ٹی10: ’سعودی عرب کے لیے میرا خواب‘

اسے اپنی آنکھوں میں سجائے دور تک جاؤں گی۔ فائل فوٹو: ٹی ٹین لیگ
توقع کے عین مطابق اعلیٰ پیمانے پر منعقد کی گئی ’الدار پراپرٹیز ابو ظہبی ٹی 10‘  کرکٹ لیگ زبردست کامیابی سمیٹ کر ختم ہوئی۔ ہم دبئی کو ایک برانڈ کے طور پر جانتے ہیں، لیکن یہ ماننا  پڑے گا کہ 90 منٹ کے فارمیٹ پر مبنی اس کرکٹ ایونٹ نے دبئی کے علاوہ ابو ظہبی کی طرف بھی عالمی توجہ مبذل کرائی ہے۔
میں وہاں میڈیا مبصر اور سعودی شائق کرکٹ کی حیثیت سے مدعو تھی۔ ٹورنامنٹ دیکھ کر دس اوورز کے اس نئے بین الاقوامی منظور شدہ کرکٹ فارمیٹ کے نتائج و اثرات سے متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکی۔
کرکٹ کے پرستاروں کی خوشنودی کے لیے ٹی ٹین نامی یہ تبدیل شدہ فارمیٹ دراصل ’ٹی ٹین مینیجمنٹ گروپ‘ کے بانی و چئیرمین شجیع الملک کا آئیڈیا قرار دیا جاتا ہے۔ میں تواپنے دیس سعودی عرب میں کرکٹ کی ترقی کے لیے اس نئی وضع کے کرکٹ  فارمیٹ کا جائزہ لینے کی متمنی تھی کیونکہ یہ  فارمیٹ میرے ہم وطنوں کے رجحان سے زیادہ میل کھاتا ہے۔

مختصر فارمیٹ کی کرکٹ نے جلد مقبولیت حاصل کی۔

سعودی عرب میں عوام فٹ بال کے عادی ہیں جو 45 منٹ کے دو مختصر دورانیوں پر مبنی دلچسپ کھیل ہے۔ اسی طرح  ٹی ٹین کے جلد نتیجہ خیز ہونے والے میچ کی ایک اننگز بھی تقریبا 45 منٹوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ چنانچہ دونوں مدمقابل ٹیمیں 90 منٹ کا کھیل پیش کرکے بالکل کسی فٹ بال میچ کے 90 منٹ کے دورانئیے کی طرح ہی اپنے شائقین کو محظوظ کر سکتی ہیں۔

 

اس جدید فارمیٹ کے طرز پر ہی ہم بھی مملکت سعودی عرب میں ترتیب وار حکمتِ عملی کے تحت سعودی کھلاڑیوں کو تربیت دے سکتے ہیں۔ نیز یہ مختلف پلیٹ فارمز پر سعودی کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی و فروغ میں مدد بھی دے سکتا ہے۔ البتہ ہمارا اصل مقصد سعودی عرب میں کرکٹ کا فروغ اور سعودی کھلاڑیوں کی بہبود و تحفظ ہونا چاہیے۔ نجی کرکٹ کی تنظیمیں اور لیگیں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے زیر انصرام نہیں ہوتی ہیں۔ کھلاڑیوں کے لیے ان کی نگرانی کا نظام خود مختار ہوتا ہے۔ چنانچہ یہ اہم ہے کہ کسی بھی طرح کی بد عنوانی سے بچنے کے لیے مناسب پالیسیاں اور طریقہ کار ترتیب دیے جائیں۔ ٹھوس ٹریکنگ سسٹم اورکھیل کے وقار کو  ملحوظِ خاطر رکھنے کے اقدامات بھی ضروری ہوتے ہیں۔
’الدار پراپرٹیز ابو ظہبی ٹی ٹین لیگ‘  دس روز (15 تا 24 نومبر) تک شائقین کرکٹ کی توجہ کا مرکز بنا رہا، جس میں راؤنڈ رابن (یعنی ہر شریک مقابلہ ٹیم کے آپسی میچ) کے بعد سیمی فائنل اور فائنل کھیلے گئے۔ ٹورنامنٹ میں کل  132 بین الاقوامی کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔ ابو ظہبی ٹی ٹین دس اوورز کی کرکٹ پر مشتمل ایک پروفیشنل نوعیت کی کرکٹ لیگ ہے۔ یہ اماراتی کرکٹ بورڈ سے لائسنس شدہ اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل سے منظور شدہ ہے۔ ابو ظہبی حکومت نے اس عظیم ایونٹ کو بڑے جوش و خروش کے ساتھ اپنی سرپرستی و سرمائے سے نوازا۔ گروپ اے میں بنگلہ ٹائگرز، دکن گلیڈی ایٹرز، دہلی بلز اور کرناٹکا ٹسکرز نیز گروپ بی میں نارتن وارئیرز، مراٹھا عریبین، قلندرز اور ٹیم ابو ظہبی شامل تھے۔

 

کرکٹ کی رنگا رنگی سے آراستہ ایونٹ اپنے آغاز سے آخرتک بالی ووڈ کے ستاروں مثلا سہیل خان، سنی لیون، راکول پریت کور، اعجاز خان، ارجن رام پال، تمنا اور گروپرنا کے سحرسے سجا رہا۔ مموتی (جنوبی انڈیا)، شکیب خان (بنگلہ دیش)، پاروتی نائر (جنوبی انڈیا) کے علاوہ پاکستانی سنگر عاطف اسلم اور بالی ووڈ سنگرز شاداب فریدی اور التمش نے بھی شائقین کو محظوظ کیے رکھا۔ شائقین کے لیے فیملی سرگرمیوں کے علاوہ ’فین ویلیج‘ بھی قائم کیا گیا تھا۔

فٹبال میچ جتنے دورانیے میں مکمل ہو جانا والا کرکٹ فارمیٹ سعودی شائقین کے رجحان کے مطابق ہے۔

بطور شائقِ کرکٹ اور فلم ساز میرے لیے یہ باعث مسرت امر تھا کہ اس ایونٹ میں اطمینان بخش طریقے سے کھیل و فلم  کے شعبے کے ساتھ ساتھ تفریح کے مواقع بھی موجود تھے۔ جب مراٹھا عریبین نے دکن گلیڈی ایٹرز کا مقابلہ کرکے ٹرافی جیتی تو میرے جاگتے خوابوں کو جیسے جادوئی پَر لگ گئے۔ ایک دن میرے وطن کی سعودی ٹیم  بھی اسی طرح ٹرافی حاصل کرے گی۔ ہمیں امکانات کی شمعیں جلا کر روشن راستوں کے سفر پر اپنے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے ضرور نکلنا چاہیے۔ لہذا، میں بھی یہ خواب سجا چکی ہوں اور اسے اپنی آنکھوں میں سجائے دور تک جاؤں گی، بہت دور تک۔

کالم اور بلاگز واٹس ایپ پر حاصل کرنے کے لیے ’’اردو نیوز کالمز‘‘ گروپ جوائن کریں

شیئر: