امریکہ سے مشروط بات چیت کے لیے تیار ہیں، صدر حسن روحانی

ایرانی صدر نے پہلے بھی مذاکرات کے لیے پابندیاں اٹھانے کی شرط رکھی تھی (فوٹو: اے ایف پی)
 ایران کے صدر حسن روحانی نے ایک بار پھر نیوکلیئر پروگرام پر بات چیت کے حوالے سے مشروط آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ’غیرقانونی‘ پابندیاں اٹھا لے تو ایران اب بھی اس کے ساتھ نیوکلئیر پروگرام پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ریاستی ٹیلی ویژن پر براہ راست بات کرتے ہوئے ایرانی صدر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ ’ اگر وہ تیار ہے کہ پابندیوں کو ایک طرف رکھ دیں تو ہم بات چیت اور مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ یہ بات چیت چھ عالمی طاقتوں کے پلیٹ فارم پی فائیو پلس ون پر بھی ہوسکتی ہے۔
ان چھ عالمی طاقتوں میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین، روس اور جرمنی شامل ہیں۔  
صدر حسن روحانی نے پہلے بھی ایران سے پابندیاں اٹھانے کی شرط پر چھ عالمی طاقتوں کے پلیٹ فارم پر مذاکرات شروع کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
تہران نے کہا تھا اگر امریکہ ایران سے پابندیاں اٹھاتا ہے اور معاشی دباؤ کا خاتمہ کیا جاتا ہے تو ہم امریکہ سے کسی بھی وقت اور کہیں بھی بات چیت کے لیے تیار ہیں۔‘
ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اس وقت اضافہ ہوا جب گذشتہ برس امریکی صدر نے جوہری معاہدے سے علیحدگی کا اعلان کیا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2015 کے معاہدے گذشتہ برس نکلنے کا اعلان کیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)

امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ کئی سال سے چلا آ رہا ہے جس کی بنیادی وجہ ایران کی جانب سے یورینیم کی افزودگی ہے، جس پر امریکہ تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے، تاہم ایران کی جانب سے دباؤ قبول نہ کیے جانے کے اعلانات ہوتے رہے ہیں جس پر ایران کو معاشی پابندیوں کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے اور اسی ضمن میں ہی ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدہ بھی ہوا تھا۔
رواں سال مئی میں ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا تھا کہ تہران جوہری معاہدے کے کچھ حصوں پر مزید عمل درآمد نہیں کرے گا اور معاشی پابندیوں میں ریلیف نہ ملنے پر متعلقہ پارٹیوں کو بھی خبردار کیا تھا کہ ایران جوہری پروگرام کو مزید آگے بڑھائے گا۔ 

گذشتہ دنوں ایران میں مظاہروں کے بارے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ان مظاہروں کی حمایت کریں گے۔ فوٹو: اے ایف پی

جولائی میں ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے باقاعدہ اعلان کیا تھا کہ ایران نے یورینیم کے افزودہ ذخائر کی حد پار کر لی ہے جو 2015 میں عالمی طاقتوں کے ساتھ اس کے جوہری معاہدے کے تحت طے کی گئی تھی۔ ایران کی یورینیم کے ذخائر میں اضافے کی تصدیق اقوام متحدہ کے ایٹمی معاملات کے نگران ادارے نے بھی کر دی تھی۔ 
ایٹمی معاہدے کی شرائط کے تحت ایران نے یورینیم کے ذخائر تین سو کلو گرام سے کم رکھنے پر اتفاق کیا تھا، جبکہ یورنیم کو زیادہ سے زیادہ 3.67 فیصد تک افزودہ کیا جا سکتا ہے۔
2015 کے ایٹمی معاہدے پر ایران، امریکہ، چین، روس، جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے اتفاق کیا تھا۔
امریکہ کے جوہری معاہدے سے علیحدگی کے باوجود یورپی ممالک معاہدے کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

شیئر: