Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ضمنی مالیاتی بِل 2021 منظور، عام آدمی پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

پاکستان کی قومی اسمبلی نے ضمنی مالیاتی بل 2021 کی کثرت رائے سے منطوری دے دی۔ ضمنی مالیاتی بل کی شق وار منظوری دی گئی۔
قومی اسمبلی میں جمعرات کو حکومت نے منی بجٹ یا ضمنی مالیاتی بل 2021 منظوری کے لیے پیش کیا جسے کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔
اس دوران اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی تمام ترامیم کو مسترد کردیا گیا۔ اپوزیشن کی جانب سے حکومت پر سوالات اٹھائے گئے۔
مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے وزیر خزانہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ’ کیا وجہ ہے کہ آپ کو یہ بجٹ پیش کرنے کی ضرورت پیش آئی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’یہ نہ بتائیں کہ کون سی چیزیں مہنگی ہوں گی بلکہ یہ بتائیں کہ کون سی اشیا مہنگی نہیں ہوں گی۔‘

سٹیٹ بینک آف پاکستان کی خودمختاری کا بل کثرت رائے سے منظور

دریں اثنا قومی اسمبلی نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کی خودمختاری کا بل بھی کثرت رائے سے منظور کرلیا ہے۔
بل کی منظوری کے دوران اپوزیشن کی جانب سے اسمبلی میں احتجاج کیا گیا۔ اپوزیشن اراکین  کی سپیکر کے سامنے کھڑے ہوکر نعرے بازی کی جس کے دوران حکومتی اراکین وزیراعظم عمران خان کے اردگرد جمع ہوگئے۔ 
اپوزیشن اراکین کی جانب سے آئی ایم ایف کا جو یار ہے غدار ہے اور ’گو عمران گو‘ کے نعرے لگائے گئے۔
حکومت کی جانب سے منی بجٹ میں کچھ ترامیم بھی کی گئی ہیں۔ وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ دودھ، ڈبل روٹی اور رس  پر ٹیکس عائد نہیں کیا جائے گا۔ انہوں مزید کہا کہ ’لیپ ٹاپ پر بھی ٹیکس نہیں لگایا جا رہا۔‘
اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے سوال کے جواب میں وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ ’ضمنی مالیاتی بل معیشت کو دستاویزی شکل میں لانے کے لیے لایا گیا۔ اس سے عام آدمی پر بوجھ نہیں پڑے گا۔ اپوزیشن کا واویلا بے بنیاد ہے۔‘
وزیر خزانہ نے یہ بھی بتایا کہ اس قبل جو سولر پینل اور بچوں کے درآمد شدہ دودھ پر بھی ٹیکس لگانے کی تجویز تھی، اسے ہٹا دیا گیا ہے۔
منی بجٹ کی دستاویز کے مطابق درآمدی گاڑیوں پر 12.5 فیصد، مقامی طور پر تیار کردہ 1300 سی سی گاڑیوں پر اڑھائی فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔
2000 سی سی سے اوپر کی مقامی گاڑیوں پر 10 فیصد ٹیکس لگایا جا رہا ہے۔ اس سے قبل ان گاڑیوں پر پانچ فیصد ٹیکس لگانے کی تجویز تھی۔
جبکہ لال مرچ اور آئیوڈین ملے نمک پر سیلز ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے۔ 500 روپے مالیت کے 200 گرام دودھ کے ڈبے پر بھی ٹیکس نہیں ہوگا۔
واضح رہے کہ 30 دسمبر 2021 کو ضمنی مالیاتی بل کے مسودے میں روزمرہ استعمال کے 42 آئٹمز پر ٹیکسوں کی چھوٹ ختم کرنے کی بات کی گئی تھی جن میں مقامی سطح پر فروخت ہونے والی اشیا، بیکری آئٹمز، ڈبل روٹی اور سویٹس، فلائٹس میں استعمال ہونے والی خوردنی اشیا، پولٹری کی برانڈڈ مصنوعات، مقامی سطح پر پیدا ہونے والے سرسوں اور تل کے بیجوں، سپرنکلز، ڈرپ اور سپرے پمپس شامل تھے۔

خالد مصطفیٰ کے مطابق صارف سے تو جی ایس ٹی وصول کرلیا جاتا ہے، لیکن وہ ٹیکس ایف بی آر کو نہیں پہنچتا (فائل فوٹو: اے ایف پی)

’یہ حکومت آئی ایم ایف کے شکنجے میں پھنس چکی ہے‘
ضمنی مالیاتی بجٹ میں حکومت کی جانب کی گئیں کچھ ترامیم سے عام آدمی کی زندگی پر کیا فرق پڑ سکتا ہے؟ اس حوالے سے معیشت پر نگاہ رکھنے والے سینیئر صحافی خالد مصطفیٰ نے اردو نیوز کے رابطہ کرنے پر کہا کہ ’وزیر خزانہ نے ڈبل روٹی پر ٹیکس نہ لگانے کی بات کی ہے حالانکہ وہ پہلے ہی بہت مہنگی ہے۔ مارکیٹ میں ڈالر ایکسچینج ریٹ اتنا زیادہ ہے کہ عوام کو ہر چیز مہنگی خریدنا بڑ رہی ہے۔‘
’یہ حکومت آئی ایم ایف کے شکنجے میں پھنس چکی ہے۔ یہ معشیت کی ڈاکیومینٹیشن کی بات کرتے ہیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ  صارف سے تو جی ایس ٹی وصول کرلیا جاتا ہے، لیکن وہ ٹیکس ایف بی آر کو نہیں پہنچتا۔ یہ سسٹم کی ناکامی ہے۔ جب تک یہ درست نہیں ہوگا بہتری کی کوئی توقع نہیں ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اس منی بجٹ میں عوام کے لیے کچھ بھی نہیں۔ انہوں نے لیپ ٹاپ پر ٹیکس نہ لگانے کی بات کی ہے۔ لیپ ٹاپ تو بہت کم لوگ استعمال کرتے ہیں اور ان کی قیمت پہلے ہی کافی زیادہ ہے۔ عام آدمی کی زندگی پر اس سے کوئی مثبت فرق نہیں پڑے گا۔‘
واضح رہے کہ جب یہ بل حکومت نے منظوری کے لیے پیش کیا تو 342 ارکان کے ایوان میں حکومت کے 14 جبکہ اپوزیشن کے 10 ارکان غیر حاضر تھے، لیکن اس کے باوجود حکومت اپوزیشن کے 150 کے مقابلے میں 168 ارکان کے ساتھ اکثریت میں تھی۔ اس وقت قومی اسمبلی میں حکومت کے پاس 182 جبکہ ایوزیشن کے پاس 160 ارکان ہیں۔

شیئر: