Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’پاکستان جواب دے اس نے اقلیتوں پر مظالم کیوں ڈھائے؟‘

نڈین وزیراعظم نے اس بات کو دہرایا کہ شہریت کا قانون کسی کی شہریت چھیننے کے لیے نہیں ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
انڈین وزیراعظم نریندر مودی نے مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکتہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہریت کا ترمیمی بل پاکستان میں ’ظلم‘ کا شکار ہونے والی اقلیتوں کے لیے ہے اور پاکستان کو جواب دینا ہوگا کہ اس نے ایسا کیوں کیا؟
نریندر مودی نے اتوار کو طلبہ کے ساتھ اپنے خطاب میں کہا کہ ’پاکستان میں اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کے بارے میں دنیا جانتی ہے۔ پاکستان کو جواب دینا ہوگا کہ اس نے گذشتہ 70 برسوں میں اقلیتوں پر مظالم کیوں ڈھائے؟‘
واضح رہے کہ مغربی بنگال کی وزیراعلی ممتا بینرجی شہریت بل میں کی گئی ترمیم کے خلاف ہیں۔ انہوں نے گذشتہ روز نریندر مودی سے ’رسمی‘ ملاقات میں ترمیمی بل واپس لینے پر زور دیا اور اس کے بعد سنیچر کو اس بل کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں شرکت کے لیے چلی گئیں، جہاں انڈین وزیراعظم کے پتلے جلائے جا رہے تھے۔
نریندر مودی نے اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’جو آپ نے سمجھا ہے۔ اپوزیشن وہ نہیں سمجھنا چاہتی۔ حتی کہ کئی مرتبہ صفائی دینے کے باوجود ذاتی مفاد کو سامنے رکھنے والے سیاستدان لوگوں کو بھٹکا رہے ہیں۔‘
انڈین وزیراعظم نے اس بات کو دہرایا کہ ’شہریت کا قانون کسی کی شہریت چھیننے کے لیے نہیں بلکہ شہریت دینے کے لیے بنایا گیا ہے۔‘
سنیچر کو جب نریندر مودی کولکتہ خطاب کر رہے تھے تو اس وقت شہر کے وسطی حصے سمیت مختلف جگہوں پر شہریت قانون کے خلاف مظاہرے ہو رہے تھے۔ زیادہ تر مظاہرین کا تعلق کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں سے بتایا جا رہا ہے۔
انہی میں سے ایک مظاہرے میں مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بینرجی بھی موجود تھیں جو وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد وہاں پہنچی تھیں۔

کچھ طلبہ نے ممتا بینر جی کی نریندر مودی کے ساتھ ملاقات پر اعتراض کیا۔ فوٹو: اے ایف پی

کچھ طلبہ نے ممتا بینرجی کی نریندر مودی کے ساتھ ملاقات پر اعتراض کیا جس پر انہوں نے کہا کہ ’یہ ایک رسمی ملاقات تھی کیونکہ وزیراعظم مغربی بنگال کے دورے پر تھے۔ میں نے انہیں کہا ہے کہ لوگوں کو سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے قوانین قبول نہیں ہیں۔‘
خیال رہے کہ انڈیا میں کانگریس سمیت حزب اختلاف کی دیگر جماعتیں شہریت بل میں ترمیم کی مخالفت کر چکی ہیں۔ یہ جماعتیں اس بل کو سیکولر انڈیا کی روح کے منافی سمجھتی ہیں، جبکہ بی جے پی کا کہنا ہے کہ اس بل سے کسی کی شہریت منسوخ نہیں کی جائے گی۔
اس بل کے خلاف ہونے والے ملک گیر پر تشدد مظاہروں میں دو درجن سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور سینکڑوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

شیئر: