کے ہیں۔ مگر اتنا خوبصورت ’ٹائٹل‘ بھی انہیں خود مسلمانوں کے درمیان وہ عزت نہیں دلوا سکا جو ایک عام مسلمان کا حق ہے۔ بلکہ اُلٹا یہ ہوا کہ لفظ ’مُصلّی‘ اہانت، ذِلت اور حقارت کا مترادف ہو گیا۔ آج بھی کسی کو ’نیچ‘ کہنا ہو تو اسے ’مُصلّی ‘ کہہ کر ارمان پورا کرتے ہیں۔
بات ’حلال خور‘ اور ’مُصلّی‘ تک محدود نہیں، پارچہ باف کو ہمارے معاشرے میں ’کم ذات‘ گردانتے اور جولاھا پکارتے رہے ہیں۔ ماضی میں ان لوگوں کے لیے ’نورباف‘، ’مومن‘ اور ’انصاری‘ جیسے نام تجویز ہوئے مگر بے سود رہے۔ زیر بحث موضوع کی رعایت سے اخلاؔق بندوی کا شعر ملاحظہ کریں:
نام کا عکس بھی آئینۂ کردار میں رکھ
نام اخلاقؔ سہی نام میں کیا رکھا ہے
ولیئم شیکسپیئر بھی ایسا ہی کچھ کہہ گئے ہیں کہ: ’ نام میں کیا رکھا ہے۔ گلاب کو کسی اور نام سے پکاروں تو بھی اس کی خوشبو ویسی ہی دلکش رہے گی‘۔
شیکسپیئر کی باتیں علامہ اقبال کو بھا گئی تھیں جب ہی تو انہوں نے اسے فطرت کا رازدان کہا تھا:
حفظِ اسرار کا فطرت کو ہے سودا ایسا
راز داں پھر نہ کرے گی کوئی پیدا ایسا

 

شیکسپیئر کی رعایت سے ’گلاب‘ کا ذکر آ گیا ہے تو عرض ہے کہ ہمارے یہاں دانا اسے ’گلاب کا پھول‘ بھی کہہ دیتے ہیں۔ جب کہ ’ گلاب‘ کے نام کا پہلا جُز ’گل‘ اس کے پھول ہونے کا واشگاف اعلان ہے۔ پوچھا جا سکتا ہے کہ ’گلاب‘ کا دوسرا جُز’ آب‘ کس بات کی نشاندہی کر رہا ہے؟
عرض ہے کہ جسے ہم ’ گلاب‘ کہتے ہیں فارسی میں وہ خالی خولی ’ گُل ‘ ہے۔ تاہم اسے ’گلِ سُرخ‘ بھی کہتے ہیں۔ اور اگر یہ ’سرخ‘ نہ ہوتو کیا کہتے ہیں اس بارے میں اہل زبان خاموش ہیں۔
اس ’ گُل ‘ کا عرق ’ گلِ + آب = گلاب‘ کہلاتا ہے مگر ہمارے یہاں پھول کا نام ہی ’ گلاب‘ ہوگیا جب کہ عرق کو ’عرقِ گلاب‘ کہتے ہیں۔
لفظ جب ایک زبان سے دوسری زبان میں جاتے ہیں تو کبھی کوئی ایک یا زیادہ حرف اُس زبان کے قریبی حرف سے بدل جاتے ہیں۔ جیسے ہندی کا ’ اُچ ‘ (اونچا) عربی میں ’اوج‘ ہوگیا یا پھر فارسی کا ’ در‘ (دروازہ) انگریزی میں Door ہوگیا ہے۔ ایسا ہی کچھ ’ گلاب‘ کے ساتھ ہوا جو عربی میں ’جُلّاب‘ بن گیا مگر ’عرقِ گلاب‘ کے معنی میں نہ کہ پھول کے معنی میں۔
چوں کہ ’جلّاب‘ یعنی ’عرق گلاب‘ دست آور ہوتا ہے اس لیے بعد میں ’دست‘ ہی کو جلّاب کہنے لگے یوں جو چیز معطر تھی وہ مُکدّر بنا دی گئی۔ سچ ہے ’بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے‘۔

کالم اور بلاگز واٹس ایپ پر حاصل کرنے کے لیے ’’اردو نیوز کالمز‘‘ گروپ جوائن کریں

شیئر: