نواز شریف علاج کے لیے لندن پہنچ گئے

پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف علاج کے لیے لاہور سے قطر ایئر ویز کے ایئر ایمبولینس کے ذریعے براستہ دوحہ لندن پہنچ گئے۔ 
نواز شریف منگل کی رات لندن کے ہیتھرو ایئر پورٹ سے اپنے صاحبزادے حسین نواز کی رہائش گاہ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس پہنچے جہاں ان کا قیام ہو گا۔
نواز شریف کی آمد کے موقع پر مسلم لیگ ن کے کارکن بھی ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کے باہر پہنچ گئے۔
اس سے قبل نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان جو ان کے ساتھ ایئر ایمبولینس میں سفر کر رہے تھے نے ٹویٹ کی کہ ’سابق وزیر اعظم نواز شریف کو لے کر قطر ایئرویز کا ایئر ایمبولینسMEDA7-  بحفاظت ہیتھرو ائیر پورٹ لینڈ کر گیا ہے۔‘
نواز شریف کی آمد کے بعد لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ’نواز شریف کے علاج کا پہلا مرحلہ برطانیہ میں ہو گا، ضرورت ہوئی تو علاج کے لیے کہیں بھی جایا جا سکتا ہے۔‘

حسین نواز کا کہنا ہے کہ ان کے والد کی بیماری کو سیاسی ایشو نہ بنایا جائے، فوٹو: سوشل میڈیا

’نواز شریف کی دونوں اوپن ہارٹ سرجریاں برطانیہ میں ہی ہوئیں، رائے ونڈ کی طرح ایوان فیلڈ میں بھی خصوصی آئی سی یو قائم کیا گیا ہے۔‘
سابق وزیراعظم کے صاحبزادے حسین نواز نے لندن میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کے والد کا علاج کہاں ہو گا وہ اسے منظر عام پر نہیں لانا چاہتے۔‘
’کوشش ہو گی کہ والد کی بیماری اور علاج کو سیاسی ایشو نہ بنایا جائے۔‘
حسین نواز کا کہنا تھا کہ ’نواز شریف کے پلیٹ لیٹس میں کمی پر انہوں نے سلو پوائزن کا خدشہ ظاہر کیا تھا اور اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔‘
اس سے قبل  لاہور سے روانگی کے موقع پر مسلم لیگ ن کی سینیئر قیادت نے لاہور ایئرپورٹ پر سابق وزیراعظم کو رخصت کیا۔
نواز شریف کو منگل کی صبح ان کی رہائش گاہ رائے ونڈ سے ایمبولینس میں لاہور ایئرپورٹ پہنچایا گیا تھا۔
مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے ایک بیان میں کہا تھا کہ روانگی سے قبل سابق وزیراعظم کا طبی معائنہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ’سفر پر روانگی سے قبل ڈاکٹروں نے نواز شریف کا تفصیلی طبی معائنہ کیا اور خطرات سے بچانے کے لیے سٹیرائڈ کی ہائی ڈوز اور ادویات دی گئیں۔‘ ترجمان نے کہا کہ نواز شریف کو لے جانے والی ایئر ایمبولینس اپنے سفر کے دوران قطر میں ری فیولنگ اور طبی عملے کی تبدیلی کے لیے رکے گی۔ ’قطر میں مختصر قیام کے دوران نواز شریف کا دوبارہ طبی معائنہ ہوگا۔‘
مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے پیر کو رات گئے اپنے بیان میں کہا تھا  کہ ’نواز شریف صحت مند ہو کر واپس لوٹیں گے، قوم اور کارکن ان کا استقبال کریں گے۔‘
مزید پڑھیں
مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کے مطابق سابق وزیراعظم کو لاہور سے لندن لے جانے کے لیے ایئر ایمبولینس قطر آئی۔
پارٹی ترجمان کے مطابق نواز شریف کے ہمراہ ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان اور شہباز شریف بھی لندن گئے ہیں۔
شہباز شریف نے اپنے بیان میں کارکنوں سے کہا ہے کہ وہ ائیر پورٹ پر آنے کے بجائے سابق وزیراعظم کے لیے دعا کریں۔
نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے پیر کو اپنے ٹویٹ میں لکھا تھا کہ ایئر ایمبولینس میں ڈاکٹروں کی ٹیم بھی ان کے ہمراہ ہوگی جبکہ ضروری طبی آلات اور آپریشن تھیٹر کی سہولت بھی میسر ہوگی۔ 
پیر کو وزارت داخلہ نے سابق وزیراعظم نوازشریف کو علاج کے لیے بیرون ملک سفر کرنے کی اجازت دینے کا نوٹی فیکیشن جاری کیا تھا۔ نوٹی فیکیشن کے مطابق سابق وزیراعظم کو علاج کی غرض سے ایک بار بیرون ملک سفر کرنے کی مشروط اجازت دی گئی ہے۔

شہباز شریف نے کارکنوں سے کہا کہ وہ ایئر پورٹ آنے کے بجائے نواز شریف کے لیے دعا کریں۔ فوٹو: اے ایف پی

نواز شریف کو بیرون ملک سفر کی اجازت کا نوٹی فیکیشن وزارت داخلہ نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں جاری کیا۔
سنیچر کو لاہور ہائیکورٹ نے شہباز شریف کی درخواست پر فیصلے سناتے ہوئے سابق وزیراعظم کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی۔
وزارت داخلہ کے نوٹی فیکیشن کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف کی جانب سے عدالت میں جمع کرائے گئے بیان حلفی پر اجازت دی گئی ہے۔
عدالت نے سابق وزیراعظم نوازشریف کو چار ہفتے تک بیرون ملک رہنے کی اجازت ہے تاہم ان کی وطن واپسی ان کی صحت کی بحالی سے مشروط ہے۔
لاہور ہائی کورٹ میں جمع کرائے گئے بیان حلفی کے مطابق بھی ڈاکٹروں کے مشورے کے بعد ہی سابق وزیراعظم پاکستان واپس آئیں گے۔

شیئر: