Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مقنا کے دلکش نظارے اور ریت میں ابلتے چشمے

قدرتی مناظر کے شائقین یہاں بڑی تعداد میں آتے ہیں- فوٹو العربیہ
 سعودی عرب میں  البدع کمشنری کی تحصیل  ’مقنا‘  پہاڑ، سمندر، نخلستان اور ریت کے تودوں کے درمیان چشموں کے سنگم کے لیے مشہور ہے۔ 
العربیہ نیٹ کے مطابق مقنا سعودی عرب کا ایسا  دلکش مقام ہے جہاں وسیع و عریض بلند و بالا پہاڑوں کی چٹانوں سے متصل قدیم تاریخی عمارتوں کے درمیان پانی اور درخت ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں- مقنا کے قدرتی مناظر منفرد نوعیت کے ہیں۔  
مقنا سیر کے لیے آنے والے اس کے سحر میں گرفتار ہوجاتے ہیں۔ یہاں کے مناظر کائنات کے خالق کی کاریگری کے شاہکار ہیں۔  

مقنا کے شمال میں وادی طیب واقع ہے- فوٹو العربیہ

آپٹیکل پیکٹوریل محمد الشریف نے مقنا کے جمالیاتی قدرتی مناظر کو کیمرے میں قید کرکے قدرتی مناظر کے شائقین سے داد سمیٹی ہے۔
مقنا کے شمال میں وادی طیب واقع ہے- یہ  ڈھلوان والے بلند و بالا پہاڑوں کے درمیان تنگ راہداری ہے۔ اس کا پانی خلیج عقبہ میں جاکر گرتا ہے۔ مقنا کا ساحل غوطہ خوری سمیت مختلف سمندری کھیلوں کے شائقین کا مرکز ہے۔  یہاں ملائم اور نرم چھوٹی چھوٹی رنگ برنگی کنکریاں دیکھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔ یہاں کا سمندری ماحول رنگا رنگ قسم کا ہے۔ مونگوں کی دنیا ہے  جن کے اطراف خوبصورت سمندری مخلوقات تیرتی اور گھومتی نظر آتی ہیں۔ 

مقنا، البدع کمشنری سے 35 کلو میٹر دور مغرب میں واقع ہے- فوٹو العربیہ

مقنا کے مشرق میں تاریخی چشمے موجود ہیں۔ یہ ریت کے وسط سے ابلنے والے عجیب و غریب قسم کے چشمے ہیں۔ یہاں کے پانی سے نخلستانوں کی آبپاشی کی جاتی ہے۔
مقنا شمالی سعودی عرب کے صوبے تبوک میں خلیج العقبہ پر واقع ساحلی شہر ہے یہ حقل اور شیخ حمید کے درمیان واقع ہے۔ 
مقنا، البدع کمشنری سے 35 کلو میٹر کی جانب مغرب میں واقع ہے۔ تبوک سے اس کا فیصلہ  235 کلو میٹر ہے۔ یہاں موسی کا چشمہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ عین طیب سے بیس کلو میٹر دور ہے۔ 

 

خود کو اپ ڈیٹ رکھیں، واٹس ایپ گروپ جوائن کریں

شیئر: