Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

دِل سے دِلی: کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے!

انڈیا پاکستان کو احساس پو گیا کہ لڑائی جھگڑے میں کچھ نہیں رکھا اچھے پڑوسیوں کی طرح مل کر رہا جائے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا اور پاکستان کے تعلقات میں اونچ نیچ تو چلتی رہتی ہے لیکن گزشتہ چند دنوں میں جو ہوا ہے وہ زیادہ تر لوگوں کی سمجھ سے باہر ہے۔
فروری کے آخری ہفتے میں ایک دن اچانک دونوں ملکوں کی افواج نے یہ اعلان کیا کہ وہ 2003 کے جنگ بندی معاہدے پر سختی سے عمل کریں گی۔ لیکن کیوں؟ گزشتہ چند مہینوں میں کیا بدلا ہے؟
نہ تو کشمیر میں حالات میں کوئی گراں قدر تبدیلی آئی ہے اور نہ ہی دلی یا اسلام آباد میں حکومت بدلی ہے۔ نئی حکومتیں آتی ہیں تو وہ کچھ دنوں تک امن اور دوستی کی باتیں کرتی ہیں اور پھر انہیں احساس ہوتا ہے کہ یہ کام اتنا آسان نہیں ہے جتنا باہر سے لگتا ہے۔
تو پھر ہوکیا رہا ہے؟ کون کس سے بات کررہا ہے اور کہاں؟ اور انڈیا اور پاکستان کے صحافیوں کو مہینوں تک اس کی خبر کیوں نہیں ہوئی۔ کیا واقعی انڈیا کے قومی سلامتی کے مشیر نے پاکستانی فوج کے سربراہ سے براہ راست بات کی ہے جیسا کہ کچھ انڈین اخبارات قیاس آرائی کر رہے ہیں؟
کیا پاکستانی فوج کے سربراہ نے جب سب کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے کی بات کی تھی تو وہ اس بات کا اشارہ تھا کہ ہاتھ بڑھایا بھی جاچکا ہے اور ملایا بھی؟
اور اگر واقعی کوئی بیک چینل ڈپلومیسی جاری ہے تو اس میں کون کون شامل ہے؟ اور یہ بات چیت کہاں ہو رہی ہے اور کب سے؟ آپ کو شاید یاد ہو کہ دسمبر 2017 میں دونوں ملکوں کے قومی سلامتی کے مشیر خفیہ طور پر بنکاک میں ملے تھے، تب بھی کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوئی تھی۔
اصل سوال یہ ہے کہ انڈیا پاکستان، در پردہ ہی سہی، بات کیوں کر رہے ہیں؟ کیا انہیں آخرکار یہ احساس ہو گیا ہے کہ لڑائی جھگڑے میں کچھ نہیں رکھا، چلو اچھے پڑوسیوں کی طرح مل جل کر رہتے ہیں۔
یا پھر کوئی ہے جس کی دونوں عزت کرتے ہیں، یا عزت نہ بھی کرتے ہوں لیکن اس کی بات ٹال نہیں سکتے، جس نے دونوں کو سمجھایا ہے کہ یار غصہ چھوڑو اور تعلقات استوار کرنے کی ایک کوشش اور کر کے دیکھو، ہو سکتا ہے کہ اس مرتبہ بات بن جائے۔

پہلے چین کے ساتھ معاہدہ ہوا اور اس کے فوراً بعد پاکستان کے ساتھ۔ کیا دونوں کا آپس میں کوئی تعلق تھا؟ (فوٹو: اے ایف پی)

انڈیا میں ماہرین دو ملکوں کا ذکر کر رہے ہیں، ایک تو امریکہ جس کا نام ویسے ہی سب سے پہلے ذہن میں آتا ہے اور جو دونوں پر وقتاً فوقتاً دباؤ ڈالتا رہتا ہے کہ وہ اور کچھ نہیں تو کم سے کم آپس میں بات چیت کا راستہ کھلا رکھیں۔
دوسرا نام متحدہ عرب امارات کا جس کے پاکستان سے روایتاً اچھے تعلقات ہیں اور جس کے ساتھ گزشتہ کچھ  عرصے میں انڈیا کے روابط بھی مضبوط ہوئے ہیں۔
اس مرحلے پر سوال زیادہ ہیں اور جواب کم۔ کچھ تجزیہ ہے لیکن زیادہ تر قیاس آرائی۔ جو ہو رہا ہے اس میں چاہے امریکہ نے پہل کی ہو یا یو اے ای نے، لیکن دونوں افواج کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان سے لگتا ہے کہ اس مرتبہ دونوں ہی کافی سنجیدہ کوشش کرنا چاہتے ہیں۔
اچانک اس طرح کا بیان جاری ہونا اور اس میں کشمیر اور دہشتگردی کا ذکر نہ ہونا غیر معمولی پیش رفت ہے ورنہ اتنی کشیدگی کے ماحول میں ایک دوسرے کے خدشات دور کرنے کا عہد کیاجارہا ہو تو لگتا ہے کہ غلطی سے کوئی پرانا بیان تو جاری نہیں ہوگیا۔
جو بنیادی سوال ذہن میں آتے ہیں ان میں سرفہرست تو یہ ہے کہ چین نے لداخ کے ان علاقوں میں اچانک دراندازی کیوں کی جن پر انڈیا بھی اپنا دعوی پیش کرتا ہے؟ ہمیں نہیں معلوم کہ اس بات کا پاکستان کے ساتھ روابط سے کچھ لینا دینا ہے یا نہیں۔ لیکن چین انڈیا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔
دونوں مجموعی طور پر تقریباً 80 ارب ڈالر کا کاروبار کرتے ہیں۔ پھر چین نے انڈیا سے اپنے تعلقات بگاڑنے کا خطرہ کیوں مول لیا اور پھر اب کیوں اپنی افواج پیچھے ہٹا رہا ہے۔ چین اور انڈیا کے درمیان کشیدگی اچانک کافی کم ہوگئی ہے۔ تو سوال نمبر ایک: چین کی فوج آگے کیوں آئی اور کچھ مہینوں کی محاذآرائی کے بعد اچانک واپس کیوں چلی گئی؟
دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ جب چین اور انڈیا کے تعلقات اتنے کشیدہ ہوگئے تھے کہ جنگ کا ذکر کیا جارہا تھا، اور انڈیا اگلے محاذوں پر بھاری نفری تعینات کر رہا تھا، تو پاکستان کی جانب سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کیوں نہیں کی گئی؟

فروری کے آخری ہفتے میں ایک دن اچانک دونوں ملکوں کی افواج نے یہ اعلان کیا کہ وہ دو ہزار تین کے جنگ بندی معاہدے پر سختی سے عمل کریں گی۔ (فوٹو: اے ایف پی)

پاکستانی فوج کے لیے اچھا موقع تھا کہ وہ بھی لائن آف کنٹرول پر اپنی جانب سے کارروائی تیز کر سکتا تھا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا؟ بعد میں انڈین فوج کے سربراہ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ (چین کے ساتھ محاذ آرائی کے دوران) بظاہر چین اور پاکستان ایک دوسرے کی مدد نہیں کررہے تھے۔
پہلے چین کے ساتھ معاہدہ ہوا اور اس کے فوراً بعد پاکستان کے ساتھ۔ کیا دونوں کا آپس میں کوئی تعلق تھا؟
کیا واقعی جو بائیڈن کے صدر منتخب ہونے کا اس پیش رفت سے کوئی تعلق ہے اور اگر ہاں تو کیا انڈیا کو لگتا ہے کہ صدر بائیڈن کے دور میں چین کے تئیں امریکہ کی پالیسی اب بدلے گی اس لیے اسے بھی اپنی حکمت عملی بدلنی چاہیے۔
کیا واقعی یو اے ای کی بات میں اتنا وزن ہے کہ وہ انڈیا اور پاکستان کو بات چیت دوبارہ شروع کرنے پر مائل کرسکتا ہے؟ دو ہزار سولہ کی ‘سرجیکل سٹرائیکس‘ اور پھر دو سال پہلے ایک دوسرے کی حددو میں فضائی حملوں کے بعد اگر دونوں پھر بیٹھ کر بات کرتے ہیں تو یہ غیر معمولی پیش رفت ہوگی۔
اور سرکاری اہلکاروں کا انداز بھی بدلا ہوا ہے۔ انڈیا میں وزارت خارجہ کے ترجمان نے سمجھوتے کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بہت ہی متوازن اور محتاط زبان استعمال کی تھی جس سے لگتا ہے کہ دونوں کے درمیان کچھ کھچڑی تو ضرور پک رہی ہے۔
آخرکار برسوں بعد پہلی مرتبہ اس بات کی گنجائش نظر آنا شروع ہوئی ہے کہ بات چیت دوبارہ شروع ہوسکتی ہے۔

اگر دونوں ممالک کے درمیان کرکٹ ہو سکتی ہے تو پھر کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ (فوٹو: ٹوئٹر)

امید پر دنیا قائم ہے لیکن یہ بھی نہیں بھولناچاچیے کہ جب جب تعلقات میں بہتری کے آثار نظر آئے ہیں، کچھ نہ کچھ گڑبڑ ہوئی ہے۔
تجزیہ نگار اس مرتبہ بھی باور کرارہے ہیں کہ تاریخ کا بیگیج بہت زیادہ ہے، کشمیر پر نہ انڈیا اپنا موقف بدل سکتا ہے اور نہ پاکستان، اس لیے جن لوگوں نے یہ امیدیں باندھنا شروع کر دیا ہے کہ اب انڈیا پاکستان ایک دوسرے کے گلے میں ہار ڈالر کر گھومیں گے، انہیں ذرا حقیقت پسندی سے کام لینا چاہیے۔
لیکن کیا کریں۔ جب اخبارات میں انڈین سرکاری ذرائع کے حوالے سے یہ پڑھنے کو ملے کہ اگر کوئی ’واقعہ‘ پیش نہیں آتا اور لائن آف کنٹرول پر فائربندی جاری رہتی ہے تو پھر دونوں ملکوں کے درمیان کرکٹ اور دوسرے کھیلوں کے میدان میں روابط بحال ہو سکتے ہیں، تو امید خود بہ خود بندھنا شروع ہوجاتی ہے۔
اگر کرکٹ ہو سکتی ہے تو پھر کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ اور یہ مت بھولیے گا کہ پاکستان کے ٹینس پلئیر اعصام الحق قریشی اور انڈیا کے روہن بوپنا دوبارہ ڈبلز کے مقابلوں میں ایک ساتھ کورٹ میں اترنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
دونوں کی عمر چالیس سال ہے۔ پہلے کے مقابلے میں دونوں ہی شاید اب زیادہ میچور ہوں گے۔ اتفاق سے دونوں نے دو ہزار چودہ میں آخری مرتبہ ایک ساتھ کسی ڈبلز مقابلے میں حصہ لیا تھا۔ اسی سال مئی میں نریندر مودی انڈیا کے وزیراعظم بنے تھے۔
اشارے تو خوش آئند ہیں بس دعا کرتے رہیے کہ دونوں اپنی منزل تک پہنچ جائیں۔
اعصام اور بوپنا بھی اور انڈیا اور پاکستان بھی۔ اسی میں سب کی بھلائی ہے۔

شیئر: