Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

طالبان کا ’محفوظ راستہ دینے کا وعدہ‘، امریکہ نے افغانستان سے 3200 افراد نکال لیے

منگل کو وائٹ ہاؤس نے کہا تھا کہ ’11 ہزار امریکی شہری ابھی تک افغانستان میں موجود ہیں‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
امریکی فوج نے افغانستان سے اب تک 3200 سے زائد افراد کو نکال لیا ہے، ان میں منگل کو نکالے گئے 1100 افراد بھی شامل ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ایک امریکی عہدے دار نے بتایا کہ ’منگل کے روز امریکی فوجی جہازوں نے اپنی 13 پروازوں میں افغانستان سے تقریباً 1100 امریکی شہریوں، امریکہ کے مستقل رہائشیوں اور ان کے خاندانوں کو نکال لیا ہے۔‘
عہدیدار نے مزید بتایا کہ ’اب جب ہم نے انخلا کے عمل میں تسلسل قائم کرلیا ہے، ہم توقع کرتے ہیں کہ یہ تعداد مزید بڑھ جائے گی۔‘
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے عہدیدار نے یہ بھی بتایا کہ 3200 افراد جنہیں اب تک افغانستان سے باہر نکالا گیا ہے، ان میں امریکی اہلکار بھی شامل ہیں اور تقریباً دو ہزار افغان ’خصوصی تارکین وطن‘ کو بھی امریکہ منتقل کردیا گیا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق وائٹ ہاؤس نے منگل کو کہا کہ ’طالبان نے وعدہ کیا تھا کہ عام شہری کابل ایئرپورٹ پر محفوظ طریقے سے سفر کرسکتے ہیں۔ امریکی فوج نے طالبان کی وجہ سے فرار ہونے والے امریکیوں اور افغانوں کے لیے اپنے فضائی آپریشن کو تیز کردیا ہے۔
اس سے قبل منگل کے روز وائٹ ہاؤس نے کہا تھا کہ 11 ہزار امریکی شہری ابھی تک افغانستان میں موجود ہیں جن میں سفارت کار، کنٹریکٹرز اور دیگر شامل ہیں اور ان میں سے زیادہ تر طالبان کے قبضے کے بعد انخلا کے منتظر ہیں۔
خیال رہے کہ امریکہ 31 اگست کو انخلا کی آخری تاریخ سے پہلے اپنے تمام شہریوں کو افغانستان سے منتقل کرنا چاہتا ہے۔ ابھی حال ہی میں جب امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے اپنے بڑے سی 17 ٹرانسپورٹ جیٹ طیاروں کی افغانستان کے لیے پروازیں روزانہ دو درجن تک بڑھانے کا منصوبہ بنایا تو اس وقت ہزاروں امریکی فوجی ایئرپورٹ پر موجود تھے۔
امریکی حکام نے کہا کہ ’وہ طالبان کمانڈروں سے رابطے میں ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فلائٹ آپریشن حملے سے محفوظ رہے اور وہاں سے جانے والے شہریوں اور افغانوں کو محفوظ راستہ ملے۔‘
اس حوالے سے میجر جنرل ہانک ٹیلر نے پینٹاگون میں کہا کہ ’ہمارے درمیان کوئی تلخ بات چیت نہیں ہوئی، طالبان کی جانب سے کوئی حملہ نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی خطرہ تھا۔‘
تاہم دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے منگل کو کہا کہ ’امریکہ افغانستان میں اپنی بنیادی سفارتی موجودگی کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کر سکتا ہے، جو 31 اگست کے بعد امریکی سفارت خانہ بند ہونے کے بعد ایئرپورٹ سے باہر کام کرے گی۔‘
نیڈ پرائس نے کہا کہ ’اگر ہمارے لیے افغانستان میں طویل عرصے تک رہنا ناگزیز ہوا تو ہم اس بارے میں سوچ سکتے ہیں۔‘
انہوں نے طالبان سے یہ بھی کہا کہ ’وہ خواتین سمیت شہریوں کے حقوق کا احترام کرنے کے وعدوں پر عمل کریں۔’
انخلا کے لیے جاری امریکی آپریشن کے دوران ان افغان شہریوں کو نکالا گیا ہے جو امریکہ کے مہاجرین کے ویز ے کے حامل ہیں، ان میں سے زیادہ تر نے امریکی اور نیٹو افواج اوردیگر غیر ملکی شہریوں کے لیے مترجم کے طور پر کام کیا ہے اور ان میں وہ افغان بھی شامل ہیں جنہیں دیگر غیر متعینہ ’خطرات‘ لاحق ہیں۔

شیئر: