Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات، بجلی پرسبسڈیز ختم کرنے میں تاخیر کی؟

جولائی 2019 میں آئی ایم ایف نے پاکستان کی معیشت کی بحالی کے لیے چھ ارب ڈالر قرضہ دینے کی منظوری دی تھی۔ (فوٹو: اے ایف پی)
آئی ایم ایف کی جانب سے ایک مرتبہ پھر پاکستان سے بجلی اور پیٹرول پر سبسڈی ختم کرنے کے مطالبے کے بعد وزارت خزانہ نے سبسڈی ختم کرنے کا عندیہ ہے۔
سبسڈی ختم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ مہنگائی کی شکل میں عوام پر بوجھ پڑے گا۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت تقریباً ڈیڑھ ماہ سے مشکل فیصلے کرنے سے گریز کر رہی ہے۔
تاہم معاشی امور کے ماہرین کے مطابق ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے اب سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی کے معاشی امور کے پروفیسر معراج الحق کا کہنا ہے کہ سبسڈی کے خاتمے سے غربت میں اضافہ ہوگا اور مہنگائی بھی بڑھے گی لیکن حکومت کو اس وقت معیشت کی بحالی کی فکر ہے۔
ان کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ حکومت کے حالیہ مذاکرات سے لگ رہا ہے کہ حکومت معیشت کی بہتری کے حق میں فیصلہ کرنے والی ہے۔
’ایک طرف غربت، مہنگائی کی بات ہے تو دوسری طرف معاشی بحالی کی بات ہے۔ لیکن ابھی ہم نے ترجیحات کو دیکھنا ہے۔ ہم نے اپنی معیشت کو دیوالیہ ہونے سے بچانا ہے اور اگر دیوالیہ ہونے سے بچانا ہے تو حکومت کو آئی ایم ایف سے قرض لینا ہوگا۔ اور اس کے لیے حکومت کو سخت اقدامات کرنے ہوں گے، سبسڈی کو واپس لینا ہے اور ٹیکس میں اضافہ کرنا ہوگا۔‘
پروفیسر معراج الحق نے مزید کہا کہ عوام کا دباؤ ختم کرنے کے لیے سبسڈی حکومتوں کا حربہ ہوتا ہے، ’گزشتہ حکومت نے عوام کے دباؤ کی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا۔‘

سابق حکومت نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ روک دیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)

معاشی امور کے ماہر عمار خان کے مطابق موجودہ حکومت کو معیشت کی بہتری کے لیے ایک ماہ قبل ہی سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ کر لینا چاہیے تھا لیکن اب بھی اگر حکومت فیصلہ کرتی ہے تو معیشت میں استحکام آئے گا۔
’سبسڈی کے خاتمے سے پیٹرول اور دیگر مصنوعات کی قیمتیں بڑھیں گی۔ آئی ایم ایف کے پروگرام سے ملک کی معشیت میں استحکام آئے گا جبکہ دوست ممالک، ورلڈ بینک، ایشیئن ڈویلیپمنٹ بینک سے بھی پیسے آجائیں گے جس سے دو تین مہینوں کے اندر معیشت مستحکم ہو جائے گی۔‘
ماہر اقتصادیات فرخ سلیم کے مطابق اگر سبسڈی واپس نہیں لی جاتی تو تقریباً سوا سو ارب روپے مہینے کا خسارہ ہے اور اس کے لیے بجٹ کے اندر کوئی گنجائش نہیں۔
’سبسڈی کے خاتمے سے قمیتیں بڑھیں گی۔ افراط زر کی شرح اگر ابھی ساڑھے 16 فیصد ہے تو یہ 19 یا 20 پر چلی جائے گی۔ عوام کے لیے مشکل وقت ہوگا۔ جب تک طویل المدتی اصلاحات نہیں کریں گے تو اس مشکل سے نہیں نکلیں گے۔ قرض لے کر اتار دینا اور مزید خسارہ کر لینا طویل المدتی حل نہیں۔‘

رواں ہفتے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے دوحہ میں آئی ایم ایف سے مذاکرات کیے (فوٹو: اے پی پی)

موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف سے قرض کی وصولی کے لیے  تقریباً ایک ہفتہ قبل آئی ایم ایف سے مذاکرات کا آغاز کیا تھا۔ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کا عمل معاشی اصلاحات میں پیش رفت نہ ہونے وجہ سے سست روی کا شکار تھا۔
جولائی 2019 میں آئی ایم ایف نے پاکستان کی معیشت کی بحالی کے لیے تین سال کے دوران چھ ارب ڈالر قرضہ دینے کی منظوری دی تھی۔

شیئر: