Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فلپائن میں کورونا بحران، ’جوتے لے لیں مُرغی دے دیں‘

فلپائن میں خاتون نے جوتوں، بچوں کی بوتلوں اور جیکٹ کے بدلے مرغی اور چاول حاصل کیے (فوٹو: اے ایف پی)
دنیا کے کئی ممالک کی طرح فلپائن میں بھی کورونا وائرس کی وجہ سے لوگوں کو روز مرہ کی اشیا تک رسائی کا مسئلہ درپیش ہوا ہے، جس میں زیادہ تر کھانے پینے کا سامان شامل ہے۔
اس کمی کو پورا کرنے کے لیے فلپائن کے لوگوں نے فیس بک پر کچن کا سامان، بچوں کے کھلونوں کا کھانے کے عوض تبادلہ کیا۔
اسی طرح لورین امپیریو نام کی ایک خاتون نے آن لائن اپنے نائیکی کے جوتوں کے بدلے ایک مرغی خریدی۔
انہوں نے یہ تبادلہ اس مقصد کے لیے بنائی گئی ایک ویب سائٹ پر کیا، اور کورونا وائرس کی وبا کے دوران فلپائن میں اس طرح کی کئی ویب سائٹس بنی ہیں۔
لورین امرپیریو کے دو بچے ہیں اور ان کے شوہر منیلا میں ڈونٹس کی ایک دوکان پر پارٹ ٹائم کام کرتے ہیں۔
ان کے شوہر کے کام کے اوقات میں وبا کی وجہ سے کمی آئی ہے اور اب وہ ایک مہینے میں صرف نو ہزار پیسوس یا 185 ڈالر کما رہے ہیں، جن میں سے آدھا ان کے اپارٹمنٹ کے کرائے میں خرچ ہو جاتا ہے۔
چیزوں کے تبادلے کے ان گروپوں نے لورین امپیریو اور فلپائن میں ایسے کئی افراد کو کورونا وائرس کی وجہ سے لگائے جانے والے لاک ڈاؤن کے دوران مسائل کے حل فراہم کیے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس وقت فلپائن میں ہزاروں ممبران کے ساتھ ایسے 98 گروپ سرگرم ہیں۔ ان میں سے تقریباً تمام ہی وبا کے دوران شروع ہوئے۔

'یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ آپ کو بل ادا کرنے اور گھر کا سامان لینے پیسے ملیں گے یا نہیں۔' فوٹو: اے ایف پی

آن لائن شاپنگ کی سہولیات فراہم کرنے والے آئی پرائس گروپ کی حالیہ تحقیق کے مطابق گوگل پر فلپائن سے 'بارٹر فوڈ' کے الفاظ کی سرچ مئی سے اپریل کے دوران 300 فیصد بڑھی۔
ان میں سے فیس بک پر لاکھوں ممبران والے ان بارٹر گروپس کے تجزیے میں دیکھا گیا کہ لوگوں کو سب سے زیادہ تلاش اشیائے خورد و نوش کی رہی۔
لوگ تبدیل ہونے والی اشیا کی تصاویر ان گروپس پر لگاتے ہیں اور ساتھ یہ بھی لکھتے ہیں کہ انہیں بدلے میں کس چیز کی تلاش ہے، پھر اس کی قیمت پر کمنٹس سیکشن میں بحث ہوتی ہے۔
امپیریو لورین نے بچوں کے دودھ کی بوتلیں بھی ان گروپس پر تبدیل کیں اور چاولوں کے لیے بچوں کی ایک جیکٹ بھی تبدیل کی۔
ان کا کہنا ہے کہ پرانی چیزیں مشکل سے لی جاتی ہیں لیکن سامان کے بدلے کھانا ملنا کافی آسان ہے۔

شیئر: