Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جی ٹی روڈ کھول دی لیکن احتجاج سعد رضوی کی رہائی کے بعد ختم ہوگا: تحریک لبیک

کالعدم تنظیم تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے وزیر آباد میں دونوں اطراف کی سڑکیں کھول دی گئی ہیں۔
پیر کو تحریک لبیک کی مرکزی شوریٰ نے کہا ہے کہ وزیرآباد میں جی ٹی روڈ کھول دی گئی ہے تاہم کہا ہے کہ تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی کی رہائی تک وزیر آباد سے نہیں جائیں گے۔
وزیر آباد میں کالعدم مذہبی تنظیم تحریک لبیک پاکستان کے رہنما سید سرور حسین سیفی نے مارچ سے خطاب میں کہا کہ ’علامہ سعد حسین رضوی کی رہائی کے بعد دھرنا ختم کیا جائے گا۔‘
حکومت اور تحریک لبیک میں معاہدے کے بعد پیر کی رات گئے وزیر آباد میں موجود مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مفتی منیب الرحمان نے کہا کہ ’حکومت سے بات ہو گئی ہے۔ اراکین شوریٰ کی مشاورت کے بعد شرکا قریب پارک میں چلے جائیں گے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’جب تک حکومت 50 فیصد مطالبات نہیں مانے گی تب تک یہ دھرنا قریبی پارک میں جاری رہے گا تاہم کل تک جی ٹی روڈ کو ٹریفک کے لیے بحال کر دیا جائے گا۔‘
مفتی منیب الرحمان نے کہا کہ ’اگر آج کے بعد کسی کارکن یا رہنما کی گرفتاری ہوئی تو یہ معاہدہ ختم سمجھا جائے گا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر حکومت نے مذاکرات میں غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا تو حکومت سن لے اس سے زیادہ بھرپور طاقت کے ساتھ آئیں گے۔‘
اس موقع پر تحریک لبیک کی قیادت کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ ’ہمارا یہ دھرنا ختم نہیں ہوگا، جاری رہے گا جب تک علامہ سعد حسین رضوی رہا نہ ہو جائیں۔‘
’جب تک قائد محترم رہا نہ ہو جائے یہاں سے ایک بندہ بھی نہیں جائے گا چاہے وہ قائدین میں سے ہو یا کارکنان میں سے ہو۔‘
قبل ازیں حکومت پاکستان نے تحریک لبیک پاکستان کی مجلسِ شوریٰ کے دو اراکین ڈاکٹر محمد شفیق امینی اور پیر سید ظہیر الحسن شاہ کو رہا کر دیا۔
ترجمان ٹی ایل پی کے مطابق دونوں اراکین دیگر شوریٰ اراکین کے ہمراہ اسلام آباد سے وزیر آباد پہنچ گئے۔

مفتی منیب الرحمان نے کہا کہ ’اگر آج کے بعد کسی کارکن یا رہنما کی گرفتاری ہوئی تو یہ معاہدہ ختم سمجھا جائے گا۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)

خیال رہے کہ رویت ہلال کمیٹی کے سابق سربراہ مفتی منیب الرحمان نے اتوار کو کہا تھا کہ تحریک لبیک پاکستان اور حکومت کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے۔
اتوار کو کالعدم تحریک لبیک کے ساتھ مذاکرات کے لیے قائم کمیٹی کی پریس کانفرنس میں مفتی منیب الرحمان نے کہا کہ یہ معاہدہ کسی کی فتح یا شکست نہیں ہے، اس معاہدے کی تفصیلات مناسب وقت پر آ جائیں گی۔ تاہم پریس کانفرنس میں تحریک لبیک کے لانگ مارچ کے ختم ہونے سے متعلق کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔
مفتی منیب الرحمان نے کہا کہ ’حکومت پاکستان اور تحریک لبیک کے مابین اعتماد باہمی کے ماحول میں تفصیلی مذاکرات کے بعد اتفاق رائے سے معاہدہ طے پا چکا ہے، آنے والے دنوں میں اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔‘
دوسری جانب جی ٹی روڈ تاحال بند ہے جبکہ جہلم گجرات اور گوجرانوالا میں انٹرنیٹ سروس ابھی تک نہیں کھولی گئی۔
تاہم فیض آباد کے گرد لگائی گئی تمام رکاوٹوں کو مکمل طو پر ہٹا دیا گیا ہے۔ ریڈ زون کے ایکسپریس چوک سے داخلی اور خارجی راستے پر ڈایئورشن ہے۔
اسلام آباد ٹریفک پولیس کے مطابق متبادل راستے کے طور پر مارگلہ روڈ ، ایوب چوک، نادرا چوک اور ڈھوکری چوک استعمال کریں۔ دیگر تمام راستے مکمل طور پر کھلے ہیں۔

شیئر: