Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کمپنی والے نیا ایگریمنٹ کرارہے ہیں، کیا کریں؟ 

غیر ملکی کارکن کا ایگریمنٹ محدود مدت کے لیے ہوتا ہے (فوٹو: ٹوئٹر)
کورونا وائرس کی وجہ سے سعودی عرب میں بین الاقوامی سفر پر عارضی پابندیاں مرحلہ وار ختم کی جارہی ہیں۔  
مملکت سے جو غیر ملکی چھٹی پر گئے ہوئے تھے اور کورونا کے حالات کے سبب وہ وقت مقررہ پر نہیں آسکے ان کے اقامے اور خروج وعودہ کی مدت میں توسیع حکومت کی جانب سے کی گئی تھی۔  
حکومت کی جانب سے دو بار مفت توسیع کے بعد حالات بہتر ہونے کے بعد پابندیاں مرحلہ وار اٹھائی گئیں۔ بعدازاں سعودی حکومت نے کارکنوں کے اقاموں اور خروج وعودہ کی مدت میں توسیع کے لیے طریقہ کار وضع کرتے ہوئے ان کے اقامے اور خروج و عودہ کی مدت میں توسیع کا طریقہ کار جاری کیا جس کے تحت مقررہ مہینوں کی فیس جمع کرانے کے بعد اقامہ اور خروج و عودہ کی مدت میں توسیع کی جاسکتی ہے۔ 

پی سی آر ٹیسٹ کے بغیر سیٹ بک نہیں ہوسکتی (فوٹو: روئٹرز)

یاد رہے مملکت آنے کے لیے ’پی سی آر‘ ٹیسٹ انتہائی اہم ہے جس کے بغیر سیٹ بھی بک نہیں ہو سکتی۔
قارئین اردو نیوز کی جانب سے موصول ہونے والے بعض سوالات کے جوابات حاضر خدمت ہیں۔ 
عمران مہر: میں جس کمپنی میں کام کرتا ہوں وہاں سب لوگوں سے ایگریمنٹ کروائے جارہے ہیں، معلوم یہ کرنا ہے نئے قانون کے تحت دوبارہ ایگریمنٹ کرانا ہوں گے؟ 
جواب: سعودی عرب میں محنت کے قانون کے مطابق ملازمت کا معاہدہ لازمی ہوتا ہے۔ قانون کے مطابق غیر ملکی کارکن کے لیے ورک ایگریمنٹ محدود مدت کے لیے ہوتا ہے۔ 
محدود مدت کا معاہدہ سالانہ بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ جب معاہدہ تجدید ہوتا ہے اس میں نئی شقیں جو تبدیل ہوتی ہیں، ان کا اندراج لازمی ہے ۔ یعنی کارکن کی تنخواہ اور دیگر مراعات میں کیا جانے والا اضافہ اسکے علاوہ  آجر کی جانب سے نئی شرائط کا اندراج سالانہ بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ 
اگر آپکی کمپنی ایگریمنٹ سائن کررہی ہے تو اس سے نئے قانون کے مطابق کوئی فرق نہیں پڑے گا نئے قانون میں غیر ملکی کارکنوں کو کافی مراعات حاصل ہوں گی جس کے تحت وہ کام کرنے میں آزاد ہوں گے تاہم دوسری جگہ کام کرنے کے لیے انہیں رجسٹرڈ کمپنی جو سعودائزیشن کی شرائط پوری کرتی ہو کی جانب سے مصدقہ ڈیمانڈ نوٹ درکار ہوگا۔ 

نئے قانون میں ورک ڈیمانڈ ہی ایگریمنٹ کی بنیاد ہوگی(فوٹو: عاجل)

مرزا بلال: نئے قانون میں اقامہ تجدید کون کرے گا، جو لوگ آزاد کام کررہے ہیں ان کا ایگریمنٹ کس طرح ہوگا؟ 
جواب: سب سے پہلے اس بات کو واضح کرلیں کہ سعودی عرب میں آزاد کام کرنے کی کوئی قانونی اصطلاح نہیں ہے اور نہ ہی اس حوالے سے قانون میں کوئی شق ہے۔ 
جہاں تک ایگریمنٹ کی بات ہے اس حوالے سے ابھی تک جواطلاعات ہیں ان کے مطابق غیر ملکی کارکنوں کے لیے لازمی ہوگا کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ قابلیت کے مطابق کسی ایسی کمپنی سے کام کی ’طلب ‘ حاصل کریں جو انکی خدمات حاصل کرنے کی خواہاں ہوں۔  
ورک ڈیمانڈ ہی ایگریمنٹ کی بنیاد ہوگا جس کے تحت کارکن دوسری جگہ کام کرنے کے اہل ہوں گے۔
ایگریمنٹ کو سابق کمپنی اور نئی کمپنی کے ایچ آر کا شعبہ تصدیق کرے گا جس کے بعد قانونی طور پر کام کرسکیں گے۔ 
روح اللہ: میرا بھائی چھٹی پرگیا تھا اس دوران کورونا پابندی کی وجہ سے چھٹی ختم ہوگئی بعدازاں اس کی چھٹی ’خروج وعودہ‘ بڑھوائی تھی مگر اس دوران اسے کورونا ہو گیا، اب کیا کرسکتے ہیں؟

خروج وعودہ کی مدت میں ’ابشر‘ سے توسیع کرائی جاسکتی ہے (فوٹو: ٹوئٹر) 

جواب: سعودی حکومت کی جانب سے ایسے افراد جو کورونا کی وجہ سے وقت پر مملکت نہیں آسکے ان کی چھٹی یعنی ’خروج وعودہ‘ کی توسیع کے لیے حکام نے خصوصی طور پر’ابشر‘ کے ذریعے توسیع کی اجازت دی ہے۔ 
آپ کے بھائی بیماری کی وجہ سے سفر نہیں کرسکے۔
یہ بھی یاد رکھیں کہ سعودی عرب آنے کے لیے کورونا ٹیسٹ لازمی ہے اگر کسی کا ٹیسٹ مثبت آتا ہے تو اسے سفر کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی اس لیے آپ اپنے بھائی کے خروج وعودہ میں مزید توسیع کراسکتے ہیں جس کے لیے آپ انہیں بھائی کی بیماری کے بارے میں مطلع کریں اور کفیل یا کمپنی سے درخواست کریں وہ چھٹی میں توسیع کردیں گے۔ جب بھائی کورونا وائرس سے صحت یابہو جائیں تو وہ دوبارہ ٹیسٹ کرانے کے بعد سیٹ بک کرسکتے ہیں۔

 

خود کو اپ ڈیٹ رکھیں، واٹس ایپ گروپ جوائن کریں

شیئر: