Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انتھروپک کے ساتھ کام بند، امریکی محکمہ دفاع کا اوپن اے آئی سے نیا معاہدہ کیا کہتا ہے؟

اوپن اے آئی نے کہا ہے کہ اس کا پینٹاگون کے ساتھ معاہدہ اضافی حفاظتی اقدامات کے ساتھ مکمل ہو گیا ہے جس کے تحت اس کی ٹیکنالوجی امریکی محکمہ دفاع کے خفیہ نیٹ ورک پر استعمال کی جائے گی تاکہ اس کے استعمال کے حوالے سے تمام پہلو محفوظ رہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز حکومت کو ہدایت کی تھی کہ وہ انتھروپک کے ساتھ کام بند کر دے۔
پنٹاگان کا کہنا ہے کہ وہ اس کو سپلائی چین رسک قرار دے گا جس سے مصنوعی ذہانت کی لیب کو حفاظتی ضوابط کے لحاظ سے دھچکا ہے اور اس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ کسی بھی رسک کے اعلان کو عدالت میں چیلنج کرے گی۔
اس کے فوراً بعد اوپن اے آئی جو مائیکروسافٹ، ایمیزون، سافٹ بینک اور دیگر کمپنیز کی حمایت رکھتی ہے، کی جانب سے اس کے حکومت کے ساتھ معاہدے کا اعلان سامنے آیا۔
اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ ہمارا معاہدہ پچھلے کسی بھی معاہدے بشمول انتھروپک، سے زیادہ حفاظتی اقدامات کا حامل ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ محکمہ دفاع کے ساتھ یہ معاہدہ تین اہم مراحل پر عمل درآمد کو یقینی بناتا ہے۔
اوپن اے آئی کی ٹیکنالوجی کو عوامی نگرانی کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا نہ ہی خودکار ہتھیاروں کے نظام کی ہدایت کے لیے، جبکہ اس کو کسی بھی اہم خودکار فیصلے کے لیے بھی استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
اوپن اے آئی کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ معاہدے میں حفاظتی حدود کو ایک وسیع اور کثیر سطحی طریقے سے محفوظ بنایا گیا ہے۔
کمپنی اپنے حفاظتی سٹیک پر مکمل اختیار رکھتی ہے، ٹیکنالوجی کو کلاؤڈ کے ذریعے استعمال میں لایا جاتا ہے اور اس عمل میں منظور شدہ عملہ شامل ہوتا ہے جبکہ اس کے لیے مضبوط قانونی تحفظ بھی موجود ہے۔
پچھلے سال پینٹاگون نے بڑی اے آئی لیبز کے ساتھ ہر ایک کے لیے دو کروڑ ڈالر تک کے معاہدے کیے، جن میں انتھروپک، اوپن اے آئی اور گوگل شامل ہیں۔
پینٹاگان دفاع کے معاملے میں اپنے طریقہ کار کو برقرار رکھنا چاہتا ہے اور ٹیکنالوجی بنانے والوں کے انتباہات کا پابند نہیں ہونا چاہتا، تاہم دوسری جانب اوپن اے آئی نے خبردار کیا کہ اگر امریکی حکومت نے معاہدے کی خلاف ورزی کی، جس کی توقع موجود نہیں ہے تو معاہدہ ختم ہو سکتا ہے۔
کمپنی نے یہ بھی کہا ہے کہ اس کی حریف کمپنی انتھروپک کو سپلائی چین رسک نہیں کہا جانا چاہیے اور اپنی پوزیشن حکومت کے سامنے صاف طور پر پیش کی ہے۔

شیئر: