Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کیا کفیل وطن گئے کارکن کا فائنل ایگزٹ لگوا سکتا ہے؟

آجر کا اختیار نہیں کہ وہ خروج و عودہ پر گئے ہوئے اپنے کارکن کا فائنل ایگزٹ لگائے (فوٹو: روئٹرز)
سعودی عرب میں مقیم غیر ملکیوں کے لیے اقامہ قوانین یکساں ہیں۔ قوانین میں کسی ملک کے شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا نہیں رکھا جاتا۔ محکمہ پاسپورٹ و امیگریشن (جوازات) وہ ادارہ ہے جو غیرملکیوں کے لیے رہائشی پرمٹ جسے اقامہ کہا جاتا ہے، جاری کرنے کا ذمہ دار ہے۔
ادارہ جوازات کے دائرہ اختیار میں آنے والے امور جن میں  اقامے کا اجرا و تجدید، ایگزٹ ری انٹری اور فائنل ایگزٹ جسے خروج نہائی کہا جاتا ہے، شامل ہیں۔ تارکین وطن جو مملکت میں ورک ویزے پر مقیم ہوتے ہیں کو چھٹی پر وطن یا مملکت سے باہر جانے کے لیے ایگزٹ ری انٹری ویزہ (خروج و عودہ) لینا ہوتا ہے۔
ماضی میں ایگزٹ ری انٹری ویزے کی فیس 200 ریال تھی چاہے آپ جتنے بھی مہینوں کے لیے وطن واپس جائیں مگر اب یہ فیس 100 ریال ماہانہ کر دی گئی ہے۔
خروج و عودہ ویزہ حاصل کرنے کے لیے پہلے دو ماہ کی فیس یعنی 200 ریال ادا کرنا لازمی ہے خواہ سفر کرنے والا ایک ہفتے میں واپس آئے یا دو ماہ میں۔
مملکت میں غیر ملکی کارکنوں کے امور سے متعلق دوسرا اہم ادارہ وزارت محنت و سماجی بہبود آبادی ہے جو تارکین وطن کو ان کے پیشے کے مطابق ورک پرمٹ جاری کرنے کا مجاز ہے۔ وزارت محنت کی جانب سے ورک پرمٹ کے اجراء کے بعد ہی محکمہ جوازات سے اقامہ جاری کیا جاتا ہے اس طرح یہ دو ادارے باہمی اشتراک و تعاون سے سعودی عرب میں کام کرنے والے غیر ملکیوں کی ملازمت اور رہائشی امور کے ذمہ ہوتے ہیں۔
قانون محنت کے مطابق وہ غیر ملکی کارکن جو  خروج و عودہ پر اپنے وطن گئے ہوتے ہیں ان کا آجر اگر چاہے بھی تو وہ ان کے خروج و عودہ کو فائنل ایگزٹ یعنی خروج نہائی میں تبدیل کرنے کا مجاز نہیں۔
مملکت میں مقیم اکثر لوگوں کی جانب سے دریافت کیا جاتا ہے کہ کیا ان کا کفیل (آجر) ان کی مرضی کے خلاف فائنل ایگزٹ لگا سکتا ہے؟
اس حوالے سے جوازات کے ذمہ دار عہدیدار کا کہنا ہے کہ ’آجر کا اختیار نہیں کہ وہ خروج و عودہ پر گئے ہوئے اپنے کارکن کا فائنل ایگزٹ لگا دے، فائنل ایگزٹ لگانے کے لیے کارکن کا مملکت میں موجود ہونا لازمی ہے۔‘
یہاں اس امر کو مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ فائنل ایگزٹ کے لیے کارکن کے تمام حقوق کی ادائیگی لازمی ہے، اگر کارکن اپنے واجبات کے حوالے سے مطمئن نہیں تو اس کا حق ہے کہ وہ لیبر کورٹ سے رجوع کر کے اپنا دعویٰ دائر کر سکتا ہے جس میں تمام دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ عدالت کو یہ بتانا ہوگا کہ قانون کے مطابق اس کے حقوق ادا نہیں کیے گئے۔

ری انٹری ویزے کی فیس 100 ریال ماہانہ ہے (فوٹو: الشرق الاوسط)

اس بات کو ذہن میں رکھنا لازمی ہے کہ ایگزٹ ری انٹری ویزے پر گئے ہوئے کارکن اگر مقررہ مدت میں واپس نہیں آتے تو انہیں مملکت میں تین برس کے لیے بلیک لسٹ کر دیا جاتا ہے۔
اس حوالے سے اردو نیوز کے گزشتہ مضامین میں تفصیل سے لکھا جاچکا ہے تاہم یہاں مختصر طور پر بلیک لسٹ کے قانون کا حوالہ دینا اس لیے ضروری ہے کہ خروج و عودہ اور فائنل ایگزٹ کے قانون کو اچھی طرح سمجھا جا سکے۔
مملکت میں مروجہ قانون کے مطابق ایگزٹ ری انٹری پر گئے ہوئے افراد کے لیے لازم ہے کہ وہ  مقررہ وقت پر واپس آئیں۔ واپس نہ آنے کی صورت میں انہیں سزا کے طور پر بلیک لسٹ کیا جاتا ہے کیونکہ وہ ایک معاہدے کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے ہیں۔
اسی طرح آجر (کفیل) کو بھی یہ اختیار نہیں کہ وہ اپنے کسی کارکن کو جو خروج و عودہ پر گیا ہوا ہے کا ویزہ کینسل کر کے اس کا فائنل ایگزٹ ویزہ لگا دے۔

شیئر: