Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

دفتر میں روزہ زیادہ لگتا تھا یا اب گھر میں؟

رمضان کے دوران معمولات زندگی میں بہت سی تبدیلیاں آتی ہیں۔ کھانے پینے، سونے جاگنے کے اوقات میں تبدیلی اور دن بھر کا روزہ رکھنے کے باعث کسی بھی قسم کا کام کاج کرنے والوں کی توانائی کی سطح کم ہو جاتی ہے۔ 
گھر سے باہر کام کرنے والوں نے ہمیشہ سے ہی یہ خواہش کی ہے کہ کاش انہیں رمضان میں چھٹی مل جایا کرے یا کچھ ایسی ترتیب ہو کہ وہ اس مہینے گھر بیٹھے بیٹھے کام کر لیا کریں۔
رواں سال کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے یہ موقع بہت سے لوگوں کو مل گیا۔ لیکن کیا گھر سے کام کرتے ہوئے روزہ رکھنا آسان ہوتا ہے۔ کیا روزے میں گھر سے باہر کام کرنے میں زیادہ مشکل ہوتی ہے یا سارا دن گھر پر وقت گزارنے میں؟ 
الماس طیب ایک سرکاری ملازمہ اور تین بچوں کی ماں ہیں۔ وہ بھی ہمیشہ سے رمضان کا مہینہ گھر پر گزارنے اور سکون سے روزے رکھنے کی خواہش مند تھیں۔ اب جب وہ گھر ہیں تو ایک ورکنگ مدر کے بجائے ان کی زندگی گھریلو خواتین کی طرح گزر رہی ہے۔ وہ اپنے بچوں کا خیال تو رکھ ہی رہی ہیں اس کے ساتھ ساتھ گھر کی خصوصی صفائی ستھرائی، کچن، گارڈن کی دیکھ بھال اور سحر و افطار کی تیاری ان کا معمول بن گیا ہے۔ 
اردو نیوز سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ ' پہلے ورکنگ خاتون اور ماں ہونے کی حیثیت سے سحری کے وقت جاگنا، سحری تیار کرنا، نماز کے بعد بچوں کو باری باری تیار کرکے سکول بھیجنا اور خود تیاری کرکے دفتر جانا ہوتا تھا۔ دفتر میں جا کر دن بھر کام کرکے واپس آکر بچوں کو کھانا دینا، افطاری، کھانا بنانا اور گھر کی دیکھ بھال میرے لیے دوہری بلکہ تہری مشقت کا باعث تھا۔ یہ صورت حال تھکا دینے والی ہوتی تھی۔ خاص طور پر وقت کی مینجمنٹ بہت مشکل ہو جاتی تھی۔'
انہوں نے کہا کہ 'اب کورونا وائرس کے باعث شوہر اور بچوں کی بھی چھٹیاں ہیں۔ جب سے جاب شروع کی ہے یہ پہلا موقع ہے کہ اتنے دن گھر میں گزارنے کا موقع ملا ہے۔ بچوں کی پیدائش کے وقت جو چھٹیاں ملتیں ان میں تو گھر کو کوئی وقت نہیں دیا جا سکتا۔ اب گھر بچوں اور شوہر کے ساتھ بہترین وقت گزرانے کا موقع ملا ہے۔' 

کچھ افراد کا موقف ہے کہ جب دفتر جاتے ہیں تو گھر کے کاموں میں رعایت مل جاتی ہے (فائل فوٹو: روئٹرز)

انہوں نے تجویز دی ہے کہ 'دفاتر میں کام کرنے والی ماؤں کو ہر سال ایک مہینہ چھٹی دی جانی چاہیے کہ وہ اپنے بچوں اور گھر کو وقت دے سکیں اور خود بھی انہیں آرام کا موقع میسر آ سکے۔' 
 ویب ڈویلپر طلحہ عاصم جیسے لوگوں کے لیے گھر میں روزہ رکھنا اس لیے مشکل ہو رہا ہے کہ گھر والے سمجھتے ہیں دفتر سے چھٹیاں ہیں اور دفتر والے سمجھتے ہیں کہ بندہ گھر پر فارغ ہے اس لیے زیادہ کام کی ڈیمانڈ کرتے ہیں۔ 
'پچھلے سال مجھے یاد ہے کہ صبح اٹھ کر آرام سے دفتر جانا، افطاری سے تھوڑی دیر پہلے واپس آکر روزہ افطار کر لینا۔ اب صبح اٹھ کر پہلے گھر والوں کے کام دوپہر میں دفتر کا کام اور افطاری سے پہلے کام سے فارغ ہوکر افطاری میں گھر والوں کی مدد کرنا اور رات میں پھر دفتر کا کام کرنا۔ ہماری تو ڈیوٹی ڈبل ہوگئی ہے۔' 

گھر سے باہر کام کرنے والوں نے ہمیشہ سے ہی یہ خواہش کی ہے کہ کاش انہیں رمضان میں چھٹی مل جایا کرے (فائل فوٹو: روئٹرز)

طلحہ عاصم کہتے ہیں کہ طویل عرصے بعد مسلسل 20 روزے مکمل طور پر گھر والوں کے ساتھ گزارنے کے بعد ایک مختلف احساس ہو رہا ہے۔
'میرا زیادہ تر وقت گھر سے باہر دفتر یا پھر رات کو دوستوں کے ساتھ گپ شپ میں گزرتا تھا۔ اب گھر پر بیٹھ گئے ہیں تو زندگی عجیب سی ہو گئی ہے۔ گھر اور دفتر والوں کی توقعات بڑھ گئی ہیں۔ اوپر سے دفتر والوں نے تنخواہیں روک رکھی ہیں ایسے میں کچھ بھی کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔' 
الماس طیب اور طلحہ عاصم نے تو کیمرے پر آ کر گھر پر رمضان گزارنے کی روداد سنا دی۔ بہت سے دیگر خواتین و حضرات نے بوجوہ کیمرے پر بات کرنے سے معذرت کی۔ کچھ خواتین نے لاک ڈاؤن کے باعث گھر پر رہ کر کام کرنے کو  بہت مشکل قرار دیا ہے۔ 

'گھر والے سمجھتے ہیں دفتر سے چھٹیاں ہیں اور دفتر والے سمجھتے ہیں کہ بندہ گھر پر فارغ ہے۔' (فائل فوٹو: روئٹرز)

ان کا موقف ہے کہ عموماً جب دفتر جاتے ہیں تو واپس آ کر گھر کے کاموں میں رعایت مل جاتی ہے۔ گھر کی دیگر خواتین کی وجہ سے ملنے والی سپورٹ سے گھر کا کام نہیں کرنا پڑتا لیکن جب دفتر نہیں جانا تو پھر دفتری کام کے ساتھ ساتھ گھر کے کاموں میں بھی اپنے حصے کا کام  کرنا پڑ رہا ہے۔ 
سکول ٹیچر سعدیہ سلیم کے مطابق 'پہلے صبح اٹھ کر سکول جانا ہوتا تھا اور واپس آ کر ماں اور بڑی بہن کی وجہ سے گھر کا کام نہیں کرنا پڑتا تھا۔ حالانکہ میں اپنی کلاس کا کام تیار کرکے واٹس ایپ کے ذریعے سب کو بھیجتی ہوں۔ طلبا اور ان کے والدین کی کالز لیتی ہوں۔'

کچھ افراد کہہ رہے ہیں کہ گھر پر رمضان نے ڈیوٹی تین گنا بڑھا دی ہے۔ فائل فوٹو: روئٹرز

ان کو فون پر یا ویڈیو کالز پر پڑھاتی اور سمجھاتی ہوں۔ چونکہ میں سکول نہیں جا رہی تو میرے حصے کے کام مجھے بتا دیے گئے ہیں اور وہ کرنے کے لیے مجھے زیادہ توانائی صرف کرنا ہڑ رہی ہے۔ گذشتہ رمضان کی نسبت یہ رمضان مشکل سے گزر رہا ہے۔' 
'یہ تو شکر ہے اس دفعہ فیملی اور فرینڈز کے افطار ڈنر کا کوئی پروگرام نہیں ہے ورنہ یہ مشکل دوگنی بھی ہو سکتی تھی کیونکہ اس معاملے میں ابا اور بھائی کی نظر مجھ پر ہی پڑتی ہے۔‘

شیئر: