Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی خواتین کے لیے اسپورٹس کلب کیوں ضروری

سعودی شوری کونسل کے ممبران کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں تعلیم، معاشیات اور مختلف اداروں میں سربراہ کے طور پرخواتین نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کررہی ہیں۔ سعودی خواتین کو مختلف کھیلوں میں اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے اسپورٹس کلب قائم ہونے چاہئیں۔
عرب نیوز میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق شوری کونسل کے ممبران نے جنرل اسپورٹس اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مملکت میں خواتین کے اسپورٹس کلب کے قیام کا لائحہ عمل طے کریں اور اس کی ضرورت کو اجاگر کریں۔

سعودی خواتین کو  کھیلوں میں کارکردگی دکھانے کے لیے اسپورٹس کلب قائم ہونے چاہئیں۔(فوٹو ٹوئٹر)

خواتین کے اسپورٹس کلب سعودی عرب میں ہونے والی ترقی میں نمایاں کردار ادا کریں گے اور معاشرے میں خواتین کو فعال کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔
شوری کونسل کی سماجی امور، خاندانی امور اور نوجوانوں کی کمیٹی کے ممبر ڈاکٹر احمد الشوائقہ نے کہا کہ اس طرح کے کلب خواتین کو مزید بااختیار بنانے اور مسابقت میں نمایاںاضافہ کریںگے۔انہوں نے کہا کہ تعلیم ، انتظامی امور اور معاشیات جیسے مختلف شعبوںمیں خواتین کی عمدہ کارکردگی کے بعد کھیل کے میدانوں میں ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔

خواتین کو علاقائی اور بین الاقوامی کھیلوں میں حصہ لینے کا موقع ملے گا۔(فوٹو عرب نیوز)

 سعودی عرب دنیا بھر میں کھیلوں کی مختلف سرگرمیوں میں حصہ لیتا ہے۔ خواتین کے اسپورٹس کلب کے قیام سے معاشرے میں "نفسیاتی اور جسمانی توازن" بحال ہونے میں مدد ملے گی اور خواتین کو علاقائی اور بین الاقوامی کھیلوں میں حصہ لینے کا موقع ملے گا۔ مملکت میں اس طرح کے 13کلب خواتین کو مختلف کھیلوں میں تربیت فراہم کررہے ہیں۔
شوری کونسل کی رکن لینا المعینا نے بتایا ہے کہ2016ء میں سعودی ویژن 2030 اصلاحاتی منصوبے کا اعلان کیا گیا تھا جس کا مقصد مختلف کھیلوں میں کھلاڑیوں کی تعداد 13 فیصد سے بڑھا کر 40 فیصد کرنا تھی۔

پائیدار ترقی کے لیے کھیل انتہائی ضروری ہیں۔(فوٹو ٹوئٹر)

انہوں نے مزید کہا کہ پائیدار ترقی کے لیے کھیل انتہائی ضروری ہیں۔ کھیل ہماری ثقافت کا حصہ ہیں اور عوامی شعبے میں خواتین اور بااختیار خواتین دونوں میں توازن پیدا کرتے ہیں۔
خواتین یہاں کھیلوں کی 74 فیڈریشنز کی ممبر ہیں اور اہم کردار ادا کررہی ہیں اس حقیقت کی روشنی میں خواتین کے اسپورٹس کلب کی تنظیم نو ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ شوری کونسل چاہتی ہے کہ خواتین کے اسپورٹس کلب بھی اسی طرح قائم کیے جائیں جیسے مردوں کے کلب موجود ہیں۔
شوری کونسل کی ایک رکن ہدی الحلیسی نے کہا کہ خواتین کے اسپورٹس کلب سعودی عرب میں معاشرتی ترقی کی تکمیل کریں گے۔ خواتین کو انکی زندگی میں رکاوٹوں کو دور کرنے میں مددگار ہونے کے ساتھ انہیں بااختیار بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
  • باخبر رہیں، سعودی عرب کی مزید خبروں کے لیے واٹس ایپ گروپ جوائن کریں

شیئر: