قصہ ایک ضمنی الیکشن کا

شہزادے کے ہر جلسے میں مردوخواتین کی اچھی خاصی تعداد آنے لگی۔ فائل فوٹو: سوشل میڈیا
آج شہزادے کی پہلی انتخابی ریلی تھی۔ دفتر کے باہر ہزار روپے فی کس میں ہائر کیے گئے مسلسل ہارن بجاتے رکشوں کا ہجوم تھا۔ شہزادہ گلے میں پھولوں کی مالا پہنے لینڈ کروزر کے سن روف میں کھڑا مسلسل ہاتھ ہلائے جا رہا تھا، جیسے بنا بارش کے گاڑی کا وائپر چلا دیا گیا ہو۔ گرمی میں ٹریفک جام کی وجہ سے راہگیر حیرت اور غصے شہزادے کو دیکھ رہے تھے مگر وہ جذبات سے عاری روبوٹ کی طرح ہاتھ ہلا ئے جارہا تھا۔
رات کی میٹنگ میں سبھی کامیاب ریلی کے گن گا رہے تھے اور میں ان کی ناعاقبت اندیشی پر حیران و پریشان تھا کہ صرف پیسے کے بل بوتے پرعوام کو متوجہ کرنے اور ان سے ووٹ لینے کا مشکل ترین کام کیسے کر پائیں گے مگر چیف ایڈیٹر کے شاطر دماغ میں عوام کو متوجہ کرنے کا منصوبہ پک چکا تھا۔

جلسوں میں حاضری بڑھانا بھی ایک فن بن چکا ہے۔ فائل فوٹو: سوشل میڈیا

اگلی صبح چیف ایڈیٹر نے اپنے اخبار اور پراپرٹی بزنس کے تمام سٹاف کو لائن حاضر کیا اور کمیٹیاں ترتیب دے دیں۔ ایک صفائی کمیٹی جو حلقے سے گندگی اٹھوائے گی۔ ایک قبرستان کمیٹی جو حلقے کے قبرستانوں کے گورکنوں کو معاوضہ دے کر جنازوں کی معلومات لے گی کہ شہزادہ شرکت کر سکے۔ ایک ماہانہ راشن کمیٹی جو حلقے کے پس ماندہ علاقوں سے معلومات اکٹھی کرے گی اور چند سو غریب ووٹر خاندانوں کو ماہانہ راشن دیا جائے گا۔ راشن لینے والا ہر خاندان پانچ مزید خاندانوں کی معلومات دینے کا پابند ہوگا، جن سے راشن دینے کا مشروط وعدہ کیا جائے گا مگر ان کی بھی ہر انتخابی جلسے میں شرکت ضروری ہو گی۔ میں چونکہ چیف فوٹو گرافر تھا اس لیے الیکشن تک تمام سرگرمیوں کی فوٹو کوریج کروانے کی ذمہ داری میری لگا دی گئی۔
ماہانہ راشن سکیم و صفائی مہم کا اشتہار اگلے روز اپنے ہی اخبار میں شہزادے کی تصویر سمیت شائع کر دیا گیا۔ دن بھر حلقے کے مختلف علاقوں سے فون آتے اور ٹریکٹر ٹرالی روانہ ہو جاتی اور گندگی اٹھا لی جاتی اور اس کی فوٹو کوریج اخبار میں شائع کی جاتی۔ یہ بعد میں پتہ چلا تھا کہ زیادہ تر فون دیگر امیدواران کے ہرکاروں کی جانب سے کیے جاتے رہے جو پرائے خرچے پر اپنا علاقہ صاف کرواتے رہے۔ چند دنوں میں ہی راشن سکیم کے حیرت انگیز نتائج برآمد ہوئے۔ دفتر کے باہر سینکڑوں خواتین جمع رہتیں۔ چند سو خاندانوں کو ماہانہ راشن دینے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا اور یوں اس لاٹری ٹائپ انوکھے سسٹم کے تحت شہزادے کے ہر جلسے میں مرد و خواتین کی اچھی خاصی تعداد آنے لگی۔

 

قبرستان کمیٹی نے گورکنوں سے لین دین کیا تو جنازوں کی خبریں بھی بروقت ملنے لگیں مگر تاخیر سے پہنچنے کے سبب کئی مرتبہ شہزادے کو نماز جنازہ کی اگلی صف میں جگہ نہ مل پاتی اس لیے لامحالہ قبرستان کمیٹی کا ایک رکن جنازے کی پہلی رو میں کھڑا ہوجاتا اور شہزادے کے آنے پر اسے اپنی جگہ دے دیتا۔ بعض اوقات نماز جنازہ کی ادائیگی کے دوران ہی یہ انوکھا عمل کیا جاتا اور دیگر حاضرین حیرت زدہ رہ جاتے۔ خاص دکھائی دینے کو شہزادہ جنازہ پڑھنے کے بعد میت کے قبر میں اتارتے وقت تک کھڑا رہتا۔ ایک مرتبہ شہزادے کو لواحقین کی جانب سے زبردستی ہٹا دیا گیا کہ میت خاتون کی تھی اور شہزادہ دفن کے وقت قبر کے پاس سے ہٹنے کو تیار نہ تھا۔ اور ایک دن تو دوران تدفین قبر پر مٹی پھینکنے کے دوران شہزادہ خود بھی پاؤں پھسلنے پر قبر میں گر گیا جسے ساتھیوں نے فوری طور پر نکال باہرکیا کہ ابھی اس کا یہ وقت نہیں آیا تھا۔ 

امیدواروں کے لیے الیکشن کا دن آغاز سے ہی نہایت مایوس کن ثابت ہوا۔ فائل فوٹو: سوشل میڈیا

کوشش کے باوجود کسی سیاسی جماعت نے گھاس نہ ڈالی یوں شہزادہ آزاد امیدوار ہی رہا اور الیکشن کا دن قریب آ گیا۔ سینکڑوں پولنگ ایجنٹ مختلف سیاسی ٹاؤٹوں کے ذریعے با معاوضہ اکٹھے کیے گئے اور پولنگ کیمپوں کا ٹھیکہ بھی ایک پارٹی کو دیا گیا۔
 الیکشن ڈے سے قبل کی رات چیف ایڈیٹر کے کمرے میں بہت رونق تھی۔ چیف ایڈیٹر کے مطابق شہزادہ ایک لاکھ جبکہ درباریوں کے مطابق ڈیڑھ سے دولاکھ ووٹ ملنے کی امید تھی جبکہ میرے خیال میں تین ہزار ووٹ بمشکل مل پاتے جسے سن کر سبھی نے میرا خوب مذاق اڑایا اور اسے میرا تنقیدی مزاج قرار دے دیا۔
 الیکشن کا دن صبح آغاز سے ہی نہایت مایوس کن ثابت ہوا۔ بیشتر پولنگ سٹیشنوں کے باہر ان کے کیمپ ہی موجود نہیں تھے اور زر خرید پولنگ ایجنٹس کی اکثریت غیر حاضر تھی جبکہ بعض ہائر شدہ ایجنٹ ان کی بجائے دیگر امیدواران کے پولنگ ایجنٹ بنے بیٹھے تھے۔ اس دن چیف ایڈیٹر کی حالت دیدنی تھی۔
ان کے کمرے میں اتنا سکوت طاری تھا کہ اپنے دل کے دھڑکنے کی آواز بھی صاف سنائی دے رہی تھی۔ الیکشن کا رزلٹ ان کی میز پر دھرا تھا اور وہ سبھی کو کینہ توز نگاہوں سے تک رہے تھے اور درباری نگاہیں نیچی کیے بیٹھے تھے۔ شہزادے کو محض پانچ ہزار کے لگ بھگ ووٹ ملے تھے جبکہ اکاؤنٹنٹ کے مطابق الیکشن اخراجات آٹھ کروڑ سے زیادہ تھے۔ یعنی ایک ووٹ سولہ ہزار روپے کا ملا۔ جیتنے والے امیدوار کے ووٹ ساٹھ ہزار سے زائد تھے اور دوسرے نمبر والا بھی چالیس ہزار کو پہنچا ہوا تھا۔
الیکشن کو گزرے کئی دن ہو چکے تھے ہم معمول کے اخباری فرائض کی انجام دہی کی جانب واپس آ چکے تھے اور آج پھر دفتر کے باہر ماہانہ راشن کے حصول کے لیے بہت سی خواتین جمع تھیں، لیکن آج راشن کی بجائے ڈنڈا بردار خونخوار گارڈ کھڑے خواتین کو ڈنڈوں سے ہانک رہے تھے کہ الیکشن کے ساتھ ہی راشن سکیم بھی ختم ہو چکی تھی۔

کالم اور بلاگز واٹس ایپ پر حاصل کرنے کے لیے ’’اردو نیوز کالمز‘‘ گروپ جوائن کریں

شیئر: