Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد، کب کیا کیا ہوا؟

سیاسی ہلچل کا آغاز گزشتہ ماہ لاہور میں اپوزیشن رہنماؤں کی آپسی اور حکومتی اتحادیوں کے ساتھ ملاقاتوں سے ہوا تھا۔  (فوٹو: ٹوئٹر)
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اور اپوزیشن اتحاد کے دنگل کا آخری مرحلہ اسلام آباد میں شروع ہوا چاہتا ہے۔ اس کا آغاز گزشتہ ماہ لاہور میں اپوزیشن رہنماوں کی آپسی اور حکومتی اتحادیوں کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں سے ہوا تھا۔ 
چار فروری سے لے کر یکم مارچ تک لاہور سیاسی سرگرمیوں کا محور بنا رہا۔ اپوزیشن جماعتوں کی بیٹھکوں اور ملاقاتوں سے لے کر وزیراعظم کی چوہدری برادران اور چوہدری شجاعت کی عیادت تک لاہور ہی میں ہوتا رہا۔ جس کے اثرات اسلام آباد کے ایوان اقتدار میں محسوس کیے جاتے رہے۔  
لاہور سیاسی ہلچل کا ابتدائی مرکز
چار فروری 2022 کو سابق صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری اپنے معمول کے دورے پر لاہور پہنچے تو مسلم لیگ ن کے صدر اور قوی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے انہیں اپنے گھر ظہرانے پر مدعو کیا۔  
5 فروری کو ماڈل ٹاؤن میں ظہرانے پر ہونے والی ملاقات ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان نہ صرف دوریاں ختم ہوئیں بلکہ حکومت بالخصوص وزیراعظم عمران خان کو ہٹانے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرنے کا عہد و پیمان ہوا۔  
شہباز شریف نے اسی شام نواز شریف کو اس ملاقات میں ہونے والی گفتگو اور فیصلوں پر اعتماد میں لیا تو نواز شریف نے فوراً پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس بلانے کی ہدایت کر دی۔

آصف زرداری اور چوہدری برادران کے درمیان بھی ملاقاتیں ہوئیں اور تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے بات چیت ہوتی رہی۔ (فائل فوٹو: ٹوئٹر)

7 فروری کو مسلم لیگ ن کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں پارٹی رہنماوں نے تمام فیصلوں کا اختیار نواز شریف کو دے دیا، جنہوں نے عدم اعتماد کے لیے سیاسی جماعتوں سے رابطوں کا ٹاسک شہباز شریف کو دے دیا۔  
اس دوران مولانا فضل الرحمان اور آصف زرداری، آصف زرداری اور چوہدری برادران کے درمیان بھی ملاقاتیں ہوئیں اور تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے بات چیت ہوتی رہی۔  
11 فروری کو شہباز شریف کی رہائش گاہ پر اپوزیشن کا سربراہی اجلاس منعقد ہوا جس میں باضابطہ طور پر وزیراعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لانے کا اعلان کرتے ہوئے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دے دی۔  
13 فروری کو شہباز شریف چوہدری برادران کی رہائش گاہ پہنچے اور چوہدری شجاعت کی عیادت کی اور ملاقات کی۔
پنجاب کے دو بڑے سیاسی خاندانوں کے بعد 22 سال بعد یہ پہلا سیاسی رابطہ تھا۔  
اس ملاقات کے بعد حکومت میں جو تشویش پیدا ہوئی تھی، اسے مونس الٰہی کے اس بیان نے دور کر دیا کہ ’سیاسی لوگ ملنے کے لیے آتے رہتے ہیں لیکن وزیراعظم صاحب پی ٹی آئی والوں سے کہیں کہ آپ نے گبھرانا نہیں ہے۔‘   
اپوزیشن کی پھرتیاں حکومت کا جواب وار
اپوزیشن کی جانب سے قائم کی گئی کمیٹی کے خفیہ اجلاس ہوتے رہے۔ جن میں عدم اعتماد کا مسودہ تیار کرکے اپوزیشن جماعتوں کے سربراہان کو منظوری کے لیے بھجوا دیا گیا۔ 
اپوزیشن جماعتوں کی تیاری دیکھ کر حکومتی کیمپ میں ہلچل ہونا شروع ہوگئی اور چیئرمین سینیٹ کی سربراہی میں وفد نے لاہور میں چوہدری برادران سے ملاقات کی۔  
وزیراعظم ہاؤس اور بنی گالہ میں روزانہ کی بنیاد پر اجلاس شروع ہوئے اور اپوزیشن کی حکمت عملی سے نمٹنے کے لیے سوچ بچار شروع ہو گئی۔ 
یکم مارچ کو وزیراعظم عمران خان لاہور پہنچے اور چوہدری شجاعت کی عیادت کرنے ان کی رہائش گاہ پہنچ گئے۔  
اسی دوران وزیراعظم نے فیصلہ کیا کہ وہ عوامی رابطہ مہم شروع کریں گے اور اس سلسلے میں انھوں نے میلسی میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لیا۔ بحیثیت وزیراعظم یہ پہلا موقع تھا کہ انھوں نے اپوزیشن رہنماوں کے نام بگاڑ کر ان کو چیلنج دیا کہ وہ عدم اعتماد لائیں پھر دیکھیں کہ اس کو ناکام بنانے کے بعد وہ ان کو جیل بھیجیں گے۔ 

یکم مارچ کو وزیراعظم عمران خان لاہور چوہدری شجاعت کی عیادت کرنے ان کی رہائش گاہ پہنچے (فوٹو: سکرین گریب)

دوسری جانب وزیراعظم نے اپنے دیگر اتحادیوں سے بھی رابطے شروع کر دیے۔  
9 مارچ کو وزیر اعظم نے کراچی میں ایم کیو ایم کے مرکز بہادر آباد کا دورہ کیا اور ایم کیو ایم کی قیادت سے ملاقات کی۔  
اس ملاقات کے بعد گورنر میں کارکنوں سے خطاب میں وزیراعظم نے ایک بار پھر سخت زبان استعمال کرتے ہوئے اپوزیشن قیادت پر فرداً فرداً تنقید کی۔  
چوہدری شجاعت اسلام آباد کیوں آئے؟
مارچ کے پہلے ہفتے میں چوہدری برادران ملکی سیاست میں انتہائی اہمیت اختیار کر چکے تھے۔ اسی اہمیت کے تناظر میں یہ کہا جا رہا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں چوہدری پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ پنجاب بنانے پر رضا مند تھے۔  
شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمان کے اصرار پر چوہدری برادران کو کھانے پر مدعو کیا لیکن وہ کھانے پر بھی نہ گئے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ اس پر شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمان سے شکوہ کیا۔  
اس دوران پنجاب کی سیاست میں ڈرامائی تبدیلی رونما ہوئی اور حکومتی جماعت میں جہانگیر ترین گروپ کے علاوہ علیم خان گروپ بھی منظرعام پر آ گیا۔ 

اس دوران مولانا فضل الرحمان اور آصف زرداری، آصف زرداری اور چوہدری برادران کے درمیان بھی ملاقاتیں ہوئیں (فوٹو: ٹوئٹر)

7 مارچ کو علیم خان گروپ اور جہانگیر ترین گروپ ایک ہو گئے اور وزیراعلیٰ پنجاب کو ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے مشترکہ جدوجہد شروع کرنے کا اعلان کیا۔  
اس تبدیلی سے چوہدری برادران کی وزارت اعلیٰ کی امید خطرے میں پڑتی نظر آئی تو وہ چوہدری برادران جنھوں اپوزیشن اور حکومت گھر جا جا کر مل رہے تھے انھوں نے چوہدری شجاعت کو لاہور سے اسلام آباد منتقل کر دیا اور وہ سیدھے مولانا فضل الرحمان کی رہاش گاہ پر پہنچے۔  
چوہدری شجاعت کی اسلام آباد آمد کے ساتھ ہی لاہور سے شروع ہونے والا سیاسی طوفان بھی اسلام آباد منتقل ہوگیا۔
تحریک عدم اعتماد، حکومتی اور اپوزیشن حکمت عملی 
سات مارچ کی شام کو ہی اپوزیشن جماعتوں کی قیادت زرداری ہاوس میں جمع ہوئی، مشاورت کی اور خاموشی سے اپنے گھروں کو چلی گئی۔  
اگلے روز یعنی 8 مارچ کو بلاول بھٹو زرداری کا کراچی سے چلنے والا لانگ مارچ جونہی اسلام آباد کی حدود میں داخل ہوا تو اپوزیشن رہنما چپکے سے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے اور وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد اور اجلاس بلانے کی ریکوزیشن جمع کرا دی۔  
تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد حکمران جماعت کے رہنما سپیکر قومی اسمبلی کی رہائش گاہ پر جمع ہوئے اور اس سلسلے میں قانونی نکات کا جائزہ لیا۔  
فیصلہ کیا گیا کہ حکومتی ارکان کو اجلاس میں شرکت سے روکا جائے گا اور اجلاس میں شرکت کرنے والوں کے خلاف آرٹیکل 63 اے کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ یہ بات بھی زیر غور آئی کہ سپیکر اپنی رولنگ کے ذریعے منحرف ارکان کے ووٹوں کو گنتی میں شامل ہی نہیں کریں گے۔ اس حوالے سے سپیکر کو ملنے والی قانونی رائے حکومتی حکمت عملی کے برعکس ہے۔  
اہم حکومتی رہنما بشمول وزیراعظم پی ٹی آئی ارکان کو خریدنے کی کوشش اور 18 کروڑ روپے کی پیش کش تک کا الزام لگا چکے ہیں۔

اتحادی جماعتیں اپوزیشن اور حکومت دونوں کے ساتھ ملاقاتیں بھی کر رہی ہیں (فائل فوٹو: اے پی پی)

دوسری جانب اپوزیشن کو خدشہ ہے کہ حکومت پولیس یا قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے ذریعے ارکان کو حراست میں لے سکتی ہے۔ جس کے پیش نظر اپوزیشن نے اپنے ارکان کے خلاف کسی بھی سرکاری ادارے کی جانب سے کسی کارروائی کو روکنے کے لیے جمعیت علمائے اسلام ف کی ذیلی تنظیم انصارالاسلام کے رضا کاروں کو پارلیمنٹ لاجز میں جمع کیا تو پولیس نے انہیں وہاں سے نکالنے کے لیے آپریشن کیا۔  
10 مارچ کو ہونے والے اس آپریشن کے دوران منتخب ارکان کو زدو کوب اور حراست میں لیا گیا تاہم بعدازاں وزیر داخلہ اور پولیس کی جانب سے ایم این ایز کی گرفتاری کی تردید کر دی گئی۔  
اس آپریشن کے ردعمل میں مولانا فضل الرحمان نے اپنے کارکنان کو ملک گیر احتجاج کی کال دی جنھوں نے کچھ ہی دیر میں ملک بھر کی اہم شاہراہیں بند کر دیں۔ پولیس نے گرفتار تمام کارکنان کو رہا کیا تو مولانا نے احتجاج کی کال واپس لی۔  
بڑھتی ہوئی سیاسی گرمی کے پیش نظر حکومت اور اپوزیشن دونوں نے تحریک عدم اعتماد کے دن اسلام آباد میں سیاسی پاور شو کرنے کا بھی فیصلہ کر لیا ہے اور اس حوالے سے تیاریاں بھی جاری ہیں۔ 
 اتحادی کہاں کھڑے ہیں؟  
حکومت کے اتحادیوں میں ایم کیو ایم، مسلم لیگ ق، جی ڈی اے اور بلوچستان عوامی پارٹی چار بڑی جماعتیں ہیں۔ اکیلی سیٹ کے والے شیخ رشید کے علاوہ کسی اتحادی جماعت نے عدم اعتماد کے معاملے پر کھل کر حکومت کا ساتھ دینے کا اعلان نہیں کیا۔  
اتحادی جماعتیں اپوزیشن اور حکومت دونوں کے ساتھ ملاقاتیں بھی کر رہی ہیں اور آپس میں ملاقاتوں میں بھی مشغول ہیں۔

وزیر داخلہ شیخ رشید کے بقول دو دن میں صورت حال واضح ہو جائے گی (فائل فوٹو: اے پی پی)

وزیر داخلہ شیخ رشید کے بقول دو دن میں صورت حال واضح ہو جائے گی لیکن ان کے ایک دن پہلے کے بیان سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ اتحادیوں نے حکومت کے سامنے مزید اور سخت مطالبات رکھ دیے ہیں جنھیں نگلنا اور اُگلنا حکومت کے لیے شدید دشوار ہو رہا ہے۔

شیئر: