شاپنگ مال کی جنگجو عورتیں اور سیل کی روداد

ہماری فضول خرچیوں کے پول گھر کی ایف بی آر امی کے سامنے کھل گئے۔ فوٹو: ٹوئٹر
اس بار ہم نے تہیہ کیا کہ چونکہ ہم نے گذشتہ سال فضول خرچی کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے تو اس بار ہم کفایت شعاری کریں گے۔
ہم سے مراد فرد واحد یعنی کہ میں ہی ہو۔ پچھلے سال ہم نے گھریلو بجٹ بے دریغ خرچ کیا جیسے حکومتیں آئی ایم ایف کے قرضے کو چٹ کر جاتی ہیں۔
گھریلو بجٹ کا خسارا ہم فگر فجنگ کرکے بھی نہ چھپا سکے اور ہماری فضول خرچیوں کے پول گھر کی ایف بی آر امی کے سامنے کھل گئے۔
اس دن مولوی صاحب کی بیگم درس پر کہہ رہی تھیں ہمیں ہر جوڑے کا حساب دینا ہوگا بس اس کو سن کر ایسا لگ رہا تھا ہمارے تمام جوڑے اور تمام بیگز ہمارے گلے میں طوق کے طور پر ڈال دیے گئے ہو۔
بس اسی وقت ٹھان لی اسراف نہیں کفایت شعاری کریں گے۔ جوتے کپڑے اور میک اپ پر ہم ہر ممکن بچت کرکے خاندان کے سامنے اصغری بہو بن جائیں گے۔ کوئی اس دور کا مصنف ہم پر بھی ناول لکھ دے گا اور پھر اس کی ڈرامائی تشکیل ہوگی۔
وہ مریم نواز  والے جوتوں اور بیگز کی دوکانوں کے پاس سے بھی نہیں گزریں گے۔
ہمارے کہاں آف شور اکاؤنٹس لیکن فردوس آپا جہاں سے خریداری کرتی ہیں وہاں سے بھی نہیں گزریں گے خواہ مخواہ لوگ ہماری ہر بات کو پکڑ کر تنقید کی زد میں لے آئیں گے۔
جب برطانوی شہزادی کیٹ ایک ہی کپڑے بار بار پہن سکتی ہیں تو ہم نے خود کو کون سا پاپا کی پرنسز ڈکلیئر کر رکھا ہے۔

فرائیڈے کو بلیک کر دیں یا وائٹ لیکن بے ایمانی تو کوٹ کوٹ کر کچھ برانڈز میں ہے۔ فوٹو: ان سپلیش

پہلے ہم نے سوچا کہ نئے جوتے کپڑے اس سال ہم نہیں خریدیں گے اور شوہر کو جتلا دیں گے ان کے دیے ہوئے جیب خرچ اور اپنی تنخواہ سے اس بار ہم نے بچت کرکے محل نہ سہی گھر کے لیے بہت سی چیزیں خریدی ہیں۔
لیکن ایسا کرنا ممکن نہیں، کہیں بنا میک اپ اور اچھے کپڑے ہمیں خاندان والے پہچانے سے انکار کر دیں اور کہہ دیں آج جمعرات نہیں۔ پھر ذہن میں یہ آئیڈیا آیا کہ کیوں نہ اس بار خریداری صرف سیل سے ہو۔
خود کو شاباش دی اور فیس بک اور انسٹاگرام پر سرچ کیا کہ کون کون سے برانڈز پر سیل لگی ہے تو تین بڑے کپڑوں کے برانڈز ویک اینڈ پر گرمیوں کے کپڑوں پر سیل آفر اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ سردی جو آگئی ہے۔
فرائیڈے کو بلیک کر دیں یا وائٹ لیکن بے ایمانی تو کوٹ کوٹ کر کچھ برانڈز میں بھری پڑی ہے۔ خیر ہم نے یہ سوچا کہ چلو کوئی بات نہیں ابھی خرید لیں گے اور اگلی گرمیوں میں پہن لیں گے۔
ہم نے سیل میں جانے کی تیاری ایک ہفتہ پہلے شروع کی۔ روزانہ باغ میں آدھا گھنٹہ واک، مجازی خدا کے جم ویٹس سے بازو کی ورزش، پنچنگ بیگ پر مکے برسا دیے۔

اگر کیٹ ایک جوڑا بار بار پہن سکتی ہے تو ہم کیوں نہیں۔ فوٹو: اے ایف پی

دیکھیں ہمیں غلط نہ سمجھیں یہ ہم اپنے دفاع کے لیے کر رہے ہیں، ہمیں انڈیا نہ سمجھیں جو ہم حملے میں پہل کریں ہم پاکستان ہیں بس اپنے دفاع کے لیے تیار۔
صبح سات بجے ہم نے ڈٹ کر ناشتہ کیا، کراس باڈی بیگ میں وٹامن سی کی گولیاں، کیش، کریڈٹ کارڈ (غلطی سے بھول کر شوہر کا کریڈٹ بھی رکھ لیا مجھے جج نہ کریں بھول انسان سے ہوتی ہے) موبائل، بیٹری بینک، بسکٹ، پانی اور چاکلیٹس بھی احتیاط کے طور پر رکھ لیں۔
شلوار قمیض کے ساتھ جوگرز پہنے (بہت سے فیشن بلاگرز کی طبعیت مکدر ہوگئی) ظاہر ہی سی بات سے میرے پاس دو ہی پاؤں ہیں میں نہیں چاہتی کوئی کچل دے۔ ڈوپٹے پر بھی گرہ لگالی تاکہ رش میں گم نا ہو جائے۔
اپنی دوست کے ہمراہ مال پہنچے توبہ آگے کیا منظر تھا سو خواتین پہلے سے وہاں سیل کے لیے کھڑی تھیں، مال کی سکیورٹی خواتین کی لائن بنوانے کی ناکام سی کوشش کر رہی تھی۔ 
خیر نااُمیدی گناہ ہے سو ہم نے کفایت شعاری کی بات کو ذہن میں دہرایا کہ کپڑے تو ہم سیل سے لیں گے۔ میں اور سہیلی 105ویں نمبر پر تھے اب وہاں فالتو کھڑے کیا کرتی گنتی کرتی رہی۔

صرف معمولی چیزوں پر سیل لگائی گئی تھی۔ فوٹو: ٹوئٹر

وہاں خواتین گوچی چینل اور مائیکل کور کے بیگ لیے سیل میں دھکے کھا رہی تھیں۔ میں نے دوست سے کہا یہ ان کو سیل پر آنے کی کیا ضرورت پڑ گی وہ ہنس کر کہنے لگی کتنے چاہییں سب باڑہ مارکیٹ سے مل جائے گا۔
لائن میں لگے ایک گھٹنہ ہو گیا تھا۔ تھکاوٹ سے برا حال ہو رہا تھا لیکن باری قریب تھی اور ارادہ بلند تھا کہ ہزار والی قمیض اس بار 5000 میں نہیں خریدیں گے۔
تاہم آگے موجود خواتین کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا، انہوں نے دھکم پیل کی، سٹور کا ششیے کا دروازہ گرگیا۔ ہر طرف شور مچ گیا اور اس دوران ہمیں سٹور میں داخل ہونے کا موقع مل گیا۔
لیکن اندر تو گھمسان کا رن پڑا تھا، ہر طرف چیخ و پکار، لڑائی دھکم پیل، ہم نے سوچا کہ ہم سٹور میں ہی داخل ہوئے تھے ناکہ گیمز آف تھرون کی ڈریگن فائٹ میں آگئے۔
عورتیں چیختی چنگاڑتی کپڑوں پر لپک رہی تھیں اچانک کچھ عورتوں نے ہم پر حملہ کر دیا، یہ ڈوپٹہ میں خریدوں گی ہم نے منمناتے ہوئے کہا یہ تو میں گھر سے پہن کر آئی ہوں، چار سال پرانا ہے۔
اوہ اچھا سوری یہ کہہ کر وہ جنگجو عورت آگے جھگڑا کرنے چلی گئی۔ ٹرائی روم سب بند تھے، اچھی اور سردی کی نئی کلیکشن پر سیل نہیں تھی۔ بس عام سا سامان عورتوں کے ہاتھوں میں پورے سٹور میں اچھل رہا تھا۔

میں نے سوچا سیل تو آن لائن بھی لگتی ہے۔ فوٹو: ان سپلیش

میں نے دوست کو کہا یہ جنگو عورتیں شاید گوریلا وار کی تربیت کرکے آئی ہیں، ہم ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے تاہم اس نے کہا پورے ایک گھنٹے کے بعد سٹور میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں اب تو کچھ لے کر جائیں گے۔  
اس ہی وقت سٹور کے ٹوٹے ہوئے دروازے سے جنگجو خواتین کا نیا دستہ سٹور میں داخل ہوا اور لڑائی میں مزید اضافہ ہوگیا۔
لاتیں مکے جوڑے ایک دوسرے کو مارے جانے لگے۔ جوڑا تو خیر ہمیں کیا ملنا تھا یہ تو جان کے لالے پڑ گئے میں اور دوست کافی دیر تو کاؤنٹر کی اوٹ میں چھپے رہے۔
جب دھان پان سیلز مینز نے ایک گھنٹے کے بعد سیل فسادات پر قابو پایا تو ہم نے وہاں سے نکل جانے میں عافیت سمجھی اور دل کو تسلی دی کیا ہوا جو دو تین گھنٹے ضائع ہوگے ہم سیل سے کچھ خرید نہیں سکے لیکن زندہ تو واپس آگئے اور سیل تو آن لائن بھی لگتی ہے۔
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں/بلاگز کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: