Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’گرنے والے جہاز میں فنی خرابی نہیں تھی‘

جہاز کے کسی حصے میں خرابی سامنے آئے تو کمپنی ساری دنیا میں الرٹ جاری کر دیتی ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
کراچی میں گذشتہ ماہ پی آئی اے کے طیارے پی کے 8303 کے المناک حادثے کی ابتدائی تحقیقات میں طیارہ ساز کمپنی ایئربس نے اے 320 جہاز میں کسی قسم کی فنی خرابی نہ ہونے کا عندیہ دیا ہے اور دنیا بھر کی ایئر لائنوں کو اس طرح کے جہازوں کے آپریشن جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
دوسری طرف پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ خان نے طیارہ ساز کمپنی کی رپورٹ ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی آئی اے پاکستان کی حکومت کی جانب سے ہونے والی حتمی انکوائری رپورٹ کی روشنی میں اپنا لائحہ عمل طے کرے گی۔
یورپین طیارہ ساز کمپنی ایئربس کی جانب سے دنیا بھر کی ایئر لائنز کو لکھے گئے خط میں 22 مئی کو کراچی میں ہونے والے طیارہ حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ پیش کی گئی ہے۔
اردو نیوز کے پاس دستیاب خط کے مطابق پاکستان میں آکر مفصل تحقیقات کے بعد ایئربس کی ٹیم اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ اے 320 جہاز چلانے والی کمپنیوں کو کوئی نئی سفارش نہ کی جائے۔
سول ایوی ایشن کے ماہرین کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ طیارہ ساز کمپنی نے حادثے کا شکار ہونے والے جہاز میں کوئی فنی خرابی نہیں پائی ہے۔

22 مئی کو لاہور سے کراچی آنے والا طیارہ آبادی میں گر گر تباہ ہو گیا تھا۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

ماہرین کے مطابق اگر طیارہ حادثے کی تحقیقات کے دوران جہاز کے کسی حصے میں خرابی سامنے آئے تو طیارہ ساز کمپنی وہ خرابی دور کرنے تک ساری دنیا میں الرٹ جاری کر کے اس طرح کے طیاروں کو گراؤنڈ کرنے کی ہدایت کر دیتی ہے۔
واضح رہے کہ 22 مئی کو لاہور سے کراچی آنے والا طیارہ پی کے 8303 کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر اترنے سے کچھ منٹ قبل ہی تکنیکی خرابی کے باعث قریبی آبادی میں گر گر تباہ ہو گیا تھا۔ طیارے میں 99 افراد سوار تھے، جن میں سے 97 افراد ہلاک جبکہ دو افراد معجزانہ طور پر بچ گئے تھے۔

فرانس سے ایئربس کی ٹیم تحقیقات کے لیے پاکستان آئی۔ فائل فوٹو: روئٹرز

وفاقی حکومت نے 22 مئی کو ہی حادثے کے فوراً بعد تحقیقات کے لیے چار رکنی ٹیم تشکیل دی تھی۔ ایوی ایشن ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق تحقیقاتی ٹیم کی سربراہی ایئر کموڈور محمد عثمان غنی کر رہے ہیں جبکہ ونگ کمانڈر ملک محمد عمران، گروپ کیپٹن توقیر اور ناصر مجید تحقیقاتی ٹیم کے ممبرز ہیں۔
حادثے کے چند دن بعد فرانس سے ایئربس کی ٹیم تحقیقات کے لیے پاکستان آئی اور جائے حادثہ کا تفصیلی معائنہ کیا اور معلومات اکھٹی کیں۔
تحقیقات کے بعد 5 جون کو جاری اپنے خط میں ایئربس کے چیف پراڈکٹ سیفٹی آفیسر یانک مالینگے نے بتایا کہ پاکستان سے طیارے کے فلائیٹ ڈیٹا ریکارڈر اور کاک پٹ وائس ریکارڈر کو پیرس لے جا کر ان کا جائزہ لیا گیا جس میں پاکستان کی تحقیقی ٹیم نے بھی رہنمائی کی۔ دونوں ریکارڈرز سے تحقیق کے دوران اہم معلومات حاصل ہوئیں۔

پی آئی اے کے ترجمان نے کہا طیارہ ساز کمپنی نے حفاظتی اقدامات کے حوالے سے کوئی سفارش نہیں دی۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

معلومات کے جائزے کے بعد ایئربس نے فیصلہ کیا کہ کوئی نئی حفاظتی سفارشات جاری نہ کی جائیں۔ کمپنی نے یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ تحقیقات کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی۔
اس حوالے سے اردو نیوز کے رابطہ کرنے پر پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ خان نے کہا کہ طیارہ ساز کمپنی کی جانب سے حفاظتی اقدامات کے حوالے سے کوئی سفارش نہیں دی گئی۔ جس کا مطلب کہ جہاز فلائیٹ کے لیے محفوظ تھا اور اسی طرح پی آئی اے کے پاس موجود اس طرح کے دوسرے جہاز بھی محفوظ ہیں اور بین الاقوامی سرٹیفیکیشن کے تحت ہی چل رہے ہیں۔

ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ 22 جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے کی توقع کی جارہی ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

 ان کا کہنا تھا کہ خط کا مطلب ہے کہ 'جہاز میں مینوفیکچرنگ کا کوئی فالٹ سامنے نہیں آیا اور نہ ہی اس کی مرمت اور دیکھ بھال کے حوالے سے کوئی کمی دیکھی گئی۔'
یاد رہے کہ وفاقی وزیر ہوا بازی سرور خان نے حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ میں یقین دہانی کروا رکھی ہے کہ حادثے کے حوالے سے ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ 22 جون کو قومی اسمبلی میں پیش کی جائے گی جبکہ مکمل رپورٹ چھ ماہ سے ایک سال کے دوران سامنے لائی جائے گی۔

شیئر: