Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اشرف غنی نے افغانستان کو ذاتی جاگیر کی طرح چلایا: سابق افغان سفیر

عمر ذاخیلوال کا کہنا تھا کہ اشرف غنی نے امن کے کئی مواقع ضائع کیے (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان میں افغانستان کے سابق سفیر ڈاکٹر حضرت عمر زاخیل وال کا کہنا ہے کہ ان کا ملک آج اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے جس کا ذمہ دار انہوں نے افغانستان کے صدر اشرف غنی کو قرار دیا ہے۔
اپنے ٹوئٹر پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ’پچھلے سات سالوں میں ڈاکٹر اشرف غنی نے افغان ریاست کو ایک ذاتی جاگیر کی طرح چلایا۔ انہوں نے سرکاری وسائل میڈیا اور سوشل میڈیا پر خرچ کیے جس کا مقصد اپنے امیج کو افغانستان کے سب سے بڑا لیڈر کے طور پر دکھانا تھا۔‘
انہوں نے افغان صدر پر مزید الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ اشرف غنی نے بدانتظامی، طاقت کے غلط استعمال، آئین کی خلاف ورزی اور سیاسی سازشوں کے ذریعے اپنے اقتدار کو طول دیا اور امن کے کئی مواقع ضائع کیے۔
ان کے مطابق ’اس کے نتیجے میں افغان سیکیورٹی فورسز کنفیوژن کا شکار ہوگئیں کہ وہ ریاست کی بقاء کے لئے لڑ رہی ہیں یا ڈاکٹر غنی کے اقتدار کو طول دینے کے لیے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہر ہفتے درجنوں اضلاح بنا کسی لڑائی کے طالبان قبضے میں جانے کی وجہ یہی کنفیوژن ہے۔‘
ڈاکٹر ڈاکٹر عمر ذاخیل وال کے مطابق اشرف غنی کے منصب صدارت پر بیٹھے رہنے تک افغانستان میں امن واپس نہیں آ سکتا کیوں کہ افغان صدر نے امن حاصل کرنے کے کئی مواقع ضائع کیے۔
ڈاکٹر عمر ذاخیل وال کی افغان صدر اشرف غنی پر تنقید ایک ایسی وقت سامنے آئی ہے جب افغانستان میں طالبان کی جنگی مہم کامیاب ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔
افغانستان میں حکام کے مطابق افغان طالبان نے دارالحکومت کابل سے محض 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع صوبہ لوگر کے دارالحکومت پلِ علم پر قبضہ کر لیا ہے۔  اس سے قبل طالبان نے قندھار اور جنوب میں اہم شہر لشکرگاہ پر بھی قبضہ کر لیا تھا اور افغان سکیورٹی ذرائع نے اس کی تصدیق بھی کر دی تھی۔
قندھار اور لشکرگاہ کی فتح کے بعد اب افغانستان کی حکومت کے ہاتھ میں صرف ملک کا دارالحکومت اور دیگر کچھ علاقے باقی بچے ہیں۔
یاد رہے کہ جمعرات کو طالبان نے افغانستان کے تیسرے بڑے شہر ہرات پر بھی قبضہ کر لیا تھا جو گیارہواں صوبائی دارالحکومت تھا جو طالبان کے قبضے میں گیا ہے۔  
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق طالبان کے ایک ترجمان نے سرکاری طور پر تصدیق شدہ ایک ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ ’قندھار کو مکمل طور پر قبضے میں لے لیا گیا ہے۔
 

شیئر: