Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بلوچستان میں سات سکیورٹی اہلکار ہلاک

بلوچستان میں ایران کی سرحد سے ملحقہ علاقوں میں گشت کرنے والے سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو پہلے بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ فوٹو: سوشل میڈیا
پاکستان میں فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ صوبہ بلوچستان میں دو مخلتف واقعات میں سات اہلکاروں کی ہلاکت ہوئی ہے۔
منگل کو جاری کیے گئے بیان میں آئی ایس پی آر نے بتایا ہے کہ صوبائی دار الحکومت کوئٹہ سے تقریبا نوے کلومیٹر دور ضلع بولان کے علاقے پیرغائب میں ایف سی بلوچستان 79 ونگ کی گشت پر مامور پک اپ گاڑی کو سڑک کنارے نصب دیسی ساختہ بم کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
بم دھماکے کے نتیجے میں گاڑی تباہ ہوگئی اور اس میں سوار چھ اہلکار ہلاک ہوگئے۔ مرنے والوں میں ایک جونیئر کمیشنڈ آفیسر اور گاڑی کا سویلین ڈرائیور بھی شامل ہے۔

 

آئی ایس پی آر کے مطابق مرنے والوں میں نائب صوبیدار احسان اللہ خان، نائیک زبیر خان، نائیک اعجاز احمد، نائیک مولا بخش، نائیک نور محمد اور ڈرائیور عبدالجبار شامل ہیں۔
ادھر ایران سے ملحقہ کیچ کے علاقے مند سے بیس کلومیٹر دور چوکاب میں بھی ایف سی کی چوکی پر شدت پسندوں نے حملہ کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کیچ کے علاقے مند میں دہشت گردوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ایک ایف سی اہلکار امداد علی کی موت واقع ہوئی ہے۔
کوئٹہ سے اردو نیوز کے نامہ نگار زین الدین احمد کے مطابق دونوں حملوں کی ذمہ داری دو الگ الگ کالعدم علیحدگی پسند بلوچ مسلح تنظیموں نے قبول کی ہے۔ 
وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے مچھ کے قریب پیر غائب کے مقام پر سیکیورٹی فورسز کی گاڑی پر دہشت گردوں کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے سیکیورٹی اہلکاروں کی اموات اور زخمی ہونے پر دکھ اور افسوس کا آظہار کیا ہے۔
یاد رہے کہ رواں ماہ کیچ کے علاقے بلیدہ میں ایف سی کے قافلے پر بم حملے میں میجر سمیت چھ اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔
ایرانی سرحد سے ملحقہ علاقوں میں فورسز پر شدت پسندوں کے حملوں میں اضافے پر پاکستانی فوجی حکام نے ایرانی حکام سے رابطہ کرکے تشویش کا اظہار کیا۔
پاکستان نے ایران کے ساتھ اپنی 900 کلومیٹر طویل سرحد پر دراندازی اور غیر قانونی سرگرمیاں روکنے کے لیے باڑ لگانے کا کام بھی تیز کردیا ہے۔
  • واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ جوائن کریں

شیئر: