Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سبزی خور کیسے پروٹین حاصل کر سکتے ہیں؟

نباتاتی خوراک وزن میں کمی کے ساتھ ذیابیطس پر قابو پانے میں بھی مدد دیتی ہے۔ فوٹو فری پک
خوراک میں پائے جانے والے غذائی اجزا میں سے پروٹین سب سے زیادہ اہمیت کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔ نہ صرف یہ پٹھوں کو مضبوط کرنے کا کام کرتی ہے بلکہ جسم میں ٹیشو کی مرمت، مدافعتی نظام کی مضبوطی اور ہارمون اور انزائم کے بنانے میں بھی اہم کرداد ادا کرتی ہے۔
روایتی طور پر گوشت، انڈے یا دودھ ہی پروٹین حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے لیکن حالیہ چند سالوں میں لوگوں کا رحجان نباتات پر مبنی خوارک کی طرف ہوتا جا رہا ہے۔
امریکی ویب سائٹ ہیلتھ لائن میڈیا کے مطابق نباتاتی ذرائع سے حاصل کی گئی پروٹین کی طلب زیادہ سے زیادہ بڑھ رہی ہے۔
محقیقین کے خیال میں نباتاتی خوراک سے وزن کم ہونے کے ساتھ ساتھ ٹائپ 2 ذیابیطس پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے، بلکہ دل کی بیماریاں لگنے کا خطرہ بھی کم ہو جاتا ہے۔
ویسے تو نباتاتی خوراک سے پروٹین وافر مقدار میں حاصل کی جا سکتی ہے لیکن اکثر اوقات یہ گوشت سے ملنے والی پروٹین کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔
نباتاتی ذرائع سے پروٹین حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اسی خوراک کا چناؤ کیا جائے جس سے جسم کی ضرورت کے مطابق پروٹین حاصل ہو جائے۔

 آلو، پالک، بروکولی اور شکر قندی میں پروٹین مناسب مقدار میں موجود ہوتی ہے۔ فوٹو فری پک

سویابین پروٹین حاصل کرنے کا سب سے اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ نباتاتی خوارک کو ترجیح دینے والے افراد سویا بین ضرور اپنی ڈائیٹ میں شامل رکھتے ہیں۔
مغربی ممالک میں سویا بین سے بنا ہوا دودھ اور توفو بہت پسند کیا جاتا ہے۔
دالوں میں بھی مناسب مقدار میں پروٹین پائی جاتی ہے۔ دالوں کے علاوہ چاول اور مختلف اقسام کی پھلیاں بھی پروٹین حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔
خالص گندم، براؤن چاول،  مکئی اور جو کو بھی ضرور اپنی خوارک کا حصہ بنانی چاہیے۔
جبکہ بادام، کاجو، پستہ، السی کے بیج، اور تخ ملنگا روزانہ کی بنیاد پر استعمال کرنے سے پروٹین کی کمی کو پورا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
سبزیوں میں آلو، شکر قندی، پالک اور بروکولی میں بھی پروٹین مناسب مقدار میں موجود ہوتی ہے۔

شیئر: