Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

قلعہ، کوٹ، گڑھ اور حصار میں کیا فرق ہے؟

حفیظ جالندھری ’قومی ترانہ‘ اور ’شاہنامہ اسلام‘ کے لیے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے (فوٹو: سوشل میڈیا)
جب جانتا نہیں کچھ 
تو اختلاف مت کر 
سچائی سامنے ہے 
اب انحراف مت کر 
یہ سیدھے سادے اشعارپرویز رحمانی (رانچی/انڈیا) کے ہیں، جوایک بے رحم نقاد نے ہمیں ہماری کم علمی  ثابت کرنے کے لیے سنائے تھے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ ہمیں حفیظ جالندھری کی نظم ’ابھی تو میں جوان ہوں‘ پسند ہے جونقاد صاحب کو بالکل پسند نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حفیظ اگر زبان کی نزاکت کو سجھتے توشعر میں اعراب (زیر، زبر، پیش) کی اہمیت فراموش نہ کرتے۔
مطلب؟ ہم نے حیرت سے پوچھا۔
بولے: ’آپ کی پسندیدہ نظم ’ابھی تو میں جوان ہوں، بہار کا نشان ہوں‘ ہی کو دیکھ لو۔ اس میں موجود ’بَہار‘ کو ہم نے نادانی میں ’بِہار‘ پڑھ لیا تھا اور نتیجتاً ایک مدت تک اس الجھن کا شکار رہے کہ جب ’جالندھر‘ پنجاب میں ہے تو شاعر’بِہار کا نشان‘ کیسے ہوگیا؟ اگر موصوف کا تعلق ’بِہار‘ سے ہے توانہیں ’حفیؔظ بِہاری‘ ہونا چاہیے تھا نہ کہ ’حفیظ جالندھری‘ نیز اگر اُن کے اجداد بھلے وقتوں میں بِہار سے جالندھرآ بسے تھے تو انہیں ’حفیظ بِہاری ثُمَّ جالندھری‘ لکھنا چاہیے تھا کہ محقیقین کنفیوژن سے بچ جاتے۔‘
 

 

’یہ تو اعتراض برائے اعتراض ہوا‘ ہم نے کہا
بولے: ’ یہ اعتراض نہیں حقیقت ہے۔ صوبہ  بِہاراور پنجاب دوالگ دنیائیں ہیں۔ ان میں وہی فرق ہے جو ارہر کی دال اورپیڑے والی لسی میں ہے۔‘
کیا !!! ۔۔۔ ہم اس نادرمثال پر ہڑبڑا گئے۔
 وہ گویا ہوئے: ’صوبہ بِہاراور پنجاب میں اختلاف فقط لب ولہجے کا نہیں بلکہ زمین و آسمان کا ہے۔ ان دونوں کے نہ دل ملتے ہیں نہ دماغ ، عادات الگ ہیں، اطوار جدا ہیں، کھانوں اور پہناووں میں بھی کوئی قدرمشترک نہیں۔
موصوف دم بھر کو رُکے اور پھر شروع ہوگئے 
’وہ تو ہمیں ملکہ پکھراج کے توسط سے پتا چلا کہ نظم میں درست لفظ ’بَہار‘ ہے جو ’خزاں‘ کی ضد اور عشاق کا پسندیدہ موسم ہے۔ اپنے میر صاحب کیا خوب کہہ گئے ہیں:
چلتے ہو تو چمن کو چلیے، کہتے ہیں کہ بہاراں ہے
پات ہرے ہیں، پھول کِھلے ہیں، کم کم باد وباراں ہے

حفیظ جالندھری کی ’شاہنامہ اسلام‘ اور’قومی ترانہ‘ لائق التفات ہیں (فوٹو: سوشل میڈیا)

انہوں نے بریک لگائی تو ہم نے کہا:
’ایک دنیا حفیؔظ جالندھری کو استاد مانتی ہے۔‘
تنک کر بولے ’اس معاملے میں بھی انہوں نے زور زبردستی دکھائی ہے۔ اُن کا اپنا بیان ہے:
حفیؔظ اہل زباں کب مانتے تھے
بڑے زوروں سے منوایا گیا ہوں
ہم نے جواباً کہا: ’پران کا لکھا ’شاہنامہ اسلام‘ اور’قومی ترانہ‘ تو بہرحال لائق التفات ہیں۔‘
طنزیہ انداز میں بولے: ’بھائی جب اسلام میں شاہی نہیں توپھر’شاہنامہ اسلام‘ کیسا؟۔۔۔ رہی بات قومی ترانے کی تو اس میں عربی و فارسی الفاظ کی بھرمار ہے اورمحض ایک لفظ اردو کا ہے۔ پھر مصرع پڑھا: ’پاک سر زمین کا نظام‘۔۔۔ مصرعے میں ’کا‘ پر زور بتا رہا تھا کہ ترانے میں یہی وہ واحد لفظ  ہے جو اردو کا ہے۔
ہم ابھی ان پے در پے حملوں سے سنبھلنے بھی نہ پائے تھے کہ انہوں نے ایک اور وار کیا :
’جالندھری صاحب نے چار شادیاں کیں مگر کوائف میں تین بتائیں۔’عقد رابعہ‘ کا بھانڈا اُن کے شعرسے پُھوٹا:
کرلیا ہے عقد اردوئے معلیٰ سے حفیؔظ
قلعۂ دہلی سے آئی تھی یہ ٹھکرائی ہوئی
ہمیں اس بے رحم بلکہ سفاک نقاد کے تیوروں کا اندازہ ہوچلا تھا لہٰذا بات بدلی: ’ان باتوں کو چھوڑیں یہ بتائیں شعر میں آیا لفظ ’اردوئے معلیٰ کیا؟ اوراس کا قلعۂ معلیٰ سے کیا تعلق ہے؟‘

 

ہمارا تیر نشانے پرلگا اورآن کی آن میں موضوع کے ساتھ ماحول بھی بدل گیا۔ اب وہ بول رہے تھے اورہم سکون سے سن رہے تھے۔
’اردو‘ کے معنی لشکراورمعلیٰ (معلّا) کے معنی عظمت والا، بلند، بزرگ، بڑا اور شاہی ہیں۔ ’اردوئے معلیٰ‘ کی ترکیب میں یہ آخری معنی میں استعمال ہوا ہے، یوں اس کے معنی ہوئے ’شاہی لشکر‘ بعد میں اس لشکر میں رابطے کی زبان ہی کو ’اردوئے معلیٰ‘ کہنے لگے۔
معلیٰ اصلاً عربی لفظ ہے۔ اس کی اصل ’عَلِی‘ہے۔ ’العلی‘ اللہ کا صفاتی نام ہے۔ اسی ’علی‘ سے علیٰ، اعلیٰ، معلیٰ، تعالیٰ، عالی اورعالیہ وغیرہ ہیں۔ ان سب الفاظ میں بڑاپن اوربزرگی پائی جاتی ہے۔
دیکھیے ایک قدیم اردو شاعر تاباںؔ عبدالحی کیا کہہ گئے ہیں:
بے شبہ تری ذات خداوند خلائق
اعلیٰ ہے، تعالیٰ ہے، معلیٰ ہے مقدس
اب جب کہ ’معلیٰ‘ کے معنی واضح ہو گئے ہیں تو خود سمجھ لو کہ ’قلعہ معلیٰ‘ کا مطلب ہوا ’شاہی قلعہ‘، جو لال قلعے کو کہتے تھے۔
قلعہ عربی لفظ ہے جسے ہندی میں ’گڑھ‘ کہتے ہیں۔ چوں کہ اول اول بڑے شہروں اور آبادیوں کے گرد حفاظتی دیوار (شہرپناہ) ہوتی تھی اس لیے بعد میں یہ گڑھ لفظ شہراورآبادی کا مترادف ہوگیا۔ اسے آپ انڈیا کے مشہور شہروں’علی گڑھ‘ اور’جونا گڑھ‘ میں دیکھ سکتے ہیں۔ گڑھ چھوٹا یا آبادی کم ہو تو اسے ’گڑھی‘کہتے ہیں۔ جیسے سندھ میں’گڑھی خدا بخش‘ اور خیبر پختونخوا میں ’گڑھی حبیب اللہ‘ وغیرہ ہیں۔   
اس قلعے یا گڑھ کو سنسکرت میں ’کوٹ‘ کہتے ہیں۔ اس کے معنی میں بھی شہر اور آبادی داخل ہیں۔ اسے آپ سیالکوٹ، بالا کوٹ اور کوٹ ادو وغیرہ کے ناموں میں دیکھ سکتے ہیں۔ 
اس ’کوٹ‘ کی ایک صورت ’کوٹلہ‘ہے۔’مالیرکوٹلہ‘ مشرقی پنجاب کی سابق ریاست اورموجودہ شہر ہے۔ اگرآبادی کم ہوتو اسے ’کوٹلہ‘ کی رعایت سے ’کوٹلی‘ پکارتے ہیں۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیرمیں’کوٹلی‘ ایک مشہورشہرکا نام ہے۔ پھر سیالکوٹ میں ’کوٹلی بہرام‘ اور ’کوٹلی لوہاراں‘ اسی سے متعلق ہیں۔
ایک بڑے محقق ڈاکٹر رضوان علی ندوی کے مطابق بلوچستان کے مشہورشہر’کوئٹہ‘ کی اصل بھی یہی ’کوٹ‘ ہے۔ اس سے بھی دل چسپ بات یہ ہے کہ مشہور خلیجی ریاست ’کویت‘ بھی اصلاً ’کوٹ‘ ہی سے متعلق ہے۔ ایک دوسرے محقق کے مطابق انڈونیشیا کا مشہور تفریحی مقام ’کوٹا بالی‘ کا جُز اول ’کوٹا‘ بھی اسی ’کوٹ‘ کی بدلی ہوئی صورت ہے۔
ہم نے لقمہ دیا: اورتوسب ٹھیک ہے پرسنسکرت کا ’کوٹ‘ عربی میں ’کویت‘ کیسے ہوگیا؟

قلعہ عربی لفظ ہے جسے ہندی میں ’گڑھ‘ کہتے ہیں (فوٹو: سوشل میڈیا)

بولے: دوسری زبانوں کی طرح سنسکرت کے بھی بہت سے الفاظ عربی میں شامل ہیں۔ عربی کی خوشبویات کافور، صندل اورمسک کا تعلق اصلاً سرزمین ہند سے ہے، جہاں یہ بالترتیب ’کاپور، چندن اور مشک‘ پکاری جاتی ہیں۔ رہی بات ’کوٹ‘ سے ’کویت‘ ہونے کی تو اس کا قصہ یہ ہے کہ عربی میں حرف ’ٹ‘ نہیں ہوتا اس لیے پہلے ’کوٹ‘ سے ’کوت‘ ہوا پھر عربی اصول کے مطابق ’کوت‘ سے اس کی تصغیر’کویت‘ بنالی گئی۔ یہ تصغیر ایسے ہی ہے جیسے عمرسے عمیر، حسن سے حسین اورجُند سے جنید وغیرہ ہے۔
پھر بولے ’قلعہ کو عربی میں ’حصن‘ بھی کہا جاتا ہے۔ دعا و اذکار کی ایک مشہور کتاب کا نام ’الحُصنُ الحَصِین‘ یعنی ’مضبوط قلعہ‘ اور دوسری کا نام ’الحُصنُ المسلم‘ یعنی ’مسلمان کا قلعہ‘ ہے۔ حصن کے علاوہ قلعے کو عربی میں ’حصار‘ بھی کہا جاتا ہے۔ پشاورکا ’بالا حصار‘ مشہورہے۔ اسے بعض دانشور ’قلعہ بالا حصار‘ کہتے ہیں۔ جب ’حصار‘ کے معنی ہی ’قلعہ‘ ہیں تو بلاوجہ توانائی ضائع کرنے سے کیا فائدہ۔ ویسے یہی غلطی ’کوٹ‘ کے ساتھ بھی روا رکھی جاتی ہے۔ پچھلے دنوں ایک رپورٹ نظر سے گزری جس کا عنوان تھا: ’قلعہ نوکوٹ: بربادی سے بحالی تک‘ اس میں بھی ’قلعہ‘ اضافی ہے۔
قلعہ انگریزی میں فورٹ (fort) ہے۔ پاکستان میں کم سے کم دوشہراسی نسبت سے جانے جاتے ہیں۔ ان میں ایک فورٹ عباس اور دوسرا فورٹ منرو ہے۔‘
موصوف قلعوں کی مہم سر کرچکے تو بولے:
 ’ویسے حفیؔظ جالندھری اتنے بھی برے شاعر نہیں جتنا کہ بدذوق حاسدین نے مشہور کررکھا ہے۔ 
اب جالندھری صاحب کا ایک مشہورزمانہ شعر سنو اورہمیں اجازت دو:
دیکھا جو کھا کے تیر کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی

کالم اور بلاگز واٹس ایپ پر حاصل کرنے کے لیے ’’اردو نیوز کالمز‘‘ گروپ جوائن کریں

شیئر: