Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

چینی حکام پر پابندیاں:امریکی سفیر کی طلبی،جوابی کارروائی کی دھمکی

چین کی نیشنل پیپلز کانگریس کے تمام 14 وائس چیئر پرسنز پر پابندیاں لگائی گئی ہیں(فوٹو: روئٹرز)
چین نے ہانگ کانگ کے معاملے پر امریکہ کی طرف سے چینی حکام پر لگائی جانے والی پابندیوں کے ردعمل میں بیجنگ میں تعینات نگران امریکی سفیر کو طلب کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکہ نے ہانگ کانگ میں نیشنل سکیورٹی کا قانون منظور کرنے پر پیر کو 14 چینی اعلیٰ عہدیداروں پر معاشی اور سفری پابندی لگائی تھی۔
یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ چین کی نیشنل پیپلز کانگریس کے تمام 14 وائس چیئر پرسنز پر پابندیاں لگائی گئی ہیں۔
یہ پابندیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب چین نے امریکہ سے تمام سطحوں پر مذاکرات جاری رکھنے اور قانون دانوں سمیت دیگر گروپوں کے درمیان تبادلے کی اپیل کی۔
چین نے ان پابندیوں پر تنقید کی ہے اور اس کی وزارت خارجہ نے منگل کو اپنی ویب سائٹ پر لکھا کہ چینی نائب وزیر خارجہ زینگ زیگوانگ نے ’احتجاج اور مذمت‘ کے لیے امریکی سفارت خانے کے سفارت کار کو طلب کیا۔
امریکی ایمبیسی کی ویب سائٹ پر موجود بیان کے مطابق امریکی سفارت کار نے چینی نائب وزیر خارجہ کو بتایا کہ چین نے قانون کو کانگ کانگ میں آزادی اظہار کو دبانے اور چین کی پالیسیوں کے خلاف پر امن طور پر آواز اٹھانے والے شہریوں کی آواز کو بند کرنے کے لیے کئی بار استعمال کیا۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق چینی نائب وزیر خارجہ نے جوابی کارروائی کی دھمکی دی۔
انہوں نے کہا کہ ’ امریکہ کا یہ عمل چینی شہریوں میں غصے کا سبب بنا ہے اور ہانگ کانگ میں نیشنل سکیورٹی کے قانون پر عمل درآمد کروانے کے ارادے کو مزید مستحکم کیا ہے۔‘

شیئر: